اس روایت کی تحقیق سے
روایت: نورِ محمدی ﷺ سے اندھیرے میں گمشدہ سوئی کی چمک۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)مَسْعَدہ بن بکر الفَرْغَانی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:
۱- حافظ ذَہَبِی lکا کلام:
حافظ ذَہَبِیl ’’میزان الاعتدال‘‘[5] میں لکھتے ہیں: ’’عن محمَّد بن أحمد بن أبي عون بخَبَرٍ کِذْبٍ‘‘. مَسْعَدَہ نے محمد بن احمد بن ابی عون سے ایک جھوٹی خبر نقل کی ہے۔
۲- حافظ ابنِ حجر lکاکلام:
حافظ ابن حجرl ’’میزان الاعتدال‘‘ کی عبارت ’’لسان المیزان‘‘[6] میں نقل کر کے رقم طراز ہیں:
ولم أقِفْ علی الخَبَرِ بعدُ، ووَجَدْتُ له حدیثاً آخرَ، قال الدَّارَ قُطْنِي في ’’غرائب مالک‘‘: أبو سعید مَسْعَدَة بن بکر بن یوسف الفَرْغَاني، قدِم حاجاً، حدثنا الحَسَنُ بن سفیان، حدثنا أبو مُعْصَب، عن مالک، عن نافع، عن [ابن عمر رضي ﷲ عنهما] رَفَعَه:’’مَثَلُ المنافق مثل الشَّاةِ العَائِرَة... الحدیث‘‘. قال الدَارَ قُطْنِي:هذا باطلٌ بهذا الإسناد، والحسن وأبو مصعب ثِقَتَان، ولکن هذا الشیخ توهّمه فمَرَّ فیه وانْقَلَبَ علیه إسنادُه، واﷲ أعلم .
میں اب تک اس خبر پر واقف نہیں ہوسکا ( یعنی حافظ ذَہَبِی l نے جس کو مسعدہ کی جھوٹی خبر کہا ہے)، البتہ مجھے مَسْعَدہ کی ایک دوسری حدیث ملی ہے، (وہ حدیث یہ ہے) دارَ قُطْنِیl ’’غرائب مالک‘‘ میں لکھتے ہیں:
ابو سعید مسعدہ بن بکر یوسف الفرغانی حج کےلئے آئے تو ہمیں حدیث بیان کی، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حسن بن سفیان نے حدیث بیان کی، حسن فرماتے ہیں کہ ہمیں ابو مصعب نے، اور وہ مالک سے، اور وہ نافع سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: ’’منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان اس پریشان بکری کی سی ہے۔۔۔ دارَ قُطْنِی l فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس سند سے باطل ہے،اور اس حدیث کی سند میں حسن اور ابو مصعب ثقہ راوی ہیں، لیکن ان شیخ (مَسْعَدہ) کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، چنانچہ شیخ اس میں یونہی گزر گئے ہیں، حالانکہ ان پر اس حدیث کی سندخلط ہو گئی ہے (یعنی سند تبدیل ہوچکی ہے)۔
حافظ ابن حجرl کے کلام میں تین امور قابلِ ضبط (تحریر) ہیں:
۱- حافظ ذَہَبِی l نے جس خبر کو مَسْعَدَہ کی جھوٹی خبر کہا ہے، میں اب تک اس خبر پر مطلع نہیں ہو سکا ہوں۔
۲- البتہ مَسْعَدَہ کی ایک دوسری روایت ’’غرائب مالک‘‘ میں موجود ہے، جسے حافظ دارَ قُطْنِی l نے خاص اس سند کے ساتھ باطل قرار دیا ہے، اور سند میں باقی راویوں کو ثقہ قرار دیکر، صرف مَسْعَدَہ پر کلام کیا ہے۔
۳- یہ واضح رہے کہ یہ روایت امام دارَ قُطْنِی l کی تصریح کے مطابق خاص اس سند کے ساتھ باطل ہے،البتہ دیگر سندوں سے یہ روایت ثابت ہے، بلکہ یہ روایت امام مسلم l نے اپنی ’’جامع‘‘[7] میں ذکر کی ہے،ملاحظہ ہو:
’’... عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:’’مَثَلُ المُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاة العَائِرَة بین الغَنَمَیْن، تَعِیْرُ إلی هذة مَرَّةً، وإلی هذه مَرَّةً‘‘. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ آپﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: ’’منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان اس پریشان بکری کی طرح ہے، جو کبھی اِس ریوڑ میں چرتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ میں چرتی ہے‘‘۔
۳- حافظ ابنِ عرّاق lکا کلام:
حافظ ابن عَرَّاق l ’’تنزیه الشریعة‘‘[8] میں لکھتے ہیں: ’’مَسْعَدَة بن بکر الفَرْغَاني عن محمد بن أحمد بن أبي عون بخبر کذب‘‘. مَسْعَدَہ نے، محمد بن احمد بن ابی عون سے ایک جھوٹی خبر نقل کی ہے۔
حافظ ابن عرّاق lکا مذکورہ کلام در حقیقت حافظ ذہبی l کا کلام ہے۔
واضح رہے کہ زیرِ بحث سند میں مَسْعَدَہ اس روایت کو محمد بن احمد بن ابی عون سے نقل کرنے والے ہیں،اس کی مزیدتفصیل آگے آئے گی۔
حوالہ جات
[5] ميزان الاعتدال:مسعدة:4/98،رقم:8464 ،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[6] لسان المیزان:8/40،رقم:7680،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بحلب،الطبعة الأولى1423هـ .
[7] الجامع الصحيح لمسلم:كتاب صفات المنافقين وأحكامهم:4/2146،رقم:2784ت:محمد فؤاد عبد الباقي، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[8] تنزيه الشريعة المرفوعة:۱/116،رقم:367،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الکتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .