{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔
تفصیل
’’سوال: حدیث: {أوتيت علم الأولين والآخرين}.کس کتاب میں ہے؟ اور اس سے کون حضرات مراد ہیں؟ یعنی اولین اور آخرین سے، اور آخرین کے حصول علم کی آپ کو کیا صورت ہوگی؟
جواب: یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گذری، اس وقت بھی تتبع کتب احادیث کا کیا گیا، یہ حدیث بالفاظ مذکورہ نہیں ملی، البتہ ’’جامع صغیر‘‘ سیوطی l میں ان الفاظ سے منقول ہے: {أوتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة} الآية. سو یہ حدیث علم غیب کی خود نفی کرتی ہے، اور اگر حدیث: {علمت [كذا في الأصل] علم الأولين والاخرين}. ثابت ہوجائے تو پھر مطلب اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا علم تمام مخلوق اولین وآخرین کے علم سے زیادہ اور اکمل اور اقوی ہے، اور علم ذات وصفات باری تعالیٰ جیسا آپ کو تھا ایسا اولین وآخرین کو نہیں تھا،فقط، والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند : {أوتیت علم الأولین والآخرین} حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۴۹ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
{العلم علمان: علم الأبدان و علم الأديان}. ’’علم کی دو قسمیں ہیں: جسمانی علوم اور دینی علوم‘‘، یہ حدیث نہیں۔
’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔