روایت:’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إن لله ملكا على بيت المقدس ينادي كل ليلة: من أكل حراما لم يقبل منه صرف ولا عدل‘‘. بیت المقدس پر اللہ تعالی کا ایسا فرشتہ ہے جو ہر رات اعلان کرتا ہے: جس نے حرام کھایا اس کی نہ نفل قبول ہے اور نہ فرض‘‘۔
حکم: حافظ عراقی l فرماتے ہیں: ’’میں اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، نیز علامہ تاج الدین سبکیl نے بھی اسے ان احادیث کی فہرست میں شمار کیا ہے جن کی انہیں سند نہیں مل سکی، اسی طرح علامہ پٹنی l فرماتے ہیں: ’’اس کی کوئی اصل نہیں ملتی‘‘، الحاصل اسے آپ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:2/89 ،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[2] قوت القلوب:۳/1715،ت:محمودإبراهيم محمد رضواني،دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[3] بحر الدموع:ص:176،ت:دار الصحابة للتراث ـ بطنطا،الطبعة الأولى1412هـ .
حافظ ابن جوزی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال صلى الله عليه وسلم: إن لله تبارك وتعالى ملكا على بيت المقدس، ينادي في كل يوم وليلة: من أكل حراما لم يقبل الله منه صرفا ولا عدلا حتى يخرج ذلك الحرام من بيته، فان مات على ذلك، فأنا بريء منه‘‘.
[4] روح البيان:7/291،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[5] المغني عن حمل الأسفار:ص:436 ،رقم:1655،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .
[6] إتحاف السادة المتقين:6/452،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة1435هـ .
[7] طبقات الشافعية الكبرى:6/313،ت:عبد الفتاح محمد الحلو ومحمود محمد الطناحي،هجر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية1413هـ .
[8] تذكرة الموضوعات:ص:133،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1399هـ .
[9] الفوائدالجموعة:ص:145،رقم:16،ت:عبدالرحمن بن يحيي المعلي،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة۱۴۱۶هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أكل طعاما وذو عين ينظر إليه، فلم يطعمه، أصابه داء يقال له النَفْس‘‘. جو شخص کھانا کھا رہا ہو اور کوئی ذو چشم جاندار اسے دیکھ رہا ہو، پھر وہ اسے کھانا نہ کھلائے ، تو وہ شخص ایسی مرض میں مبتلا ہوگا جسے ’’نَفْس‘‘ کہا جاتا ہے‘‘۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے آدمe کو زمین پر اتارا تو اپنی بھول کے غم کی وجہ سے ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تھا،اب اللہ رب العزت نے ان کو مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں فرمایا، تو ان تین دنوں کے روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے چہرے کی سیاہی ان کے چہرے کے نور میں تبدیل ہوگئی‘‘۔