روایت: عرب کے سرداروں کا آنحضورﷺ سے جھگڑنا کہ ملک بانٹ لیجئے تاکہ جھگڑا نہ ہواور آنحضورﷺ کا ان کو جواب دینا کہ میں اس حکومت میں اللہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہوں اور جانبین سے ان کی بحث، پھر سیلاب کا آنا اور اسے روکنے کےلئے سرداروں نے اپنے نیزے ڈالے جنہیں سیلاب بہا کر لے گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں ایک شاخ ڈالی تو سیلاب مڑ کر سمندر کی جانب چلا گیا۔
باب: دعوت اور مکی زندگی
مکہ میں آپ ﷺ کی دعوت، کفار و ابوجہل کی ایذا رسانی اور اس دور کے واقعات۔
گروپ: سیرت
8 روایات
طوفانی رات میں آپﷺ کا دعوت دینا
میرا بستر سمیٹ دو،اب میرے آرام کے دن ختم ہوگئے
ابو جہل کے دروازے پر آپ ﷺ کادعوت دینے کےلئےسو دفعہ جانا
روایت:’’یہودیوں کی ایک جماعت کا آپﷺ سے چند سوال کرنا: 1 پانچ نمازوں اور ان کے ثواب سے متعلق 2 رمضان کے تیس روزوں اور ان کے ثواب سے متعلق 3 آپﷺ کی نبیوں پر کیا فضیلت ہے؟ آپﷺ کے جوابات سننے کے بعد یہودی ایمان لے آئے‘‘۔
ایک صحابی کا بیان کہ آپﷺ ان کے پا سدعوت دینے کے لئے سو(۱۰۰)سے زائد مرتبہ گئے
ایک عورت کا آپﷺ پرکچرا پھینکنااور راستے میں کانٹے بچھانا
روایت: {تلك الغرانیق العُلى وإن شفاعتها لتُرْتَجى}. اس قصہ کو قاضی عیاض l اور اکثر محققین نے نقلاً و عقلاً رد کیا ہے۔