روایت: ایک حدیث میں آیا ہے: ’’ پہلی امتوں میں ایک بزرگ ریت کے ایک ٹیلہ سے گزرے، گرانی کا زمانہ تھا، وہ اپنے دل میں یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر یہ ریت کا ٹیلہ غلہ کا ڈھیر ہوتا تو میں اس سے بنی اسرائیل کو خوب کھلاتا ، حق تعالی شانہ نے اُس زمانہ کے نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں بزرگ کو خوشخبری سنادو کہ ہم نے تمہارے لئے اتنا ہی اجر وثواب لکھ دیا جتنا کہ یہ ٹیلہ غلہ کاہوتا ، اور تم اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے‘‘۔
باب: اسرائیلی روایات و قصص
پچھلی امتوں، بنی اسرائیل اور قدیم بادشاہوں کے قصے (ہاروت ماروت، شداد کی جنت، سکندر وغیرہ)۔
گروپ: انبیاء و امم
9 روایات
حکایت : عبد اللہ بن قلابہ کا شداد کی عجیب و غریب جنت دیکھ کرحضرت امیر معاویہ r کو اس کے احوال سنانا، پھر کعب احبارlکا اُن کی تصدیق کرنا۔
سلیمان e نے مخلوقات کی ضیافت کے لئےکھانا تیار کیا جسے ایک ہی مچھلی کھا گئی
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔
روایت: نمرود کی بیٹی کا کلمہ پڑھ کر آگ میں آنا اور نہ جلنا۔
روایت: شداد کی جنت کا تفصیلی حال
سکندر رومی کا قصہ،جس میں یہ ہے کہ وہ آبِ حیات کی تلاش میں گیا، غلط ہے۔
ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ،نُقَّاد محدثین نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
پہلی اُمتوں کے کچھ لوگ بندر ہوگئے تھے، اور یہ بندر
انہیں کی نسل کے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔