التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عاتکہ طریف بن سلمان

ایک روایت میں تذکرہ

ابو عاتکہ طریف بن سلمان کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو عاتکہ طریف بن سلمان[14]کے بارے میں ائمہ کاکلام

حافظ ابن حبان l ابوعاتکہ کے متعلق ’’المجروحین‘‘ میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث جدا، يروي عن أنس ما لا يشبه حديثه، وربما روى عنه ما ليس من حديثه‘‘[15].

ابوعاتکہ شدیدمنکرالحدیث ہے،یہ حضرت انسr سے ایسی روایتیں نقل کرتا ہے، جو ان کی احادیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اور بعض دفعہ ان سے ایسی روایت بیان کرتا ہے،جوان کی روایت کردہ احادیث میں سے نہیں ہوتی۔

اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے ابوعاتکہ کی زیرِ بحث روایت نقل کی۔

حافظ ابو بِشر دُولابی l ’’الكنى والأسماء‘‘[16] میں لکھتے ہیں:

’’أخبرني أبو عبد الرحمن النسائي، قال: أنبأ علي بن الحسن بن الحسين قال: ثنا حماد بن خالد، قال: سألت شيخا يقال له: طريف بن سليمان [كذا في الأصل ] أبو عاتكة وكان قد أتى عليه مائة سنة وأربع سنين فقلت له: ربما اختلط عليك عقلك؟ قال: نعم، قلت: سمعت من أنس بن مالك: طلب العلم فريضة على كل مسلم؟ قال: نعم‘‘ .

’’۔۔۔ حماد بن خالد کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا شخص جسے طریف بن سلیمان ابو عاتکہ کہا جاتا تھا،اور اس وقت ان کی عمر ۱۰۴ برس ہو چکی تھی، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کو کبھی کبھی اختلاطِ عقل بھی ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں،میں نے پھر پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس بن مالک r سے سنا ہے کہ حصولِ علم ہر مسلمان پر فرض ہے،اس نے کہا: ہاں‘‘ ۔

    حافظ ابن ابی حاتمl’’الجرح والتعدیل‘‘میں اپنےوالدابو حاتم رازیl کاکلام ابوعاتکہ کے ترجمہ میں نقل فرماتے ہیں:’’ذاهب الحديث، ضعيف الحديث‘‘[17] .

   امام بخاری l  ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں زیرِ بحث روایت تخریج کرنے کے بعد، طریف بن سلمان کےمتعلق فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘[18].

   حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[19]میں طریف بن سلمان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں : ’’منكر الحديث‘‘. اس کے بعد حافظ ابن عدیl نے ابوعاتکہ کی زیرِ بحث روایت تخریج کی۔

   امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[20]میں ابوعاتکہ کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’ليس بثقة‘‘.

   حافظ دارقطنی l،ابوعاتکہ طریف بن سلمان کےمتعلق فرماتے ہیں: ’’ضعيف ‘‘[21].

    امام عقیلی l اپنی کتاب ’’الضعفاء الکبیر‘‘ میں مذکورہ روایت ذکر کرنے کے بعدابو عاتکہ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’هو متروك الحديث‘‘[22]. ابو عاتکہ ’’متروک الحدیث‘‘ہے۔

    حافظ ذہبیl ’’تلخیص‘‘[23]میں زیرِ بحث روایت ذکر کرنے کے بعد، ابوعاتکہ کے بارے میں فرماتے ہیں:”أبو عاتكة طريف واهٍ‘‘.ابوعاتکہ ’’واہی‘‘ہے۔

    اور ’’المغنی فی الضعفاء‘‘ میں طریف بن سلمان کے تر جمہ میں لکھتے ہیں: ’’مجمع على ضعفه‘‘[24]. یعنی اس شخص کےضعف پر اجماع ہے، اسی طرح ’’الکاشف‘‘ میں لکھتے ہیں:”ضعفوه “[25].

حافظ ذہبی l ہی سلیمانی l کایہ قول بھی نقل کرتے ہیں:”فيمن عرف بوضع الحديث‘‘[26].ابو عاتکہ ان لوگوں میں سے ہے جو وضع حدیث میں معروف ہیں۔

علامہ برہان الدین حلبی l ’’الكشف الحثيث‘‘[27]میں ابو عاتکہ کے ترجمہ میں حافظ ذہبی l کا یہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ حافظ ذہبی l نے صرف سلیمانی کا قول نقل کیا ہے،بذاتِ خود ابو عاتکہ کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ حدیث گھڑتا تھا۔

اسی طرح حافظ ابن حجر l  ’’تقریب التهذیب‘‘[28]میں لکھتے ہیں: ’’بالغ السليماني‘‘. سلیمانی نے (ابو عاتکہ کو معروف بالوضع کہہ کر)مبالغہ کیاہے ،نیز ابو عاتکہ کو حافظ ابن حجر l  بذاتِ خود : ’’ضعيف‘‘ کہتے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطیl ’’تعقبات على الموضوعات‘‘ میں اس روایت کے تحت ابوعاتکہ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ أن أبا عاتكة من رجال الترمذي ولا يجرح بكذب ولا تهمة‘‘[29]. ابوعاتکہ ترمذی l کے رجال میں سے ہیں، اور ان پر کذب اور تہمت کذب کی جرح نہیں کی گئی۔

 لیکن اس پر حافظ ابن عراق l نے تعقب کیا ہے،چنانچہ آپ ’’تنزيه الشریعة‘‘[30] میں لکھتے ہیں: ’’كونه لم يُجْرَح ممنوع كما يُعلم من ترجمته في المقدمة‘‘. یہ کہناکہ ان پر جر ح نہیں کی گئی یہ بات درست نہیں، جیساکہ مقدمہ میں ان کے ترجمہ سے معلوم ہورہا ہے[31]۔

نوٹ:  پیچھے حافظ سیوطی lکے کلام سے معلوم ہوا کہ ابوعاتکہ رجالِ ترمذی میں سے ہے،یہاں کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ ان کی ’’ولو بالصین‘‘والی روایت کو موضوع کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابوعاتکہ اگرچہ رجالِ ترمذی میں سے ہیں، لیکن ان کی جوروایت امام ترمذی l نے نقل كى ہے اسے بھی امام ترمذی lنے ان ہی کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔[32]

چنا نچہ امام ترمذی l اس حدیث کو نقل کر نے کے بعد فرماتے ہیں:

 ’’حديث أنس حديث ليس إسناده بالقوي، ولا يصح عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب شيء‘‘.حضرت انس r  کی مذکورہ حدیث کی سند قوی نہیں ہے،اس باب میں نبی اکرم ﷺسے کوئی ’’صحیح‘‘ روایت منقول نہیں ہے۔

امام ترمذیl آگے ابو عاتکہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ أبو عاتكة يضعف‘‘[33]. ابو عاتکہ کو ضعیف کہا گیا ہے۔

اور مقدمہ میں یہ بات آچکی ہے کہ کسی راوی کی روایت کے ساقط ثابت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان سے منقول تمام متون ساقط ہوں گے، بلکہ دیگر قرائن وغیرہ سے ایسے راویوں کے بعض متون سقط سے محفوظ ہوں سکتے ہیں۔

خلاصہ: ابو عاتکہ کے بارے میں سوائے سلیمانی کے کسی نے بھی وضع حدیث کی نسبت نہیں کی، البتہ مختلف کلمات سے جرح کی گئی ہے،جن میں بعض شدید جرح پر مشتمل ہیں،مثلا:

   ’’منکرالحدیث جداً ‘‘۔ (امام ابن حبان l)

   ’’منکرالحدیث ‘‘۔ (امام بخاریl)

   ’’متروک الحدیث‘‘۔(حافظ عقیلیl)

   ’’واہی‘‘۔ (حافظ ذہبیl )

   یہ بھی واضح رہے کہ ابو عاتکہ،حضرت انس r سے اس روایت کو نقل کرنے میں (جس میں اطلبوا العلم ولوبالصینکے الفاظ ہیں) متفرد ہیں۔

حوالہ جات

[14]  طريف بن سلمان ويقال بن سليمان. كذا في ’’الكامل في الضعفاء لابن عدي‘‘. ( باب الطاء، من اسمه طریف، ۴/ ۱۱۸،رقم: ۹۶۳، دارالفکر –  بيروت).و قال الخطيب: والمحفوظ ابن سلمان.( تاریخ مدینة السلام بغداد: باب الطاء، من اسمه طریف، ۱۰/ ۴۹۷، رقم: ۴۸۸۴،دار الغرب الإسلامی - بیروت).

[15]  المجروحين: باب الطاء، ۱/ ۳۱۲، ت: محمود إبراهيم زايد، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .

[16]  الكنى والأسماء: ۲/ ۷۰۷، رقم:۱۲۴۲، ت:أبو قتيبة نظر محمد، دار ابن حزم ـ بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۱هـ .

[17] الجرح والتعدیل: باب من روی عنه العلم ممن یسمی طریف، ۴ / ۹۹۴، رقم: ۲۱۶۹، دار الكتب العلمية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۳۷۲ هـ .

[18]  التاریخ الکبیر: باب طریف، ۴/ ۳۵۷، رقم: ۳۱۳۵، ت: محمد عبد المعید خان، دار الکتب العلمیة- بیروت، ط: ۱۴۰۷هــ .

[19]  الکامل فی الضعفاء: باب الطاء، من اسمه طریف، ۴/ ۱۱۸ رقم: ۹۶۳ ، دارالفکر – بيروت، ط: ۱۴۰۹ هـ .

[20] الضعفاء والمتروکین للنسائی: باب الطاء، ۱/ ۱۴۴، رقم: ۳۳۵، ت: کمال یوسف الحوت، مؤسسة الکتب الثقافية– بيروت، ط: ۱۴۰۵ هـ .

[21] تهذب الکمال: باب العین، ۵/ ۳۴، رقم: ۷۴۵۸، ت: بشار عواد معروف، مؤسسة الرسالة– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۱۳ هـ .

[22]  کتاب الضعفاء: باب الطاء، ۲/ ۲۲۹، رقم: ۷۷۷، ت: عبد المعطی أمین قلعجی، دار الکتب العلمية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۸ هـ .

[23] تلخیص الموضوعات: باب العلم،۱ /۲۳، رقم ۱۱۰، ت:أبو تمیم یاسر بن إبراهیم، مکتبة الرشد– ریاض، الطبعة الأولى: ۱۴۱۹ هـ .

[24]   المغنی: باب الکنى،۲/ ۴۷۷، رقم: ۷۵۶۱، ت:  نورالدین عتر، دار  إحیاء التراث العربی– بيروت،  ط: ۱۹۸۷م .

[25]  الکاشف: باب العین، ۲/ ۴۳۷، رقم: ۶۷۰۰، ت: شیخ محمد عوامه، مؤسسة علوم القران– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۱۳ هـ .

[26]  ميزان الاعتدال:حرف الطاء، من اسمه طریف، ۲/ ۳۳۵، ۳۹۸۴، ت: علي البجاوي، دار المعرفة– بيروت، ط:۱۳۸۲ هـ .

[27] الكشف الحثيث:حرف الراء،ص:۱۲۹، رقم:۳۵۴، ت:  صبحي السامرائي، مكتبة النهضة العربية –  بيروت،ط:۱۴۰۷ هـ

[28]  تقریب التهذیب: ص: ۶۵۳، رقم: ۸۱۹۳، ت: شیخ محمد عوامه، دارالرشد– سوریا، ط: ۱۴۱۱ هـ .

[29] تعقبات علی الموضوعات: کتاب العلم، ص: ۴، بمطبع محمدی، المکتبة الأثريه – ضلع شیخوپوره، ط: ۱۳۰۸ هـ .

[30] تنزيه الشريعة:کتاب العلم،الفصل الثانی،۱/ ۲۵۸،رقم: ۲۸، ت: عبد الله بن محمد الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت، ط: ۱۴۰۱هـ .

[31] علامہابن عراق l نے مقدمہ میں ابوعاتکہ کے متعلق سلیمانی l کا قول نقل کیا ہے،لیکن اس قول کو حافظ ابن حجرl نے ’’بالغ سلیمانی‘‘ کہہ کر رد کیا ہے۔

[32] امام ترمذی l نے ’’سنن ترمذی‘‘  میں ابوعاتکہ کی سندسےجوروایت تخریج کی ہے،وہ ملاحظہ فرمائیں: ’’حدثنا عبد الأعلى بن واصل الكوفي، حدثنا الحسن بن عطية، حدثنا أبو عاتكة، عن أنس بن مالك: قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال: اشتكت عيني أفأكتحل وأنا صائم ؟ قال: ’’نعم‘‘ . ’’نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا میری آنکھ میں تکلیف ہے،کیا میں سرمہ لگا لوں؟ حالانکہ میں روزے سے ہوں ؟ آ پ ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں‘‘ ۔ سنن الترمذي: باب ما جاء فی الکحل للصائم، ۳/ ۹۶، رقم: ۷۲۶، ت: محمد فؤاد عبد الباقی، الطبعة الثانیة: ۱۳۹۷ هـ . یہ بھی واضح رہے کہ ’’سنن الترمذی‘‘ کی اس روایت کے دیگرشواہد بھی ہیں،دیکھیے: التلخیص الحبیر،۲/۳۶۵،رقم:۸۸۶۔

[33]  سنن الترمذي: باب ما جاء فی الکحل للصائم، ۳/ ۹۶، رقم: ۷۲۶ ، ت: محمد فؤاد عبد الباقی، الطبعة الثانیة ۱۳۹۷هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ