’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
تفصیل
’’سوال: وقتِ استماعِ نامِ پاک جناب رسالت مآب ﷺ اذان میں، تقبیلِ ابہامین کس حدیث سے ثابت [ہے] ؟
حوالہ جات
[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ :اذان کے وقت انگوٹھے چومنا کیسا ہے؟ ص:۱۱۲ ـ ۱۱۵، دار الکتاب لاہور ۔
حافظ سخاوی l نے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ (ص؛۴۴۰) میں لکھا ہے کہ ’’اس باب میں کوئی بھی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے‘‘، ملا علی قاری l نے ’’اسرار المرفوعہ‘‘ (ص:۳۰۶) میں،اورعلامہ محمد بن اسماعیل عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘ (۲/۲۴۱) میں اس قول پر اکتفاء کیا ہے،نیز محمد بن محمد درویش الحوت l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۱۳۰۴)میں،اور علامہ احمد بن عبدالکریم غزی l نے ’’الجدالحثيث‘‘ (رقم:۴۵۰)میں یہی کہا ہے اس باب میں کوئی بھی مرفوع روایت ’’صحیح‘‘ نہیں ہے۔
ملتی جلتی احادیث
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
حدیث قدسی: ’’تمام مخلوق میری رضا مندی طلب کرتے ہیں، اے محمدﷺ!اور میں تیری رضا طلب کرتاہوں‘‘، اس کی سند وصحت بندہ کو معلوم نہیں،اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ’’حجام کے شیشہ میں دیکھنا، گھٹیا پن ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں۔