روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔
تفصیل
صاحب کلید کا قول : {الفقر فخري}. [فقر،میرا فخر ہے] ”مقاصد حسنہ “ میں ہے کہ یہ غلط اور موضوع ہے اور دیلمی l نے معاذ بن جبل r سے مرفوعا ً روایت کیا ہے کہ ”مؤمن کا تحفہ دنیا میں فقر ہے“ اور اس کی سند میں کچھ مضائقہ نہیں، اھ[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۳۳ ،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف: صاحب کلید کا قول ، ص : ۱۴۴، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
[2] التشرف : ص:۹۶،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف : حدیث ِفقر کی تحقیق ، ص : ۱۷۷، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان۔
علامہ صغانی ؒ نے اسے ”موضوعات “ (ص:۵۲) میں اور حافظ ابن تیمیہ ؒنے”مجموع الفتاوى“ (۱۱/۶۹) میں من گھڑت کہا ہے، اور حافظ ابن حجر ؒ نے”التلخيص الحبير“(۳ /۲۳۵) میں علامہ صغانی ؒ اور حافظ ابن تیمیہ ؒ کے قول پر اکتفاء کیا ہے،نیز علامہ اسماعیل عجلونی ؒ نے ”كشف الخفاء“ (۲/۱۰۲)میں،ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“(رقم:۲۰۷) میں،علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۹۷۶) میں، علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے ”الجد الحثيث“ (رقم:۳۱۴) میں حافظ ابن حجر ؒ کے قول پر اکتفاء کرتے ہوئے اسے باطل،موضوع کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔
روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”قلب خانۂ خدا ہے“، لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، البتہ اس کے قریب المعنیٰ ایک دوسری روایت ثابت ہے۔