اس روایت کی تحقیق سے
روایت : ’’ من زار العلماء فكأنما زارني، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني، ومن جالسني في الدنياأجلس إليّ يوم القيامة‘‘.
ترجمہ: جس نے علماء کی زیارت کی،گویا کہ اس نے میری زیارت کی،جس نے علماء سے مصافحہ کیا، گویا کہ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا،جس نے علماء کی ہم نشینی اختیارکی،گویا کہ اس نے میری ہم نشینی اختیار کی،اور جس نے دنیا میں میری ہم نشینی اختیار کی اللہ تعالی آخرت میں اسے میری ہم نشینی عطا فرمائیں گے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)حفص بن عمر بن میمون کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن ابی حاتمl فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عنه فقال: كان شيخا كذابا‘‘[30].حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے حفص کے بارے میں سوال کیاتو انہوں نے فرمایا:یہ شیخ کذاب ہے۔
امام عقیلی l فرماتے ہیں: ’’وحفص بن عمر هذا يحدث عن شعبة، ومِسْعَر، ومالك بن مِغْوَل، والأئمة بالبواطيل‘‘.[31] یہ حفص بن عمر،شعبہ،مِسْعَر، مالک بن مِغْوَل اور ائمہ کے انتساب سے باطل روایتیں نقل کرتا ہے۔
حافظ ابن عدی l لکھتے ہیں:’’حفص بن عمر بن ميمون العدَني الملقب فرْخ يكنى أبا إسماعيل مولى علي بن أبي طالب رضي الله عنه . . .‘‘ .
ان کی بہت سی روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’وهذه الأحاديث عن الحكم بن أبان يرويها عنه حفص بن عمر العدَني، والحكَم بن أبان وإن كان فيه لين فإن حفص هذا ألين منه بكثير، والبلاء من حفْص لا من الحكَم ‘‘[32].
ان روایات کو ’’حکم بن ابان‘‘سے نقل کرنے والے ’’حفص بن عمر العدنی‘‘ہیں، اور حکم بن ابان اگرچہ ان میں’’ لین‘‘(ہلکی جرح) ہے،لیکن حفص میں ان سے زیادہ ’’لین‘‘ہے، اور بلاء، حفص کی وجہ سے ہے نہ کہ ’’حَکَم‘‘ کی وجہ سے۔
حافظ ذہبی l نے: ’’الکاشف‘‘[33]میں لکھاہے: ’’ضعّفوه،ق‘‘ (جرح)۔
ان کے حالات ’’تہذیب الکمال‘‘ میں بہت تفصیل سےموجود ہیں[34]۔
حوالہ جات
[30] الجرح والتعديل:۳/ ۱۸۳، رقم: ۷۸۹، بمطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية- حيدر آباد دكن، ط:۱۳۷۱ هـ .
[31] الضعفاء الكبير:۱/ ۲۷۵، رقم:۳۳۹، ت:عبدالمعطی أمین قلعجی، دار الكتب العلمية– بيروت،ط: ۱۴۱۸ هـ .
[32] الكامل في الضعفاء:۲ /۳۸۵،رقم:۵۰۸/ ۱۳۹ ت: يحيى مختار غزاوي، دار الفكر– بيروت، ط:۱۴۰۹ هـ .
[33] الكاشف: ۱/ ۳۴۲ رقم:۱۱۵۹، ت: محمد عوامة، دار القبلة للثقافة الإسلامية– جدة، ط: ۱۴۱۳ هـ .
[34] تهذيب الكمال:۷ /۴۲،رقم:۱۴۰۵ ت: بشار عواد معروف، مؤسسة الرسالة– بيروت، ط: ۱۴۰۰ هـ .