اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺ کا دعا فرمانا کہ میری امت کا حساب میرےحوالہ فرمادیجئے، تاکہ میری امت کو دوسری امتوں کے سامنےشرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔۔۔ ‘‘ ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)سند میں موجود راوی محمد بن حسن بن محمد بن زیاد بن ہارون بن جعفر بن سند، ابوبکر نَقَّاش مقرئ مَوصلی (۲۶۶ھ/ ۳۵۱ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[4] میں لکھتے ہیں: ’’في أحاديث النَّقَّاش مناكير بأسانيد مشهورة‘‘. نَقَّاش کی احادیث میں مشہور سندوں سے مناکیر موجود ہیں۔
علامہ طلحہ بن جعفر l فرماتے ہیں: ’’كان النَّقَّاش يكذب في الحديث، والغالب عليه القصص‘‘[5]. نَقَّاش حدیث میں جھوٹ بولتا تھا، اور اس پر قصّوں کا غلبہ تھا۔
امام ابوبکر بَرْقَانی l فرماتے ہیں: ’’كل حديث النَّقَّاش منكر‘‘[6]. نَقَّاش کی تمام احادیث منکر ہیں۔
امام دار قطنی l نے اسے ’’واہی‘‘ قرار دیا ہے[7]۔
حافظ ابن جوزی l ’’المنتظم ‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه مناكير بأسانيد مشهورة، وقد كان يتوهم الشيء فيرويه‘‘. اس کی احادیث میں مشہور سندوں کے ساتھ مناکیر موجود ہیں، اور اسے کسی چیز کا وہم بھی ہو تو بھی اسے روایت کردیتا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تذكرة الحفاظ‘‘ [9] میں فرماتے ہیں:
’’إن النَّقَّاش مع جلالته ونبله فهو متروك الحديث، وحاله في القراءات أمثل، قال أبو عمرو الداني: النقَّاش مقبول الشهادة‘‘. نَقَّاش باجود جلیل القدر اور ذکی ہونے کے، متروک الحدیث ہے، اور اس کی حالت قراء توں میں نسبتًا بہتر ہے، ابو عمرو دانی l فرماتے ہیں کہ نَقَّاش کی شہادت مقبول ہے۔
حافظ ذہبی l مزید فرماتے ہیں: ’’وقال هبة الله بن الحسن الطَبَرِي: تفسير النَّقَّاش إشفى الصدور [كذا في الأصل] وليس بشفاء الصدور. قلت: يعني مما فيه من الموضوعات‘‘ .
ہبۃاللہ بن حسن طَبَرِی کا کہنا ہے کہ نَقَّاش کی تفسیردلوں میں چھید ہے، یہ دلوں کی شفاء نہیں ہے، (حافظ ذہبی l فرماتے ہیں) میں کہتاہوں:ان کی مراد یہ ہے اس میں من گھڑت روایات ہیں۔
دوسرا طریق:طریق محمد بن ایوب
امام سیوطی l ’’ذیل اللآلئ‘‘[10] میں فرماتے ہیں:
’’قال ابن النجار: كتب إلى يوسف بن هبة الله الدِّمَشْقِي، أنبأنا أبو القاسم محمود بن أبي القاسم المقرئ الكَرْخي، أنبأنا أبو حفص عمر بن أبي بكر المقرئ، أنبأنا أبو الصغايا مر [كذا في الأصل] بن علي، أنبأنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الأصبهاني المذكر، أنبأنا محمد بن أحمد بن إبراهيم القاضي، حدثنا محمد بن أيوب الرازي، حدثنا القعنبي، عن سلمة بن وردان، عن ثابت البناني، عن أنس مرفوعا: ليلة أسري بي إلى السماء، سألت الله عزوجل فقلت: إلهي! وسيدي! اجعل حساب أمتي على يدي، لئلا يطلع على عيوبهم أحد غيري، فإذا النداء من العلاء: يا محمد! إنهم عبادي، لا أحب أن أطلعك على عيوبهم، فقلت: إلهي! وسيدي! ومولاي! المذنبون من أمتي؟ فإذا النداء من العلاء: يا أحمد! إذا كنتُ أنا الرحيم، وكنتَ أنت الشفيع، فأين تبين المذنبون بيتا، [كذا في الأصل، وفي تذكرة الموضوعات: فأين تبين المذنبون]؟ فقلت: حسبي حسبي.
محمد بن أيوب الرازي كذاب‘‘ .
حضرت انس r آپ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ ایک رات مجھے آسمان کی جانب لے جایا گیا تو میں نے اللہ عزوجل سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا: الہٰی ! میرے آقا! آپ میری امت کا حساب میرے سپرد فرمادیجئے تاکہ کوئی دوسرا ان کے عیبوں پر مطلع نہ ہوسکے، اچانک اوپر سے نداء آئی کہ اے محمد! یہ میرے بندے ہیں، مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تمہیں ان کے عیبوں کی خبر دوں، میں نے درخواست کی، الہٰی! میرے آقا! میرے مولا! میری امت کے گناہ گاروں کا کیا ہوگا؟ اچانک اوپر سے نداء آئی کہ اے احمد!جب میں بھی نہایت رحم والا ہوں اور تو بھی ان کی شفاعت کرنے والا ہے تو ۔۔۔ میں نے عرض کیا:یہ کافی ہے۔
امام سیوطی l فرماتے ہیں کہ سند میں موجود راوی محمد بن ایوب رازی کذاب ہے۔
حوالہ جات
[4] تاريخ بغداد:۲/۶۰۳،رقم:۵۸۴،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب ـ تونس،الطبعة الرابعة۱۴۳۶هـ .
[5] تاريخ بغداد:۲/۶۰۶،رقم:۵۸۴،ت:بشارعوادمعروف،دارالغرب ـ تونس،الطبعة الرابعة۱۴۳۶هـ .
[6] تاريخ بغداد: ۲/۶۰۶، رقم:۵۸۴ ،ت:بشارعوادمعروف،دارالغرب ـ تونس،الطبعة الرابعة۱۴۳۶هـ .
[7] لسان الميزان: ۷/۷۸، رقم:۶۶۷۱ ،ت:بشارعوادمعروف،دارالغرب ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۳۸هـ .
[8] المنتظم:۱۴/۱۴۸،رقم:۲۶۲۳،ت:محمد عبد القادرعطا، مصطفى عبد القادرعطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[9] تذكرة الحفاظ: ۳/۹۰۹ ،رقم:۸۷۲.،ت:زكرياعميرات،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۹هـ .
[10] ذيل اللآلئ المصنوعة:۴۶۵،رقم:۸۸۹ ،ت:زيادالنقشبندي الأثري،دارابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۲هـ .