روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے: ’’اللهم إني أسئلك العفو والعافية في الدنيا والآخرة‘‘. اس کو اللہ تعالی چار انعام دیں گے: 1 اللہ تعالی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دیں گے جس سے موت آجائے 2 اللہ تعالی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائیں گے 3 اللہ تعالی اس کو ظالموں سے دور رکھیں گے 4 اللہ تعالی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائیں گے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] صحیح ابن خزیمة:1/221،رقم:425،426،427،ت:محمد مصطفى الأعظمی،المکتب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۰۰هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حدیث شریف میں آیا ہے: ’’ایک مرتبہ دو شیطانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی، ان میں ایک شیطان موٹا تھا اور دوسرا دبلا پتلا، موٹے شیطان نے پتلے شیطان سے پوچھا: تو اتنا کمزور کیوں ہے؟ اس نے کہا کہ میری ذمہ داری ایک ایسے مسلمان پر لگی ہوئی ہے، اس کی زبان پر ہر دم اللہ تعالی کا نام رہتا ہے، جب وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، جب پانی پیتا ہے تو اللہ تعالی کانام لیتا ہے، اس طرح وہ سارے کھانے پینے کی چیزوں میں اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، تو جس چیز کو وہ اللہ تعالی کا نام لیکر کھاتا ہے اس چیز میں میرا کوئی حصہ نہیں رہتا، نتیجہ یہ کہ میں دن رات بھوکا رہتا ہوں، تو بھوکا رہ کر کمزور ہی ہونا ہے، اس کے بعد موٹے شیطان نے کہا: میری ذمہ داری ایک ایسے بندے کے ساتھ ہے جو اللہ تعالی کا نام ہی نہیں جانتا، وہ بغیر اللہ تعالی کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، تو جب وہ اللہ تعالی کا نام لئے بغیر کھاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہوں، اور مجھے خوب کھانے کو مل رہا ہے، اس لئے میں کھا کر خوب موٹا ہورہاہوں‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے تو اللہ تعالی اس کو چالیس علماء کا ثواب عطاء کریں گے، چالیس درجہ بلند کریں گے، اور چالیس حوروں سے اس کا نکاح کرائیں گے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا خوش ہوکر حضرت عائشہR سے فرمانا: آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہR کا حضرت ابو بکر r سے مشورہ کرنے کے بعد یہ عرض کرنا: معراج کی رات قربتِ خاص میں جو باتیں آپ سے ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتا دیں۔۔۔‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔