اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’گوہ کا آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دینااور اعرابی کا مسلمان ہونا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)تاريخ دمشق کی سند میں موجود راوی احمد بن محمد بن عمران بن موسى يعرف بابن الجندی(المتوفى۳۹۶ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l لکھتے ہیں:
’’وكان يضعف في روايته، ويطعن عليه في مذهبه، سألت الأزْهَرِي عن ابن الجُنْدِي، فقال: ليس بشيء، وقال لي الأزْهَرِي أيضا: حضرت ابن الجُنْدِي وهو يقرأ عليه كتاب ’’ديوان الأنواع‘‘ الذي جمعه، فقال لي أبو عبد الله ابن الآبْنُوْسِي: ليس هذا سماعه، وإنما رأى نسخة على ترجمتها اسم وافق اسمه فادعى ذلك ..... قال العَتِيْقِي كان يرمى بالتشيع، وكانت له أصول حسان‘‘[22].
ان کی روایات میں ’’تضعیف‘‘کی گئی ہے،اور ان کے مذہب میں بھی طعن کیا گیا ہے،میں نے اَزْہَرِی سے ابن جُنْدِی کے بارے میں پوچھا،آپ نے ابن جُنْدِی کو ’’ليس بشیء‘‘ کہا،اور اَزْہَرِی نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں ابن جُنْدِی کے پاس گیا توان پر ان کا مجموعہ’’دیوان الانواع‘‘پڑھا جا رہا تھا،جس کے بارے میں ابو عبد اللہ ابن آبْنُوسِی نے مجھے بتایا کہ یہ ان کی اپنی سماعت نہیں ہے،بلکہ ابن جُنْدِی نے اپنے نام کے موافق ایک نسخہ دیکھا تو دعوی کر دیا کہ یہ اس کا نسخہ ہے ...عَتِیقِی کا کہنا ہے کہ ابن جُنْدِی تشیع سے متہم ہے،اور اس کے اچھے اصول ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[23] میں ابن جُنْدِی کے بارے میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن حجر l ’’لسان الميزان‘‘[24]میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’وقال العَتِيْقِي كان يرمي بالتشيع، وأورد ابن الجوزي في الموضوعات في فضل عَلِيٍّ حديثا بسند رجاله ثقات إلا الجندي فقال: هذا موضوع ولا يتعدي الجندي [ كذا في الأصل] ‘‘.
عَتِیقِی کا کہنا ہے کہ ابن جُنْدِی تشیع سے متہم ہے،نیز حافظ ابن جوزیl نے ’’موضوعات‘‘ میں ایک حدیث حضرت علی r کی فضیلت میں نقل کی ہے جس میں جُنْدِی کے علاوہ سب ثقہ راوی ہیں،چنانچہ حافظ ابن جوزی l (نقل روایت کے بعد) فرماتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے (جس میں وضع کی تہمت) جُنْدِی سے تجاوز نہیں کرتی۔
اس کے بعد حافظ ابن جوزی l،حافظ خطیب بغدادی l کا کلام لائے ہیں۔
حوالہ جات
[22] تاریخ بغداد: ۶/ ۲۴۴، رقم:۲۲۳۴ ، ت: بشّار عوّاد، دار الغرب الإسلامی ـ بیروت، الطبعة الأولی: ۱۴۲۲ هـ..
[23] میزان الاعتدال: أحمد بن محمد بن عمران،۱ /۱۴۷،رقم : ۵۷۵،ت: علی محمد البجاوی، دار المعرفة- بیروت.
[24] لسان الميزان:۱/ ۶۳۹، رقم:۷۸۹، ت: عبدالفتاح أبو غدة، دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .