اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’جب رسول اللہ ﷺ مسواک کرتے تو فرماتے: ’’اللّهم اجعل سواكي رضاك عني، واجعله طهورا وتمحيصا، وبيض به وجهي كما تبيض به أسناني‘‘. اے اللہ! میری مسواک کو میری طرف سے اپنی رضا کا سبب بنا، اور اسے پاکی اور گناہوں سے صفائی کا ذریعہ بنا، اور اس کے ذریعہ سے میرے چہرے کو ایسے چمکا دے جیسے اس کے ذریعہ سے میرے دانتوں کو چمکاتے ہیں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی حسن بن سہل بن ابان بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بیہقی l ’’القراءة خلف الإمام‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’قال: لنا أبو عبد الله: فسمعت أبا أحمد الحافظ يقول: كان عبد الله بن محمد بن يعقوب الأستاذ ينسج الحديث، قال: ولست أرتاب فيما ذكره أبو أحمد من حاله، فقد رأيت في حديثه عن الثقات من الأحاديث الموضوعة ما يطول بذكره الكتاب، وليس يخفى حاله على أهل الصنعة .
قال: وأرى جماعة من المتروكين يلتجئون في هذه المناكير والموضوعات إلى الحسن بن سهل البصري عن قطن بن صالح الدمشقي، ولم يخرج لنا حديثهما عن الثقات، فكنا نقف على حالهما، ثم ذكر شيخنا أبو عبد الله من منكرات حديثهما ما يستدل به على حالهما في الجرح، وقد ذكر من جمع في هذه المسألة أخبارا رواية عبد الله بن محمد، وذكرها أيضا عن أحمد بن محمد بن ياسين، عن الحسن بن سهل، وهي إن سلمت من عبد الله الأستاذ، فلن تسلم من الحسن بن سهل، فآثار الوضع ظاهرة على رواياته، والله المستعان‘‘.
ہمیں ابو عبد اللہ l نے فرمایا: میں نے ابو احمد l سے سنا، وہ فرما رہے تھے: استاذ عبد اللہ بن محمد بن یعقوب حدیث بُنتا تھا، ابو عبد اللہ (یعنی حاکم l) فرماتے ہیں: اور ابو احمد l نے جو اس کی حالت ذکر کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ میں نے اس کی حدیث میں ثقات کے انتساب سے من گھڑت احادیث دیکھی ہیں، جن کے ذکر کرنے سے کتاب طویل ہوجائے گی، اور اہل صناعت پر اس کی حالت مخفی نہیں ہے۔
حاکم l فرماتے ہیں: اور میں متروک راویوں کی ایک جماعت کو دیکھتا ہوں کہ وہ ان مناکیر اور من گھڑت احادیث میں حسن بن سہل بصری، عن قطن بن صالح دمشقی کی پناہ لیتے ہیں، اور (امام بیہقی l فرماتے ہیں) ہمیں حاکم l نے ان دونوں کی حدیثیں ثقات کے انتساب سے تخریج نہیں کیں، سو ہم ان کی حالت سے واقف ہوگئے، پھر ہمارے شیخ ابو عبد اللہl نے ہمیں ان دونوں کی ایسی منکر حدیثیں ذکر کیں جن کے ذریعہ سے جرح میں ان کی حالت پر استدلال کیا جاتا ہے، اور شیخ ابو عبد اللہl نے ان لوگوں کو ذکر کیا جنہوں نے اس مسئلہ میں عبد اللہ بن محمد کی روایت سے اخبار جمع کی ہیں، انہوں نے احمد بن محمد بن یاسین، عن حسن بن سہل کے طریق سے بھی ان روایات کو ذکر کیا، اور وہ روایات اگر عبد اللہ استاذ سے محفوظ ہوں، تو حسن بن سہل سے محفوظ نہیں، کیونکہ اس کی روایات میں وضع کے آثار واضح ہیں، واللہ المستعان۔
حوالہ جات
[25] كتاب القراءة خلف الإمام:ص:178،رقم:388،ت:محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .