التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔

تفصیل

’’سوال: حدیث: {أوتيت علم الأولين والآخرين}.کس کتاب میں ہے؟ اور اس سے کون حضرات مراد ہیں؟ یعنی اولین اور آخرین سے، اور آخرین کے حصول علم کی آپ کو کیا صورت ہوگی؟

جواب: یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گذری، اس وقت بھی تتبع کتب احادیث کا کیا گیا، یہ حدیث بالفاظ مذکورہ نہیں ملی، البتہ ’’جامع صغیر‘‘ سیوطی l  میں ان الفاظ سے منقول ہے:  {أوتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة} الآية. سو یہ حدیث علم غیب کی خود نفی کرتی ہے، اور اگر حدیث:  {علمت [كذا في الأصل] علم الأولين والاخرين}. ثابت ہوجائے تو پھر مطلب اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا علم تمام مخلوق اولین وآخرین کے علم سے زیادہ اور اکمل اور اقوی ہے، اور علم ذات وصفات باری تعالیٰ جیسا آپ کو تھا ایسا اولین وآخرین کو نہیں تھا،فقط، والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند : {أوتیت علم الأولین والآخرین} حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۴۹ مکتبہ حقانیہ ملتان۔