التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

حسین بن دا ؤ د بن معاذ بلخی

المتوفی ۲۸۲ ھایک روایت میں تذکرہ

حسین بن دا ؤ د بن معاذ بلخی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

حسین بن داؤد بن معاذ بلخی (المتوفی ۲۸۲ ھ)کے بارے میں ائمہ کے اقوال

حافظ خطیب بغدادی l 

خطیب بغدادی l ’’تاریخ بغداد‘‘[6]میں ’’حسین بن داؤد بلخی‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ولم يكن الحسين بن داود ثقة، فإنه روى نسخة عن يزيد بن هارون، عن حميد، عن أنس، أكثرها موضوع‘‘ .حسین بن داؤد ثقہ نہیں ہے،کیونکہ اس نے یزید بن ہارون عن حمید عن انس r كى سند سے اىك نسخہ نقل کىا ہے،جس کی اکثر روایات من گھڑت ہیں۔

حافظ ابن جوزیl 

حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[7]میں نقل کرتے ہیں: ’’قال الأزدي: كذاب، ساقط‘‘.ازدی l فرماتے ہیں:حسین بن داؤد جھوٹا، ساقط ہے۔

حافظ ذہبیl 

حافظ ذہبی l ’’تاریخ الإسلام‘‘[8] میں فرماتےہیں : ’’نزيل نيسابور، وأحد المتروكين‘‘.’’نیشاپور میں آیا ہےاور متروکین میں سےایک تھا‘‘ (شدید جرح)۔

اسی طرح حافظ ذہبی l ’’المغنی‘‘[9]میں فرماتے ہیں: ’’متهم بالكذب‘‘ .حسین بن داؤد متہم بالکذب ہے (شدید جرح)۔

حافظ ابن عراق l 

’’تنزيه الشريعة‘‘[10]کے مقدمہ میں وضاعین کی فہرست میں ابن عرّاق l نے حسین بن داؤد کے بارے میں یہ کلمات نقل کیے ہیں:

’’قال الخطیب: حدیثه موضوع، وقال الحاکم: له عجایب یستدل بها على حاله‘‘.خطیب l نے کہا کہ اس کی حدیث گھڑی ہوئی ہے، اور امام حاکم lنے فرمایا کہ ان سے عجیب روایتیں منقول ہیں،ان روایتوں سے حسین بن داؤد کی حالت پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

[6]  تاريخ بغداد: ۸/۵۷۶ ، رقم:۴۰۵۳،ت: بشارعوادمعروف.ط: دار الغرب الإسلامي–  بيروت، ط:۱۴۲۲ هـ .

[7] الضعفاء والمتروكين: من اسمه حسین، ۱/ ۲۱۸، رقم: ۹۱۴، ت: عبد الله القاضي، دار الكتب العلمية– بیروت، ط:۱۴۰۶ هـ .

[8] تاريخ الإسلام:۲۱/ ۱۵۹، رقم:۲۲۵، ت: عمر عبدالسلام تدمري، دار الكتاب العربي– بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .

[9]  المغني في الضعفاء: ص:۲۶۰،رقم: ۱۵۷۳، ت: نورالدين عتر، دار إحیاءالتراث العربی–  بيروت، ط: ۱۹۸۷م .

[10]  تنزيه الشریعة: ۱/ ۵۲،رقم: ۱۰، ت: عبد الله الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت ،ط:۱۴۰۱ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ