اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی احمد بن خالد قرشی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’أحمد بن خالد القرشي لا يعرف، وأتى بخبر باطل‘‘.احمد بن خالد قرشی کی معرفت نہیں ہے، اور یہ ایک باطل خبر لایا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان‘‘[9] میں اور علامہ سیوطیl نے ’’اللآلئ‘‘[10] میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں احمد بن خالد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ذہبیl کا کلام ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[8] ميزان الاعتدال:1/95،رقم:365،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[9] لسان الميزان:۱/۴۵۰،رقم:۴۹۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[10] اللآلئ المصنوعة:۱/۲۰۶،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1417هـ .
[11] تنزيه الشريعة:1/۲۷،رقم:1۰۵،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .