اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی محمد بن اسحاق سلمی مروزی کے بارے میں ائمہ کا کلام
حافظ ابن مندہ نے محمد بن اسحاق مروزی کو ’’مجهول‘‘ کہا ہے[34]۔
حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[35] میں محمد بن اسحاق سلمی کو ’’أحد الغرباء المجهولين‘‘ کہہ کر فرماتے ہیں: ’’حدث عن عبد الله بن المبارك حديثا منكرا‘‘. محمد بن اسحاق نے عبد اللہ بن مبارک l کے انتساب سے ایک منکر حدیث بیان کی ہے ۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[36] میں محمد بن اسحاق سلمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فيه جهالة، وأتى بخبر باطل‘‘. اس میں جہالت ہے، اور یہ ایک باطل خبر لایا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’لسان المیزان‘‘[37] میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنے کے بعد حافظ خطیب بغدادیl کا کلام ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[34] انظر ذيل ديوان الضعفاء:ص:57،رقم:355،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة .
[35] تاريخ بغداد:۲/۴۰،رقم:۴،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[36] ميزان الاعتدال:۳/۴۷۷،رقم:۷۲۰۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[37] لسان الميزان:۶/۵۵۱،رقم:۶۴۶۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .