التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

اسحاق بن ابراہیم طبری

ایک روایت میں تذکرہ

اسحاق بن ابراہیم طبری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

اسحاق بن ابراہیم طبری کے بارے میں ائمہ کاکلام

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.

حافظ دارقطنیl فرماتے ہیں : ’’منكر الحديث‘‘[3].

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں : ’’منكر الحديث جدا، يأتي عن الثقات الأشياء الموضوعات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب‘‘[4]. انتہائی منکرالحدیث ہے ،ثقات سے موضوعات نقل کرتا ہے، اس کی روایت کا لکھنا جائزنہیں سوائے تعجب کے ۔

امام ابوعبداللہ حاکم l فرماتے ہیں: ’’روى عن الفضل وابن عيينة أحاديث موضوعة‘‘ [5]. یہ فضل اور ابن عیینہ کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حوالہ جات

[3]  الضعفاءوالمتروكين:ص:۱۴۶،رقم:۹۸،ت:موفق بن عبدالله بن عبدالقادر،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة۱۴۰۴هـ .

[4]  المجروحين:۱/ ۱۳۸،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[5] لسان الميزان:۲/۳۰،رقم:۹۸۱،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ