روایت: حدیث میں ہے: ’’جب بندہ لاالہ الااللہ کہتا ہے تو ایک فرشتہ اسے لےکر آسمان کی جانب روانہ ہوتا ہے، آسمان میں ایک دوسرا فرشتہ اس کے سامنے آتا ہے، یہ اسے کہتا ہے: کہاں سے آرہے ہو؟ وہ اس سے پوچھتا ہے کہ تم کہاں جارہے ہو؟ یہ فرشتہ کہتا ہے: میں بندہ کی شہادت اس کے پروردگار کے پاس لے جارہا ہوں، یہ دوسرا فرشتہ کہتا ہے: اور میں اس کی آگ سے خلاصی کو لےکر اتررہا ہوں‘‘۔
باب: ایمان و کلمۂ طیبہ
ایمان کی حقیقت و علامات، کلمۂ طیبہ کی فضیلت و برکات اور عقیدے سے متعلق روایات۔
گروپ: عقائد
8 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لاالہ الااللہ ہمیشہ اپنے کہنے والے کو نفع دیتا ہے، اور اس سے عذاب وبلاء کو دفع کرتا ہے جب تک کہ اس کے حقوق سے بے پروہی واستخفاف نہ کیا جائے، صحابہp نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کے حقوق سے بے پرواہی واستخفاف کئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کی نافرمانیاں کھلے طور پر کی جائیں، اور ان کو بند کرنے کی کوشش نہ کی جائے‘‘۔
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
روایت: ’’ حب الوطن من الإيمان‘‘. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
وطن سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
کلمہ کی برکت
روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔
میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
روایت: ’’جس میں یہ چار خوبیاں ہوں اس کا ایمان کامل ہے، اگرچہ وہ سراپا خطاؤں میں (ڈوبا) ہو: سچائی،شکر،حیا، اور اچھے اخلاق‘‘َ۔ یہ حدیث بھی اب تک نہیں ملی۔