التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث کلاباذی حنفی بخاری حارثی سبذمونی المعروف بعبد اللہ الاستاذ

۲۵۸ھ / ۳۴۰ ھایک روایت میں تذکرہ

ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث کلاباذی حنفی بخاری حارثی سبذمونی المعروف بعبد اللہ الاستاذ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث کلاباذی حنفی بخاری حارثی سبذمونی المعروف بعبد اللہ الاستاذ (۲۵۸ھ/۳۴۰ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[8]۔

حافظ ذہبی l ’’سير أعلام النبلاء‘‘[9] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ابن مندة يحسن القول فيه‘‘. اور ابن مندہ l اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[10] میں حافظ ابو الفضل احمد بن علی سلیمانی l کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’كان يضع هذا الإسناد على هذا المتن، وهذا المتن على هذا الإسناد، وهذا ضرب من الوضع‘‘. یہ اِس اسناد کو اُس متن پر، اور اِس متن کو اُس اسناد کے ساتھ جوڑ دیتا تھا، (حافظ ذہبی l) اور یہ بھی وضع کی ایک قسم ہے۔

امام حاکم l فرماتے ہیں: ’’هو صاحب عجائب عن الثقات‘‘[11].یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے عجائب لاتا ہے۔

حافظ خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’[له معرفة بهذا الشأن، وهو لين، ضعفوه]، سمع عبد الصمد بن الفضل البلخي، وأقرانه من شيوخ بلخ، وسمع ببخارى، ونيسابور، والعراق، يأتي بأحاديث يخالف فيها، [حدثنا عنه المَلَاحِمِي، وأحمد بن محمد بن الحسين البصير بعجائب، (وكان يذكر)]‘‘. ان کو اس فن کی معرفت تھی، اور یہ ’’لین‘‘ہے، محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے، اس نے بلخ کے شیوخ میں سے عبد الصمد بن فضل بلخی اور ان کے اقران سے سنا ہے، اور بخارا، نیشا پور اور عراق کے شیوخ سے سنا ہے، یہ ایسی احادیث لاتا ہے جن میں اس کی مخالفت کی جاتی ہے، ہمیں مَلَاحِمی اور احمد بن محمد بن حسین بصیر نے اس کے واسطہ سے عجائب بیان کئے ہیں، اور اس کا ذکر کیا جاتا تھا۔

امام بیہقی l ’’القراءة خلف الإمام‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’قال: لنا أبو عبد الله: فسمعت أبا أحمد الحافظ يقول: كان عبد الله بن محمد بن يعقوب الأستاذ ينسج الحديث، قال: ولست أرتاب فيما ذكره أبو أحمد من حاله، فقد رأيت في حديثه عن الثقات من الأحاديث الموضوعة ما يطول بذكره الكتاب، وليس يخفى حاله على أهل الصنعة .

قال: وأرى جماعة من المتروكين يلتجئون في هذه المناكير والموضوعات إلى الحسن بن سهل البصري عن قطن بن صالح الدمشقي، ولم يخرج لنا حديثهما عن الثقات، فكنا نقف على حالهما، ثم ذكر شيخنا أبو عبد الله من منكرات حديثهما ما يستدل به على حالهما في الجرح، وقد ذكر من جمع في هذه المسألة أخبارا رواية عبد الله بن محمد، وذكرها أيضا عن أحمد بن محمد بن ياسين، عن الحسن بن سهل، وهي إن سلمت من عبد الله الأستاذ، فلن تسلم من الحسن بن سهل، فآثار الوضع ظاهرة على رواياته،  والله المستعان‘‘.

ہمیں ابو عبد اللہ l نے فرمایا: میں نے ابو احمد l سے سنا، وہ فرما رہے تھے: استاذ عبد اللہ بن محمد بن یعقوب حدیث بُنتا تھا، ابو عبد اللہ (یعنی حاکم l) فرماتے ہیں: اور ابو احمد l  نے جو اس کی حالت ذکر کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ میں نے اس کی حدیث میں ثقات کے انتساب سے من گھڑت احادیث دیکھی ہیں، جن کے ذکر کرنے سے کتاب طویل ہوجائے گی، اور اہل صناعت پر اس کی حالت مخفی نہیں ہے۔

حاکم l فرماتے ہیں: اور میں متروک راویوں کی ایک جماعت کو دیکھتا ہوں کہ وہ ان مناکیر اور من گھڑت احادیث میں حسن بن سہل بصری، عن قطن بن صالح دمشقی کی پناہ لیتے ہیں، اور (امام بیہقی l  فرماتے ہیں) ہمیں حاکم l نے ان دونوں کی حدیثیں ثقات کے انتساب سے تخریج نہیں کیں، سو ہم ان کی حالت سے واقف ہوگئے، پھر ہمارے شیخ ابو عبد اللہl نے ہمیں ان دونوں کی ایسی منکر حدیثیں ذکر کیں جن کے ذریعہ سے جرح میں ان کی حالت پر استدلال کیا جاتا ہے، اور شیخ ابو عبد اللہl نے ان لوگوں کو ذکر کیا جنہوں نے اس مسئلہ میں عبد اللہ بن محمد کی روایت سے اخبار جمع کی ہیں، انہوں نے احمد بن محمد بن یاسین، عن حسن بن سہل کے طریق سے بھی ان روایات کو ذکر کیا، اور وہ روایات اگر عبد اللہ استاذ سے محفوظ ہوں، تو حسن بن سہل سے محفوظ نہیں، کیونکہ اس کی روایات میں وضع کے آثار واضح ہیں، واللہ المستعان۔

امام بیہقی l نے ’’الخلافيات‘‘[14] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن محمد بن یعقوب کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب عجائب، ومناكير وغرائب‘‘. یہ عجائب، مناکیر اور غرائب والا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[16] میں مزید فرماتے ہیں: ’’وليس بموضع الحجة‘‘. یہ حجت کے مقام پر نہیں ہے۔

حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن موثوقا به فيما ينقله، وله رحلة إلى العراق وخراسان، ثم خرج إليها على كبر السن، وذكره الحفاظ في تواريخهم، ووصفوه برواية المناكير والأباطيل‘‘. اور یہ جو چیزیں نقل کرتا ہے ان میں ثقہ نہیں ہے، اور اس نے عراق اور خراسان کی طرف سفر کیا، پھر عمر کے زیادہ ہونے کے باوجود یہ ان کی جانب گیا، اور حفاظ نے انہیں اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے، اور وہ اسے مناکیر اور اباطیل کی روایت سے موصوف کرتے ہیں۔

حافظ ابو بکر محمد بن موسی حازمیl ’’كتاب الفيصل‘‘[18] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب عجائب ومناكير‘‘.یہ عجائب اور مناکیر والا ہے۔

علامہ ابو سعید رواس lفرماتے ہیں: ’’كان يتهم بوضع الحديث‘‘[19]. یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

اہم نوٹ: علامہ ابو سعید رواس کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کون ہے، واللہ اعلم۔

علامہ محیی الدین ابو محمد عبد القادر قرشی حنفی l ’’الجواهر المضية‘‘[20] میں حافظ ابن جوزی l کے حوالے سے ابو سعید رواس کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’عبد الله بن محمد أكبر وأجل من ابن الجوزي ومن أبي سعيد الرواس‘‘. عبد اللہ بن محمد ، ابن جوزی اور ابو سعید رواس سے بڑے اور اجل ہیں۔

حافظ ذہبی l ’’سير أعلام النبلاء‘‘[21] میں عبد اللہ بن محمد بن یعقوب کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’الشيخ، الإمام، الفقيه، العلامة، المحدث، عالم ما وراء النهر‘‘.

پھر حافظ ذہبی l ان کے بارے میں حافظ ابن مندہ l ، حافظ ابو زرعہ l ، امام ابو عبد اللہ حاکم l اور حافظ خطیب بغدادی l کے اقوال ذکر کر کے فرماتے ہیں:

’’قد ألف مسندا لأبي حنيفة الإمام، وتعب عليه، ولكن فيه أوابد ما تفوه بها الإمام، راجت على أبي محمد‘‘. اس نے امام ابو حنیفہl کی مسند تالیف کی ہے، اور اس میں مشقت جھیلی ہے، لیکن اس میں ایسے اوابد لایا ہے جو امام (ابو حنیفہ l) کی فرمودہ نہیں ہیں، یہ ابو محمد (یعنی عبد اللہ بن محمد بن یعقوب حارثی) کی طرف لوٹتی ہیں۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[22]میں فرماتے ہیں: ’’يأتي بعجائب واهية‘‘. یہ واہی عجائب لاتا ہے۔

حافظ ناصر الدین دمشقی l ’’توضيح المشتبة‘‘[23] میں عبد اللہ بن محمد بن یعقوب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن ثقة‘‘. اور یہ ثقہ نہیں تھا۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[24] میں عبد اللہ بن محمد بن یعقوب بخاری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’نقل ابن الجوزي عن أبي سعيد الرواس أنه متهم بالوضع‘‘. ابن جوزی l نے ابو سعید رواس سے نقل کیا ہے کہ یہ متہم بالوضع ہے۔

حوالہ جات

[8] سؤالات حمزة بن يوسف السهمي للدار قطني وغيره من المشايخ:ص:229،رقم:318،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .

[9] سير أعلام النبلاء:15/424،رقم:237،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .

[10] ميزان الاعتدال:۲/۴۹۶،رقم:۴۵۷۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[11] انظر تاريخ الإسلام:7/738،رقم:317،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[12] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:3/972،رقم:899 ،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[13] كتاب القراءة خلف الإمام:ص:178،رقم:388،ت:محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[14] الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه:2/۴۸۲،رقم:۱۹۶۷،الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .

[15] تاريخ بغداد:۱۱/۳۴۹،رقم:۵۲۱۵،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[16] تاريخ بغداد:۱۱/۳۵۰،رقم:۵۲۱۵،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[17] الأنساب:۱/۱۹۶،رقم:۱۲۸،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .  

[18] كتاب الفيصل في علم الحديث أو الفيصل في مشتبه النسبة:۶/511،رقم:906،ت:سعود بن عبد الله بن بردي المطيري الديحاني،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .

[19] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزی:2/141،رقم:2118،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[20] الجواهر المضية في طبقات الحنفية:1/290،رقم:762،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،حيدر آباد الدكن .

[21] سير أعلام النبلاء:15/42۴،رقم:237،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .

[22] ديوان الضعفاء:ص:227،رقم:2297،ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[23] توضيح المشتبة:1/1۹۶،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[24] تنزيه الشريعة:۱/۷۵،رقم:۹۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ