روایت: ’’أخي يوسف أصبح، وأنا أملح‘‘.آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: میرے بھائی یوسف زیادہ صباحت والے ہیں، اور میں زیادہ ملاحت والا ہوں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مكتوبات مجدد الف ثانی l (مترجم):دفتردوم:ص:38،دفترسوم:ص:317،زوار اكيدمی - كراچی،2014ء .
[2] مدارج النبوة (مترجم) :ص:20،ترجمة:مفتي غلام معين الدين نعيمي،ممتاز اكيدمي ـ لاهور .
[3] انظر: رسائل شاه ولي الله دهلوي (فيه الدر الثمين) :ص:254،مترجم:محمدفاروق القادري،تصوف فاؤنديشن ـ لاهور باكستان،الطبعة1420هـ .
’’در الثمین ‘‘ کی عبارت یہ ہے: ’’جمال محمدی:میرے والد گرامی نے بتایا کہ مجھےآنحضرت ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ’’ أنا املح وأخی یوسف أصبح‘‘میں ملیح ہوں جب کہ میرے بھائی یوسف e صبیح تھے،مجھے اس کے معنی و مفہوم میں پریشانی ہوئی،اس لئے کہ صباحت کے مقابلے میں ملاحت عاشقوں کےلئے زیادہ بےقراری کا باعث بنتی ہے،جبکہ صورت یہ ہے کہ حضرت یوسف e کے قصے میں مصر کی عورتوں کا ہاتھ کاٹ لینا اور بعض لوگوں کا جمال ِ یوسفی کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوجانا ایک امر واقعہ ہے،مگر ہمارے حضرت ﷺ کے بارے میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے،تردد کے دوران مجھے آنحضرت ﷺ کی زیارت ہوئی،میں نے اس بارے میں پوچھا،تو آپ نے فرمایا اللہ نے غیرت کی بنا پر میرا حقیقی جمال لوگوں سے مخفی رکھا ہے،اگر میرا اصلی حسن و جمال ظاہر ہوجائے تو لوگ اس سے کہیں زیادہ کر گزریں جو انہوں نے حسن ِ یوسفی کو دیکھ کر کیا تھا۔
یہی واقعہ حضرت شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلویl نے ’’اوجز المسالک‘‘میں ’’الدر الثمین‘‘کے حوالے سے ذکر کیا ہے،ملاحظہ ہو:
’’قلت: وذكره شيخ مشايخنا الشاه ولي الله الدهلوي في الحديث العشرين من ’’الدر الثمين‘‘، قال: أخبرني سيدي الوالد، قال: بلغني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أنا أملح، وأخي يوسف أصبح. فتحيرت في معناه، لأن الملاحة توجب قلق العشاق أكثر من الصباحة، وقد روي في قصة سيدنا يوسف عليه السلام أن النساء قطعن أيديهن حين رأينه، وأن الناس ماتوا عند رؤيته، ولم يرو عن نبينا صلى الله عليه وسلم من هذا الباب شيء، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في المنام، فسألته عن ذلك، فقال: جمالي مستور عن أعين الناس غيرة من الله عز وجل، ولو ظهر لفعل الناس أكثر مما فعلوا حين رأوا يوسف عليه السلام‘‘. (أوجز المسالك:16/222،ت:تقي الدين الندوي،دارالقلم ـ دمشق،الطبعة الأولى 1424هـ .)
[4] تفسيرمظهري:5/192،ت:غلام نبي التونسوي،مكتبة الرشيد ـ الباكستان،الطبعة1412هـ .
[5] شرح الخَرْبُوْتِيْ على البردة:ص:80،نور محمد آرام باغ ـ كراتشي باكستان .
’’شرح الخربوتی‘‘ کے الفاظ یہ ہیں: ’’وقوله عليه السلام:حين سئل عن حسن يوسف وحسنه عليه السلام (أنا أملح)‘‘.
[6] الصحيح لمسلم:ص:1820،رقم:2340،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ قلبك لي فلا تدخل فيه حب غيري، ولسانك ليفلا تذكر به أحدا غيري، وبدنك لي فلا تشغله بخدمة غيري،وإن أردت شيئا فلا تطلبه إلا مني‘‘.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرا دل میرے لئے ہے تو میرے غیر کی محبتاس میں داخل نہ کر، اور تیری زبان میرے لئے ہے تو اس سے میرےکسی غیر کو یاد نہ کر، اور تیرا بدن میرے لئے ہے تو اُسے میرے غیرکی خدمت میں مشغول نہ کر، اور جب تجھے کوئی چیز چاہیے ہو تومجھ ہی سے مانگ۔
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
ہر صبح دس مرتبہ درود شریف:’’ أللّهم صل على محمد النبي..... ‘‘.پڑھنے پر تمام مخلوق کے درود کے برابر ثواب کا ملنا
روایت: ’’إن الشاب المؤمن لو يقسم على الله تعالى لأبره‘‘.اگر مومن نوجوان اللہ تعالی پر کسی بات کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰاس کی قسم کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔
روايت: ’’ لكل شيء آفة، وللعلم آفات‘‘.ہر چیز کی آفت ہوتی ہے، اور علم کی بہت سی آفتیں ہیں۔