التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

سعید بن سنان ابومہدی

توفی ۱۶۸ ھایک روایت میں تذکرہ

سعید بن سنان ابومہدی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سعید بن سنان ابومہدی(توفی ۱۶۸ھ) کے بارے میں ائمہ کے اقوال:

امام ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ضَعِیفُ الحدیث، مُنْکَرُ الحدیث، یَرْوِي عن أبي الزاهریة، عن کثیر بن مُرَّة، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوٍ مِنْ ثلاثین حدیثاً أحادیثَ مُنْکَرَةً‘‘[11].

سعید بن سنان ’’ضعیف الحدیث‘‘(کلمہ جرح)، ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمہ جرح) ہے، جس نے اس سند سے یعنی ’’عن أبي الزاهریة، عن کثیر بن مُرَّة، عن ابن عمر، عن النبی صلى الله عليه وسلم‘‘ تقریباً تیس منکر حدیثیں نقل کی ہے۔

امام عبدالرحمن بن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’سألتُ أبا زُرْعَة عن سعید بن سِنان أبي مَهْدِي، فأومأ بیَدِه أنَّه ضَعِیفٌ‘‘[12].میں نے ابوزرعہ l سے ابومہدی سعید بن سنان کے بارے میں پوچھا تو انہو ں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ’’ ضعیف ‘‘ہے۔

حافظ یحیی بن مَعِین lفرماتے ہیں: سعید بن سنان ’’لیس بشيء‘‘     ہے[13]۔

حافظ یحیی بن مَعِینl ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’تلک لا یُعْتَبَرُ بها، هي بَوَاطِیل‘‘. سعید بن سنان کی ان روایتوں کا اعتبا ر نہیں ہے،یہ باطل ہیں[14]۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں : ابو مہدی سعید بن سنان ’’ضعیف‘‘ ہے[15]۔

امام بخاری l رقم طراز ہیں: سعید بن سنان ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمہ جرح) ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ سعید بن سنان ’’متروک الحدیث‘‘ (کلمہ جرح) ہے[16]۔

 احمد ابن عَدِی l فرماتے ہیں: ’’وعامة ما یَرْوِیه وخَاصَّةً عن أبي الزاهریة غیرُ محفوظة، ولو قُلنا: إنَّه هو الذي یَروِیه، عن أبي الزاهریة لا غیره، جاز ذلک لي، وکان مِنْ صَالِحِي أهل الشام وأفضِلهم، إلّا أنَّ في بعض روایاتِه مَا فیه‘‘[17].

سعید بن سنان کی اکثر روایات غیر محفوظ ہیں،اور خصوصاً وہ روایات جو ابو الزاہریہ سے مروی ہیں، اور اگر ہم یہ کہیں کہ ان روایتوں کو ابو زاہریہ  سے سعید بن سنان کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا، تو میرے لئے یہ کہنا جائز ہے، اور وہ شام کے نیک اور فضیلت والے لوگوں میں تھا، البتہ اس کی بعض روایتوں میں ’’کچھ‘‘ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l فرماتے ہیں: ’’أخافُ أن تکونَ أحادیثُه موضوعةً، لا تُشبهُ أحادیث الناس ...‘‘[18]. مجھے خوف ہے کہ سعید کی روایتیں من گھڑت ہیں، یہ روایتیں دوسرے لوگوں کی احادیث کے مشابہ نہیں ہیں۔۔۔‘‘۔

امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’متروک الحدیث‘‘[19]. سعید بن سنان ’’متروک الحدیث‘‘ (شدید جرح) ہے۔

اما م علی بن مَدِینی l فرماتے ہیں: ’’لا أعْرِفُه‘‘.[20] میں سعید کو نہیں پہچانتا۔

حافظ ابوبکر بن ابی خیثمہ l فرماتے ہیں: حَدَّثَنِي صاحبٌ لِي مِنْ بَنِي تَمِیمٍ، قال: قال أبو مُسْهِر: حدثنا صدقة بن خالد، قال: حدَّثني أبو مَهْدِي سعید بن سنان مؤذّن أهل حِمْصَ، وکان ثِقَةً مَرْضِیًّا‘‘[21].

ابوبکر بن ابی خیثمہ l فرماتے ہیں کہ مجھے بنو تمیم کے ایک ساتھی نے کہا: ابو مسہر کا کہنا ہے کہ صدقہ بن خالد نے ہمیں احادیث بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے ابومہدی سعید بن سنان نے حدیث بیان کی ہے،اور یہ سعید بن سنان حمص والوں کے موذن اور ثقہ، پسندیدہ شخص ہیں۔

حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں: ’’متروک، ورَمَاه الدَّارَقُطْنِي وغیره بالوَضْعِ‘‘[22].

سعید بن سنان’’متروک‘‘ راوی ہے،اور دارَ قُطْنِی l وغیرہ نے سعید بن سنان کو وضعِ حدیث میں متّہم قرار دیا ہے۔

حافظ ذَہَبِی lفرماتے ہیں: ’’زاهدٌ، ضعیفُ الحدیث‘‘[23].

سعید بن سنان زاہد، ’’ضعیف الحدیث‘‘ (کلمہ جرح) راوی ہے۔

البتہ حافظ ذَہَبِی l نے ایک دوسرے مقام پر،سعید بن سنان کو ’’متروک‘‘ (شدید جرح) راوی کہا ہے،چنانچہ حافظ ذَہَبِی l ’’تَلْخِیْصُ الموضوعات‘‘[24] میں، حضرت ابن مسعودr کی روایت: ’’سَمِعَ رَجُلاً یُغَنِّي مِنَ اللَّیل فقال: لا صلاةَ له حتی مثلها ثلاثَ مَرَّاتٍ‘‘. کے تحت لکھتے ہیں:

’’فیه سعیدُ بن سِنان، متروک، عن أبي الزاهریة، عن کثیر بن مُرَّوة، عن الربیع بن خیثم، عن ابن مسعود‘‘.

اس حدیث میں سعید بن سنان ’’متروک‘‘ (شدید جرح)راوی ہے، جو ابو الزاہریۃ، عن کثیر بن مرہ، عن ربیع بن خیثم عن ابن مسعودکی سند سے اس روایت کو بیان کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[11] الجرح التعديل:4/28،رقم:5233،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ.  .

[12] المصدر السابق .

[13] المصدر السابق .

[14] تهذيب الكمال:7/228،رقم:2277،رقم:6186،ت:الشيخ أحمد علي وحسن أحمد،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة۱۴14هـ .

[15] الكامل في الضعفاء:4/399،رقم:801،ت:الشيخ عادل، والشيخ علي محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .

[16] المصدر السابق .

[17] المصدر السابق .

[18] تهذيب الكمال:7/228،رقم:2277،رقم:6186،ت:الشيخ أحمد علي وحسن أحمد،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة۱۴14هـ .

[19] المصدر السابق .

[20] المصدر السابق .

[21] المصدر السابق .

[22] التقريب:237،رقم:2333،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الرابعة۱۴۱۱هـ .

[23] الكاشف:۱/363،رقم:1925،ت:عزت علي عيد عطية وموسى محمد علي الموشي،دار الكتب الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1392هـ .

[24] تلخيص الموضوعات:292،رقم:795،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ