التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

حفص بن عمر بن میمون

ایک روایت میں تذکرہ

حفص بن عمر بن میمون کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

حفص بن عمر بن میمون کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن ابی حاتمl فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عنه فقال: كان شيخا كذابا‘‘[30].حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے حفص کے بارے میں سوال کیاتو انہوں نے فرمایا:یہ شیخ  کذاب ہے۔

امام عقیلی l فرماتے ہیں: ’’وحفص بن عمر هذا يحدث عن شعبة، ومِسْعَر، ومالك بن مِغْوَل، والأئمة بالبواطيل‘‘.[31] یہ حفص بن عمر،شعبہ،مِسْعَر، مالک بن مِغْوَل اور ائمہ کے انتساب سے باطل روایتیں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l لکھتے ہیں:’’حفص بن عمر بن ميمون العدَني الملقب فرْخ يكنى أبا إسماعيل مولى علي بن أبي طالب رضي الله عنه . . .‘‘ .

ان کی بہت سی روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

 ’’وهذه الأحاديث عن الحكم بن أبان يرويها عنه حفص بن عمر العدَني، والحكَم بن أبان وإن كان فيه لين فإن حفص هذا ألين منه بكثير، والبلاء من حفْص لا من الحكَم ‘‘[32].

ان روایات کو ’’حکم بن ابان‘‘سے نقل کرنے والے ’’حفص بن عمر العدنی‘‘ہیں، اور حکم بن ابان اگرچہ ان میں’’ لین‘‘(ہلکی جرح) ہے،لیکن حفص میں ان سے زیادہ ’’لین‘‘ہے، اور بلاء، حفص کی وجہ سے ہے نہ کہ ’’حَکَم‘‘ کی وجہ سے۔

حافظ ذہبی l نے: ’’الکاشف‘‘[33]میں لکھاہے: ’’ضعّفوه،ق‘‘ (جرح)۔

ان کے حالات ’’تہذیب الکمال‘‘ میں بہت تفصیل سےموجود ہیں[34]۔

حوالہ جات

[30] الجرح والتعديل:۳/ ۱۸۳، رقم: ۷۸۹، بمطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية- حيدر آباد دكن، ط:۱۳۷۱ هـ .

[31] الضعفاء الكبير:۱/ ۲۷۵، رقم:۳۳۹، ت:عبدالمعطی أمین قلعجی، دار الكتب العلمية– بيروت،ط: ۱۴۱۸ هـ .

[32] الكامل في الضعفاء:۲ /۳۸۵،رقم:۵۰۸/ ۱۳۹ ت: يحيى مختار غزاوي، دار الفكر– بيروت، ط:۱۴۰۹ هـ .

[33] الكاشف: ۱/ ۳۴۲ رقم:۱۱۵۹، ت: محمد عوامة، دار القبلة للثقافة الإسلامية– جدة، ط: ۱۴۱۳ هـ .

[34]  تهذيب الكمال:۷ /۴۲،رقم:۱۴۰۵ ت: بشار عواد معروف، مؤسسة الرسالة– بيروت، ط: ۱۴۰۰ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ