التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

صالح بن سہل

ایک روایت میں تذکرہ

صالح بن سہل کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی صالح بن سہل پر کلام

شیخ الامامیہ ابو عمرو کشی ’’رجال الكشي‘‘[8] میں صالح بن سہل کا ترجمہ قائم کر کے کہتے ہیں:’’روى محمد بن أحمد، عن محمد بن الحسين، عن الحسن بن علي الصيرفي، عن صالح بن سهل، قال:كنت أقول في أبي عبد الله عليه السلام بالربوبية، فدخلت عليه، فلما نظر إلي قال: يا صالح! أنا والله عبد مخلوق، لنا رب نعبده، وإن لم نعبده عذبنا‘‘.

 محمد بن احمد نے محمد بن الحسین، عن الحسن بن علی صیرفی، عن صالح بن سہل کے طریق سے روایت کیا ہے کہ صالح بن سہل نے خود بتایا کہ میں ابوعبد اللہ علیہ السلام کے بارے میں ربوبیت کا قائل تھا، چنانچہ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا: اے صالح! اللہ کی قسم! میں بندہ ہوں، مخلوق ہوں، ہمارا ایک رب ہے، جس کی ہم عبادت کرتے ہیں، اور اگر ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے تو وہ ہمیں عذاب دے گا۔

اورشیخ الشیعہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی(متوفی460ھ) نے ’’اختيار معرفة الرجال‘‘[9] میں ابو عمرو کشی کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

شیخ الشیعہ ابو منصور حسن بن یوسف حلی (المتوفی ۷۲۶ھ) ’’خلاصة الأقوال في معرفة الرجال‘‘[10] میں صالح بن سہل کا ترجمہ قائم کر کے ابن الغضائری کے انتساب سے کہتے ہیں:

’’صالح بن سهل الهمداني كوفي، غال كذاب، وضاع للحديث، روى عن أبي عبد الله عليه السلام، لا خير فيه ولا في سائر ما رواه .

 وروى الكشي عن محمد بن أحمد، عن محمد بن الحسين، عن الحسن بن علي الصيرفي، عن صالح بن سهل أنه ذكر عن  نفسه أنه كان يعتقد الربوبية في الصادق عليه السلام، وأنه دخل عليه فاقسم له أنه ليس برب، وذكر الشيخ الطوسي في كتاب الغيبة من المذمومين صالح بن محمد بن سهل الهمداني، والظاهر أنه هذا‘‘.

  صالح بن سہل ہمدانی کوفی ہے، غالی کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے، ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کرتا ہے، نہ تو خود اس میں کوئی خیر ہے، اور نہ ہی اس کی نقل کردہ روایات میں۔

اور کشی، محمد بن احمد ،عن محمد بن الحسین، عن حسن بن علی صیرفی، عن صالح بن سہل  کے طریق سے روایت کرتا ہے کہ صالح بن سہل نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ صادق علیہ السلام کے بارے میں رب ہونے کا اعتقاد رکھتا تھا، اور وہ صادق علیہ السلام کے پاس گیا تو انہوں نے اس کے سامنے قسم کھا کر کہا: وہ رب نہیں ہے، اور شیخ طوسی نے ’’ کتاب الغیبہ‘‘میں ذکر کیا ہے کہ صالح بن محمد بن سہل ہمدانی مذموم لوگوں  میں سے ہے، بظاہر وہ یہی ہے ۔

حوالہ جات

[8]رجال الكشي:ص:243،رقم:180،مؤسسةالأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى1430هـ .

[9]اختيار معرفة الرجال:ص:286،رقم:632،ت:جواد القيومي الأصفهاني،مؤسسة النشر الإسلامي ـ قم، الطبعة الأولى1427هـ .

[10] خلاصة الأقوال في معرفة الرجال:ص:359،رقم:1416،ت:جواد القيومي،نشر الفقاهة ـ قم،الطبعة الرابعة1431هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ