اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’لوگوں کو قیامت کے دن ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)ابوحذیفہ اسحاق بن بِشْر بخاری (المتوفی:۲۰۶ھ)[27] کے بارے میں ائمہ کاکلام
امام مسلم l فرماتے ہیں : ’’ترك الناس حديثه‘‘ [28]. لوگوں (محدثین) نے اس کی احادیث کو ترک کردیاہے۔
حافظ ابو بکر بن ابی شیبہl فرماتے ہیں : ’’ كذاب‘‘[29]. یہ جھوٹا ہے۔
حافظ ابوالفتح ازدیl فرماتے ہیں : ’’متروك الحديث، ساقط، رمی بالكذب‘‘[30].
حافظ دارقطنیl فرماتے ہیں : ’’ كذاب، متروك‘‘[31]. اسحاق بن بشر جھوٹا ، متروک ہے۔
حافظ ذہبیl،اسحاق بن بشر کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’صاحب المبتدأ، مجمع على تركه، وقد اتهم بالكذب، وقال ابن المديني: كذاب‘‘[32]. یہ کتاب’’المبتداء‘‘ کے مصنف ہیں،اس کے ترک پر اتفاق ہے،اس پر جھوٹ کی تہمت ہے ،اور ابن مدینی l کہتے ہیں :یہ جھوٹا ہے۔
حوالہ جات
[27] واضح رہے کہ اسحاق بن بِشْر کے نام سے متعدد راوی ہیں جن پر ائمہ نے کلام کیا ہے ،ان میں تمییز کے لئے دیکھیں : لسان الميزان:۲/ ۴۴،رقم:۱۰۰۵.
[28] لسان الميزان:۲/۴۴،رقم:۱۰۰۵،ت:عبدالفتاح أبو غدة، دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳ هـ .
[29] لسان الميزان:۲/۴۴،رقم:۱۰۰۵،ت:عبدالفتاح أبوغدة، دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[30] تاريخ بغداد:۷/ ۳۳۶،رقم:۳۳۲۳،ت:دکتوربشارعوّاد،دارالغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۲۲هـ .
[31] الضعفاءوالمتروكين للدارقطني:ص:۱۴۲،رقم:۹۲،ت:موفق بن عبدالله،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة۱۴۰۴هـ .
[32] المغني في الضعفاء:۱/۱۱۷،رقم:۵۴۵،ت:نورالدین عتر،دارإحیاءالتراث العربی ـ بيروت،الطبعة ۱۹۸۷م .