اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے، جیسے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، اور اس کی صفائی استغفار ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی نضْر بن محرز بن بعیث ابو الفرج ازدی بَثَنِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l نے نضْر بن محرز کو ’’مجهول‘‘[40] کہا ہے۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[41] میں فرماتے ہیں:’’عن محمد بن المنكدر، لا يتابع على حديثه، ولا يعرف إلا به ‘‘. یہ محمد بن منکدر سے روایت کرتا ہے، اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی، اور اسی حدیث سے اس کی معرفت ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[42] میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث جدا، لا يجوز الاحتجاج به ‘‘. منکر الحدیث جداً ہے، اس سے احتجاج کرنا جائز نہیں ہے۔
علامہ شہاب الدین ابو عبد اللہ یاقوت بن عبدا للہ حموی l نے ’’معجم البلدان‘‘[43] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[44] میں نضْر بن محرز کے ترجمہ میں زیر بحث روایت اور چند دیگر احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث بأسانيدها غير محفوظة، وليس للنضْر كثير حديث‘‘. یہ احادیث ان اسانید سے محفوظ نہیں ہیں، اور نضْر کی احادیث زیادہ نہیں ہیں۔
حافظ دار قطنی l نے ’’المؤتلف والمختلف‘‘[45] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو محمد عبد الغنی بن سعید ازدی l نے نضر بن محرز کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[46] ۔
حافظ ابن ماکولا l نے نضْر بن محرز کو ’’منكر الحديث‘‘[47] کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے اسے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[48] میں ایک دوسری حدیث کے تحت ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[49] میں ایک دوسری حدیث کے تحت نضْر بن محرز کو ’’منكر الحديث ‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[50] میں ایک حدیث کے تحت نضر بن محرز کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[40] الجرح التعديل:8/480،رقم:2198،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[41] الضعفاء الكبير:4/288،رقم:1882،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .
[42] المجروحين:3/50،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[43] معجم البلدان:1/338،دار صادر ـ بيروت،الطبعة۱۳۹۷هـ .
[44] الكامل في ضعفاءالرجال:8/271،رقم:1968،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[45] المؤتلف والمختلف:ص:2219،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[46] انظر تاريخ مدينة دمشق:62/82،رقم:7889،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .
[47] انظر تاريخ مدينة دمشق:62/82،رقم:7889،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .
[48] ذخيرة الحفاظ:ص:1290،رقم:2776،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .
[49] تذكرة الحفاظ:ص:150،رقم:350،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[50] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:318،رقم:862 ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .