التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

یعقوب بن اسحاق عسقلانی

ایک روایت میں تذکرہ

یعقوب بن اسحاق عسقلانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

یعقوب بن اسحاق عسقلانی کے بارے میں ائمہ کے اقوال

حافظ ذہبیl ’’المغنی‘‘[74] میں’’یعقوب بن اسحاق عسقلانی‘‘ کے ترجمہ میں اس سے مروی ایک دوسری روایت ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’يعقوب بن إسحاق العسقلاني، عن حميد بن زنجويه، عن يحيى بن بكير، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر مرفوعا: من حفظ على أمتي أربعين، وهذا كذب في السند والمتن ‘‘. ....اس روایت کی سند ومتن دونوں میں جھوٹ ہے۔

اسی طرح’’ میزان الاعتدال‘‘[75]میں یعقوب العسقلانی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ کذاب‘‘. یہ جھوٹا ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’لسان المیزان‘‘[76]میں ذہبی lکے قول پر اکتفاء کیا ہے۔

مذکورہ سند میں یعقوب سے مسلمہ بن قاسم نے روایت نقل کی ہے، یہی مسلمہ،یعقوب کے بارے میں لکھتے ہیں:

 ’’واختلف فيه أهل الحديث، فبعضهم يضعفه وبعضهم يوثقه، ورأيتهم يكتبون عنه فكتبت عنه، وهو عندي صالح جائز الحديث‘‘.[77]

علماءحدیث کےنزدیک یعقوب کے بارے میں اختلاف ہے،بعض نے اس کی تضعیف کی ہے اور بعض نے توثیق کی ہے، میں نےمحدثین کو ان سے روایت لیتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ان سے روایت لیتا ہوں ،میرے نزدیک وہ صالح ،جائز الحدیث ہے۔

حوالہ جات

[74]  المغنی فی الضعفاء الرجال: حرف الیا ء ۲/ ۴۳۰، رقم: ۷۱۸۳، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .

[75] میزان الاعتدال: حرف الیاء، من اسمه یعقوب، ۴/ ۴۴۹، رقم: ۹۸۰۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .

[76]  لسان المیزان:حرف الیاء، من اسمه یعقوب، ۸/ ۵۲۵،رقم: ۸۶۳۱، ت: عبدالفتاح أبوغدة، مکتبة المطبوعات الإسلامی– بيروت، ط: ۱۴۲۰هـ .

[77]  لسان المیزان:حرف الیاء، من اسمه یعقوب، ۸/ ۵۲۵،رقم: ۸۶۳۱، ت:عبدالفتاح أبوغدة، مکتبة المطبوعات الإسلامی– بيروت،ط: ۱۴۲۰هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ