اس روایت کی تحقیق سے
روایت: کسی عالم کی مجلس میں حاضر ہونا ایک ہزار جنازوں، ایک ہزار رکعتوں اور ایک ہزار مریضوں کی عیادت کرنے سے افضل ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)سند میں موجود راوی احمد بن عبداللہ بن خالد جُوَیبَاری کے بارے میں ائمہ کا کلام
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[9] میں فرماتے ہیں:
’’قال ابن عدي: كان يضع الحديث لابن كَرَّام على ما يريده ... قال ابن حبان: هو أبو علي الجويباري دجال من الدجاجلة ... وقال النسائي والدارقطني: كذاب، قلت: الجویباري ممن يضرب المَثَل بكذبه ... قال البيهقي: أما الجويباري، فإني أعرفه حق المعرفة بوضع الأحاديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد وضع عليه أكثر من ألف حديث‘‘.
ابن عدی l فرماتے ہیں کہ احمد جویباری، ابن کرّام کے لیے اس کی چاہت کے مطابق روایتیں گھڑتا تھا۔۔۔ اور ابن حبان l رقم طراز ہیں:
ابو علی، جویباری ہے، جو دجالوں میں سے بڑا دجال ہے۔۔۔ امام نسائی l
اور دار قطنی l نے جویباری کو کذاب کہا ہے، میں(یعنی حافظ ذہبی l ) کہتا ہوں کہ جویباری ان لوگوں میں سے ہے، جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے۔۔۔ امام بیہقی l فرماتے ہیں: میں خوب اچھی طرح اس کی معرفت رکھتا ہوں کہ جویباری رسول اللہ ﷺ پر حدیثیں گھڑتا ہے، اس نے ہزار سے زائد حدیثیں رسول اللہ ﷺ پر گھڑی ہیں۔
حوالہ جات
[9] ميزان الاعتدال:۱/۱۰۶،رقم:۴۲۱،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .