اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’إن يمين ملائكة السماء: والذي زيَّن الرجال باللُحى، والنساء بالذوائب‘‘.
ترجمہ: آسمان کے فرشتے اپنی قسم میں یہ الفاظ کہتے ہیں:قسم ہے اس ذات کی جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی، اور عورتوں کو مینڈھیوں سے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)حسین بن داؤد بن معاذ بلخی (المتوفی ۲۸۲ ھ)کے بارے میں ائمہ کے اقوال
حافظ خطیب بغدادی l
خطیب بغدادی l ’’تاریخ بغداد‘‘[6]میں ’’حسین بن داؤد بلخی‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ولم يكن الحسين بن داود ثقة، فإنه روى نسخة عن يزيد بن هارون، عن حميد، عن أنس، أكثرها موضوع‘‘ .حسین بن داؤد ثقہ نہیں ہے،کیونکہ اس نے یزید بن ہارون عن حمید عن انس r كى سند سے اىك نسخہ نقل کىا ہے،جس کی اکثر روایات من گھڑت ہیں۔
حافظ ابن جوزیl
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[7]میں نقل کرتے ہیں: ’’قال الأزدي: كذاب، ساقط‘‘.ازدی l فرماتے ہیں:حسین بن داؤد جھوٹا، ساقط ہے۔
حافظ ذہبیl
حافظ ابن عراق l
’’تنزيه الشريعة‘‘[10]کے مقدمہ میں وضاعین کی فہرست میں ابن عرّاق l نے حسین بن داؤد کے بارے میں یہ کلمات نقل کیے ہیں:
’’قال الخطیب: حدیثه موضوع، وقال الحاکم: له عجایب یستدل بها على حاله‘‘.خطیب l نے کہا کہ اس کی حدیث گھڑی ہوئی ہے، اور امام حاکم lنے فرمایا کہ ان سے عجیب روایتیں منقول ہیں،ان روایتوں سے حسین بن داؤد کی حالت پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔
حوالہ جات
[6] تاريخ بغداد: ۸/۵۷۶ ، رقم:۴۰۵۳،ت: بشارعوادمعروف.ط: دار الغرب الإسلامي– بيروت، ط:۱۴۲۲ هـ .
[7] الضعفاء والمتروكين: من اسمه حسین، ۱/ ۲۱۸، رقم: ۹۱۴، ت: عبد الله القاضي، دار الكتب العلمية– بیروت، ط:۱۴۰۶ هـ .
[8] تاريخ الإسلام:۲۱/ ۱۵۹، رقم:۲۲۵، ت: عمر عبدالسلام تدمري، دار الكتاب العربي– بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .
[9] المغني في الضعفاء: ص:۲۶۰،رقم: ۱۵۷۳، ت: نورالدين عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[10] تنزيه الشریعة: ۱/ ۵۲،رقم: ۱۰، ت: عبد الله الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت ،ط:۱۴۰۱ هـ .