التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)

روایت: ’’ إن لله ملكا لو قيل له: التقم السمواتوالأرضين السبع بلقمة واحدة، لفعل، تسبيحه:سبحانك حيث كنت‘‘.بےشک اللہ تعالی کا ایک فرشتہ ہےاگر اس سے کہا جائے:ساتوں آسمان و زمین ایک ہی لقمہ میں نگل لو،تو وہ ایسا کرلے گا، اس کی تسبیح یہ ہے: تو پاک ہے جہاں کہیں بھی ہے۔

حکم: حافظ ابن کثیر l اور حافظ ذہبیl فرماتے ہیں کہ یہ ’’منکر حدیث‘‘ہے،حافظ ابن کثیرl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث غریب جداً ہے،اور اس کے مرفوع(آپﷺ کا قول) ہونے میں نظر ہے، ہوسکتا ہے کہ یہابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہو، اور انہوں نے اسے اسرائیلیات میں سے لیا ہو‘‘،الحاصل اس روایت کو آپﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

تفصیل

روایت پر ائمہ کا کلام

حوالہ جات

[1] المعجم الأوسط:6/290،رقم:6442،ت:طارق بن عوض الله بن محمد،دار الحرمين ـ القاهرة، الطبعة1415هـ .

[2] المعجم الكبير:11/195،رقم:11476،ت:حمدي عبدالمجيدالسلفي،مكتبةابن تيمية ـ القاهرة .

[3] كتاب الدعاء للطبراني:ص:497،رقم:1748،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1413هـ .

[4] حلية الأولياء:3/318،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[5] المعجم الأوسط:6/290،رقم:6442،ت:طارق بن عوض الله بن محمد،دار الحرمين ـ القاهرة، الطبعة1415هـ .

[6] حلية الأولياء:3/318،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[7] العلو لعلي الغفار:ص:۱۱۰،رقم:۲۸۶،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة أضواء السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى1416هـ .

[8] تفسير ابن كثير:5/106،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى141۹هـ .

[9] تفسير ابن كثير:۸/۳۱۳،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى141۹هـ .

[10] البدايةوالنهاية:1/98،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر للطباعة والنشر،الطبعة الأولى 1417هـ .

[11] مجمع الزوائد:1/80 ،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[12] فيض القدير:۲/۴۸۱،رقم:2360،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .

[13] التيسير بشرح الجامع الصغير:۱/۳۲۹،مكتبة الإمام الشافعي ـ الرياض .

[14] تحفة النبلاء من قصص الأنبياء:ص:84 ،ت:غنيم بن عباس بن غنيم،مكتبة الصحابة ـ جدة،الطبعة الأولى1419هـ .

[15] پھر بعد میں ملا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے  ’’نتائج الأفكار‘‘میں ایک حدیث کو  ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے، اور اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد اللہ بن عرس موجود ہے(نتائج الأفكار:3/228،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دارابن كثيرـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ).

[16] تاريخ الإسلام:5/1280،رقم:584،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .

حافظ ذہبی ؒ   کی عبارت ملاحظہ ہو:  ’’وهب الله بن رِزْق، أبو هريرة المصري: لم يذكره ابن يونس في تاريخه، سمع: بشر بن بكر التنيسي، ويحيى بن بكير، وعبد الله بن يحيى المعافري، وغيرهم، وعنه: أبو بكر بن أبي داود، ومحمد بن عبد الله بن عِرْس شيخ الطبراني‘‘.

[17] سنن أبي داؤد:7/109،رقم:4727،ت:شعيب الأرنوؤط،دار الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى ۱۴30هـ .

[18] فتح الباري:8/665،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .

[19] مسند أبي يعلى الموصلي:11/496،رقم:6619،ت:حسين سليم أسد،دار المامون للتراث ـ دمشق،الطبعة الأولى1404هـ .

[20] مجمع الزوائد:8/135،دار الكتاب العربى ـ بيروت .روایت کا مصدر

امام طبرانی l  ’’المعجم الأوسط‘‘[1] میں تخریج فرماتے ہیں:

  ’’حدثنا محمد بن عبد الله بن عِرْس، ثنا وهب الله بن رِزْق أبو هريرة المصري، ثنا بشر بن بكر، ثنا الأوزاعي، حدثني عطاء، عن عبد الله بن عباس، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن لله ملكا لو قيل له: التقم السموات والأرضين السبع بلقمة واحدة، لفعل، تسبيحه: سبحانك حيث كنت ‘‘.

 حضرت عبد اللہ بن عباسرضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بےشک اللہ تعالی کاایک فرشتہ ہے اگر اس سے کہا جائے: ساتوں آسمان و زمین ایک ہی لقمہ میں نگل لو، تو وہ ایسا کرلے گا، اس کی تسبیح یہ ہے: تو پاک ہے جہاں کہیں بھی ہے۔

 یہی روایت امام طبرانی l نے  ’’المعجم الكبير‘‘ [2] اور  ’’كتاب الدعاء‘‘ [3] میں بھی تخریج کی ہے، اور امام طبرانی l کے طریق سے حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے  ’’حلية الأولياء‘‘[4] میں تخریج کی ہے۔

روایت پر ائمہ کا کلام

امام طبرانی l  کا قول

امام طبرانی l  ’’المعجم الأوسط‘‘ [5] میں تخریج روایت کے بعد فرماتے ہیں:  ’’ لم يرو هذا الحديث عن الأوزاعي إلا بشر بن بكر، تفرد به وهب الله بن رِزْق‘‘. یہ حدیث اوزاعی سے صرف بشر بن بکر نے روایت کی ہے، اس میں وہب اللہ بن رِزْق متفرد ہے۔

حافظ ابو نعیم l کا کلام

حافظ ابو نعیم اصبہانی l  ’’حلية الأولياء‘‘ [6] میں تخریج روایت کے بعد فرماتے ہیں:  ’’هذا حديث غريب من حديث الأوزاعي، عن عطاء، لم نكتبه إلا من حديث بشر بن بكر‘‘. یہ حدیث غریب ہے اوزاعی، عن عطاء کی سند سے، اسے ہم نے اسے صرف بشر بن بکر کی حدیث سے لکھا ہے۔

حافظ ذہبی l  کا قول

 حافظ ذہبی l اس روایت کو  ’’العلو‘‘[7] میں نقل کرکے فرماتے ہیں:  ’’حديث منكر، أخرجه الطبراني‘‘. یہ منکر حدیث ہے، طبرانی l نے اس کی تخریج کی ہے۔

حافظ ابن کثیر l   کا قول

حافظ ابن کثیرlاپنی  ’’تفسیر‘‘[8]  میں نقل روایت کے بعد فرماتے ہیں:  ’’وهذا حديث غريب،,بل منكر‘‘. یہ حدیث غریب، بلکہ منکر ہے۔

حافظ ابن کثیرlاپنی  ’’تفسیر‘‘[9] ہی میں ایک دوسرے مقام پر  فرماتے ہیں:  ’’وهذا حديث غريب جدا، وفي رفعه نظر، وقد يكون موقوفا على ابن عباس، ويكون مما تلقاه من الإسرائيليات، والله أعلم‘‘. اور یہ حدیث غریب جداً ہے، اور اس کے مرفوع ہونے میں نظر ہے، اور ہوسکتا ہے کہ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہو، اور انہوں نے اسے اسرائیلیات میں سے لیا ہو، واللہ اعلم۔

حافظ ابن کثیرl نے  ’’البداية والنهاية‘‘[10] میں بھی روایت پر یہی کلام کیا ہے۔

حافظ ہیثمی l کا قول

حافظ ہیثمی l  ’’مجمع الزوائد‘‘[11] میں فرماتےہیں: ’’رواه الطبراني في الأوسط والكبير، وقال: تفرد به وهب بن رِزْق، قلت: ولم أر من ذكر له ترجمة‘‘. اسے طبرانی l نے اوسط اور کبیر میں تخریج کیا ہے، اور فرمایا: اس میں وہب بن رِزْق متفرد ہے، میں (حافظ ہیثمی l)کہتا ہوں:اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے ان کا ترجمہ قائم کیا ہو۔

 علامہ مناوی l نے  ’’فیض القدیر‘‘[12] میں حافظ ہیثمی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

اور علامہ مناوی l  ’’التیسیر‘‘[13]  میں  اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:  ’’وفيه رجل مجهول‘‘. اور اس میں ایک مجہول شخص ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l کا کلام

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’تحفة النبلاء‘‘[14] میں زیر بحث روایت کے بارے میں فرمایا ہے:

 ’’رواه الطبراني عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم [كذا في الأصل، والصحيح: عرس]، عن وهب الله بن رزق أبي هبيرة [كذا في الأصل]، وباقي رواته ثقات‘‘. اسے طبرانی l نے محمد بن عبد اللہ بن عِرْس، عن وہب اللہ بن رزق ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے، اور اس روایت کے باقی راوی ثقہ ہیں۔

اہم نوٹ:

 سند میں موجود راوی محمد بن عبد اللہ بن عِرْس کا ترجمہ تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکا[15] ، اور وہب اللہ بن رِزْق ابو ہریرہ مصری کا ترجمہ حافظ ذہبی l نے  ’’تاريخ الإسلام‘‘[16] میں قائم کیا ہے، لیکن کوئی جرح و تعدیل ذکر نہیں کی۔

روایت کاحکم

حافظ ذہبیl فرماتے ہیں کہ یہ ’’منکر حدیث‘‘ہے، حافظ ابن کثیرl فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث غریب جداً ہے، اور اس کے مرفوع ہونے میں نظر ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہو، اور انہوں نے اسے اسرائیلیات میں سے لیا ہو‘‘۔

نیز سند میں موجود راوی محمد بن عبد اللہ بن عِرْس کا ترجمہ تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکا، اور وہب اللہ بن رِزْق ابو ہریرہ مصری کا ترجمہ حافظ ذہبی l نے قائم کیا ہے، لیکن کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی۔

الحاصل اس روایت کو آپﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

اہم فائدہ:

 زیرِ بحث روایت کا حکم گزر چکا ہے،ذیل میں اسی مضمون کی دو احادیث نقل کی جارہی ہیں،جنہیں بلا تردد بیان کر سکتے ہیں:

1 ایک  ’’صحیح‘‘  روایت ہے، جسے امام ابو داؤد l نے اپنی   ’’سنن‘‘[17] میں تخریج کیا ہے، ملاحظہ ہو:

 ’’حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمَان، عن موسى بن عقبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: أذن لي أن أحدث عن ملك من ملائكة الله من حملة العرش، إن ما بين شحمة أذنه إلى عاتقه مسيرة سبع مئة عام‘‘.

 حضرت جابر بن عبد اللہr فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالی کےعرش کو اٹھانے والے  فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کی حالت بیان کروں، بےشک اس کے کان کی لَو سے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔

 حافظ ابن حجر عسقلانی  l ’’فتح الباري‘‘[18] میں مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’أخرجه أبو داود وابن أبي حاتم من رواية إبراهيم بن طهمان، عن محمد بن المنكدر، وإسناده على شرط الصحيح‘‘. اسے ابو داؤد l اور ابن ابی حاتم l نے ابراہیم بن طہمان، عن محمد بن منکدر کی سند  سے تخریج کیا ہے، اور اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے۔

2 اسی طرح امام ابو یعلی موصلی l نے بھی  ’’صحیح کے راویوں پر مشتمل‘‘ ایک روایت  اپنی  ’’مسند‘‘[19] میں تخریج کی ہے، ملاحظہ ہو:

 ’’حدثنا عمرو الناقد، حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا إسرائيل، عن معاوية بن إسحاق، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أذن لي أن أحدث عن ملك قد مرقت رجلاه الأرض السابعة، والعرش على منكبه، وهو يقول: سبحانك أين كنت وأين تكون‘‘.

حضرت ابو ہریرہ r فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ میں ایک ایسے فرشتہ کی حالت بیان کروں کہ اس کے پاؤں ساتویں زمین تک پہنچ رہے ہیں، اور عرش اس کے کندھے پر ہے، اور وہ یہ تسبیح بیان کر رہا ہے: تو پاک ہے جہاں کہیں بھی ہے۔

حافظ ہیثمی l  ’’مجمع الزوائد‘‘[20] میں مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتےہیں: ’’رواه أبو يعلى، ورجاله رجال الصحيح‘‘. اسے ابو یعلی l نے روایت کیا ہے، اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔

[1] المعجم الأوسط:6/290،رقم:6442،ت:طارق بن عوض الله بن محمد،دار الحرمين ـ القاهرة، الطبعة1415هـ .

[2] المعجم الكبير:11/195،رقم:11476،ت:حمدي عبدالمجيدالسلفي،مكتبةابن تيمية ـ القاهرة .

[3] كتاب الدعاء للطبراني:ص:497،رقم:1748،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1413هـ .

[4] حلية الأولياء:3/318،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[5] المعجم الأوسط:6/290،رقم:6442،ت:طارق بن عوض الله بن محمد،دار الحرمين ـ القاهرة، الطبعة1415هـ .

[6] حلية الأولياء:3/318،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[7] العلو لعلي الغفار:ص:۱۱۰،رقم:۲۸۶،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة أضواء السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى1416هـ .

[8] تفسير ابن كثير:5/106،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى141۹هـ .

[9] تفسير ابن كثير:۸/۳۱۳،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى141۹هـ .

[10] البدايةوالنهاية:1/98،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر للطباعة والنشر،الطبعة الأولى 1417هـ .

[11] مجمع الزوائد:1/80 ،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

[12] فيض القدير:۲/۴۸۱،رقم:2360،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .

[13] التيسير بشرح الجامع الصغير:۱/۳۲۹،مكتبة الإمام الشافعي ـ الرياض .

[14] تحفة النبلاء من قصص الأنبياء:ص:84 ،ت:غنيم بن عباس بن غنيم،مكتبة الصحابة ـ جدة،الطبعة الأولى1419هـ .

[15] پھر بعد میں ملا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے  ’’نتائج الأفكار‘‘میں ایک حدیث کو  ’’حسن‘‘ قرار دیا ہے، اور اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد اللہ بن عرس موجود ہے(نتائج الأفكار:3/228،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دارابن كثيرـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ).

[16] تاريخ الإسلام:5/1280،رقم:584،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .

حافظ ذہبی ؒ   کی عبارت ملاحظہ ہو:  ’’وهب الله بن رِزْق، أبو هريرة المصري: لم يذكره ابن يونس في تاريخه، سمع: بشر بن بكر التنيسي، ويحيى بن بكير، وعبد الله بن يحيى المعافري، وغيرهم، وعنه: أبو بكر بن أبي داود، ومحمد بن عبد الله بن عِرْس شيخ الطبراني‘‘.

[17] سنن أبي داؤد:7/109،رقم:4727،ت:شعيب الأرنوؤط،دار الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى ۱۴30هـ .

[18] فتح الباري:8/665،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .

[19] مسند أبي يعلى الموصلي:11/496،رقم:6619،ت:حسين سليم أسد،دار المامون للتراث ـ دمشق،الطبعة الأولى1404هـ .

[20] مجمع الزوائد:8/135،دار الكتاب العربى ـ بيروت .