اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے، جیسے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، اور اس کی صفائی استغفار ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو العباس ولید بن سلمہ طبَرانی اردنی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو مسہر غسانی l نے ولید بن سلمہ کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[19]۔
حافظ دحیم l فرماتے ہیں: ’’قال شعيب بن اسحاق: كذابا هذه الامة، وهب بن وهب والوليد بن سلمة الأردني‘‘[20]. شعیب بن اسحاق کہتے ہیں: اس امت کے دو کذاب ہیں، وہب بن وہب اور ولید بن سلمہ۔
حافظ ابو زرعہ l ولید بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’آه آه! أتينا ابنه، وكان صدوقا، وكان يحدث بأحاديث مستقيمة، فلما أخذ في أحاديث أبيه جاء [يعني] بالأوابد‘‘[21]. آہ آہ! ہم ولید بن سلمہ کے بیٹے کے پاس گئے، وہ صدوق تھا، اور مستقیم احادیث بیان کرتاتھا، لیکن جب اس نے اپنے والد کی احادیث بیان کرنا شروع کیں تو عجائبات لے آیا۔
حافظ ابو حاتم l نے ولید بن سلمہ کو ’’ذاهب الحديث‘‘[22] کہا ہے۔
قاضی وکیع محمد بن خلف ضبی l’’أخبار القضاة‘‘[23] میں ولید بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث جدا ‘‘. حدیث میں شدید ضعیف ہے۔
اس کے بعد قاضی وکیع محمد بن خلف نے ولید بن مسلم کی چند احادیث نقل کرکے ان کو باطل کہا ہے، پھر فرماتے ہیں:’’والوليد بن سلمة، ضعيف مهين، مثل أبي البختري‘‘. ولید بن سلمہ، ابو البختری کی طرح ضعیف حقیر ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[24] میں ولید بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات، لا يجوز الاحتجاج به بحال‘‘. یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں کے انتساب سے احادیث گھڑتے تھے، اس سے کسی بھی طرح احتجاج درست نہیں ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’ الكشف الحثيث‘‘[25] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
نیز حافظ ابن حبان lنے’’ الثقات‘‘[26] میں ابراہیم بن ولید بن سلمہ طبرانی کے ترجمہ میں ولید بن سلمہ کو’’ليس بشيء في الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[27] میں حماد بن ولید کے ترجمہ میں ایک دوسری حدیث کے تحت ولید بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’الوليد يسرق الحديث، ويظفر عليه‘‘. ’’ولید حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔۔۔‘‘۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[28] میں ولید بن سلمہ کے ترجمہ میں زیر بحث حدیث اور چند دیگر احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’وهذه الأحاديث للوليد مع ما لم أذكر من حديثه، عامتها غير محفوظة‘‘. ولید کی یہ احادیث اس کی ان احادیث سمیت جن کو میں نے ذکر نہیں کیا، ان میں سے اکثر غیر محفوظ ہیں۔
حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث‘‘[29]. جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ دارقطنی l نے ’’العلل الواردة‘‘[30] میں ایک حدیث کے تحت ولید بن سلمہ کو ’’متروك الحديث‘‘ اور ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ولید بن سلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث‘‘[31]. ولید بن سلمہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
نیز امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ورد خراسان، وحدث بنيسابور قبل المائتين بأحاديث موضوعة، وهو متروك الحديث‘‘[32]. ولید بن سلمہ ازدی خراسان آیا، اور دو سو ہجری سے پہلے نیشاپور میں من گھڑت احادیث بیان کیں، اور وہ متروک الحدیث ہے۔
حافظ تمام بن محمد رازی l نے’’الفوائد‘‘[33] میں ایک حدیث کے تحت ولید بن سلمہ کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[34] میں حافظ تمام بن محمد رازی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
امام بیہقی l ’’شعب الإيمان‘‘[35] میں ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’تفرد به الوليد بن سلمة الأردني، وله من أمثال هذا أفراد لم يتابع عليها، والله أعلم‘‘. ولید بن سلمہ اس میں متفرد ہے، اور اس کی اس جیسی بہت سی افراد ہیں جن پر متابعت نہیں ہوئی، واللہ اعلم۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے ’’المسند المستخرج‘‘[36] میں ولید بن سلمہ کو ’’ لا شيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[37] میں اور ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[38] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[39] میں ایک دوسری حدیث کے تحت ولید بن سلمہ اردنی کو ’’كذاب ‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[19] لسان المیزان:8/384،رقم:8357،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[20] الجرح التعديل:9/6،رقم:27،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[21] الجرح التعديل:9/7،رقم:27،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[22] الجرح التعديل: 9/7،رقم:27،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[23] أخبار القضاة:3/215،عالم الكتب ـ بيروت .
[24] المجروحين:3/80،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[25] الكشف الحثيث:ص:275، رقم:825،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[26] الثقات:8/84،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آبالدكن،الطبعةالأولى1393هـ .
[27] المجروحين:1/255،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[28] الكامل في ضعفاءالرجال:8/360،رقم:1999،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[29] الضعفاء والمتروكين:3/184،رقم:3651،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[30] العلل الواردة:1/213،رقم:20ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[31] سؤلات مسعود بن علي السجزي:ص:156،رقم:166،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴08هـ .
[32] سؤلات مسعود بن علي السجزي:ص:187،رقم:229،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴08هـ .
[33] الفوائد:2/45،رقم:1095،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1412هـ .
[34] تاريخ مدينة دمشق:66/340،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .
[35] شعب الإيمان:۱۰/۴۹۸،رقم:۷۸۷۰،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1423هـ .
[36] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/85،رقم:۲60،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[37] تذكرة الحفاظ:ص:207،رقم:493،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[38] ذخيرة الحفاظ:ص:339،رقم:354،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .
[39] مجمع الزوائد:5/166،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .