التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

حمید الطویل

ایک روایت میں تذکرہ

حمید الطویل کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود حمید الطویل کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

محمد بن زُرَیْق کے شیخ حمید الطویل کو حافظ ذہبی l نے  ’’میزان الاعتدال‘‘[8] میں اور ان کی اتباع میں حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’لسان المیزان‘‘[9] میں مجہول قرار دیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l  ’’المغني‘‘[10] میں فرماتے ہیں:  ’’شيخ، لا يدرى من هو، روى عنه محمد بن زُرَيْق المَوْصِلِي‘‘. یہ شیخ ہے، اس کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کون ہے، اس سے محمد بن زُرَیْق مَوْصِلِی نے روایت کی ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l نے ’’تلخيص المتشابه‘‘[11] میں اور حافظ ابن ماکولاl نے  ’’الإكمال‘‘[12] میں حمید الطویل کو مجہول قرار دیا ہے، ’’تلخيص المتشابه‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:

 ’’ محمد بن زُرَيْق أبو الزاهد الموصلي، حدث عن حميد الطويل المعروف بالمُجَذَّع وليس بحميد بن تِيْرَوَيْه البصري، هذا آخر في عداد المجهولين، روى عن أبي الزاهد ابن أخيه يوسف بن المبارك القَلَّاس‘‘ .

 محمد بن زُرَیْق ابو زاہد مَوْصِلِی نے حمید الطویل جو اَلْمُجَذَّع سے مشہور ہے، سے روایت کی ہے، یہ (مروی عنہ) حمید بن تِیْرَوَیْہ بصری نہیں ہے، یہ حمید الطویل مجہول راویوں میں شمار ہوتے ہیں، یہ ابو زاہد اپنے بھائی کے بیٹے یوسف بن مبارک قلاس سے احادیث نقل کرتا ہے۔

حوالہ جات

[8]  ميزان الاعتدال:۱/۶۱۷،رقم:۲۳۵۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[9] لسان الميزان:۳/۳۰۳،رقم:۲۸۱۸،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائرالإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[10] المغني في الضعفاء:1/289،رقم:1792،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .

[11] تلخيص المتشابه في الرسم:۱/۲۸۷،رقم:۴۵۰،ت:سكينة الشهابي ـ دمشق،الطبعة الأولى۱۹۸۵ء .

[12] الإكمال في رفع الإرتياب:4/58،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ