اس روایت کی تحقیق سے
روایت: یعفور نامی دراز گوش ( گدھے) کا آپ ﷺ سے ہم کلام ہونا،اور آپﷺ کا یعفور کو بطور قاصد صحابہp کے گھروں کی طرف بھیجنا، حضورﷺ کی وفات کے بعد یعفور کا اپنے آپ کوحضورﷺکےغم میں کنویں میں گراکر جان دے دینا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عطارد اُذَیْنَہ طائی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[52] میں عبد اللہ بن اُذَیْنَہ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’شیخ، منكر الحديث جدا، يروي عن ثور بن يزيد ما ليس من حديثه، لا يجوز الاحتجاج به بحال‘‘. شیخ، منکر الحدیث جداً ہے، ثور بن یزید سے ایسی روایات نقل کرتا ہے، جو ثور بن یزید کی حدیث میں سے نہیں ہیں، اس سے کسی صورت احتجاج جائز نہیں ہے۔
حافظ ابن حبانl ہی عبد اللہ بن اذینہ کی دو روایتیں نقل کرنے بعد فرماتے ہیں: ’’أخبرنا بالحديثين جميعا حمزة بن داود بن سليمان بن داود، قال: حدثنا إسماعيل بن عيسى بن زاذان الأبلي، قال: حدثنا عبد الله بن أذينة عن ثور بن يزيد في نسخة كتبناها عنه لا يحل ذكرها في الحديث إلا على سبيل القدح في ناقليها‘‘[53] .
دونوں روایتیں عبد اللہ بن اُذَیْنَہ نے ثور بن یزید سے اس نسخہ سے نقل کی ہیں، جو ہم نے اس سے لکھا ہے، اس نسخہ کا ذکر کرنا اس کے نقل کرنے والے پر جرح کے بغیر حلال نہیں ہے۔
واضح رہے کہ زیر بحث روایت بھی عبد اللہ بن اُذَیْنَہ نے ثور بن یزید ہی سے نقل کی ہے۔
حافظ ابن حبانl کے کلام پر حافظ ابن جوزیl نے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[54] میں،حافظ ذہبیl نے ’’میزان الاعتدال‘‘[55] ، ’’دیوان الضعفاء‘‘[56] اور ’’المغنی‘‘[57] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’لسان المیزان‘‘[58] میں اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[59] میں فرماتے ہیں: ’’وعبد الله يروي عن ثور المنكرات‘‘. اور عبد الله، ثور سے منکر روایات نقل کرتا ہے۔
حوالہ جات
[52] المجروحين:2/19،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[53] المجروحين:2/19،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[54] الضعفاء والمتروكين:2/115،رقم: 1983،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[55] ميزان الاعتدال:2/391،رقم:4204،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[56] ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:211،رقم:2117،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[57] المغني في ضعفاء الرجال:1/472،رقم:3101،ت:نورالدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[58] لسان الميزان:4/432،رقم:4153،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[59] تذكرة الحفاظ:ص:104،رقم:234،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى 1415هـ .