التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ×الخير فيما وقع÷. جو ہوچکا اسی میں خیر ہے،یہ حدیث نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: ×الخير فيما وقع÷. [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے] کیا حدیث ہے؟

جواب:  ×الخير في ما وقع÷. [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے]حدیث نہیں ہے، حضرت شیخ l نے آپ بیتی املاء کرائی ہے، انداز [كذا في الأصل] یہ ہے کہ کاتب کے قلم سے لغزش ہوئی، صاحبِ ’’ کشف الخفاء‘‘ لکھتے ہیں: ×والخيرة في الواقع، ليس بحديث÷ [جو ہوچکا ہے اسی میں خیر ہے، یہ حدیث نہیں ہے][1]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ:الخير فى ما وقع کیا حدیث ہے؟ ۲/۴۷۲ـ ۴۷۵۔

یہ روایت ان الفاظ سے بھی بیان ہوتی ہے: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے واسطہ جو پسند کرے،وہ بندہ کی اپنی پسند سے بہتر ہے۔یہ روایت بھی ان لفظوں سے ثابت نہیں ہے،اگرچہ اس کا معنی درست ہے،چنانچہ ’’  كشف الخفاء‘‘ (۱/ ۴۵۱) میں ہے: ×(خيرة الله للعبد خير من خيرته لنفسه) قال في التمييز: لم أجد عليه كلاما وما علمته في المرفوع، ويستأنس له بقوله تعالى: (وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم وعسى أن تحبوا شيئا وهو شر لكم) وقال القاري: لم يعرف له أصل في مبناه وإن صح معناه كما يستفاد من قوله تعالى: (وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم). ومن هنا ورد الأمر بالاستخارة صلاة ودعاء، وورد: ما خاب من استخار، وما ندم من استشار، وثبت في الدعاء: اللهم خر لي واختر لي ولا تكلني إلى اختياري، وهذا أصل ما اشتهر على ألسنة العامة: الخيرة فيما اختاره الله، والخيرة في الواقع÷.