التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوصالح اسحاق بن نَجِیح مَلَطِی ازدی

ایک روایت میں تذکرہ

ابوصالح اسحاق بن نَجِیح مَلَطِی ازدی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابوصالح اسحاق بن نَجِیح مَلَطِی ازدی کے بارے میں ائمہ کا کلام

امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’إسحاق بن نجيح المَلَطِي من أكذب الناس...‘‘ [10]. اسحاق بن نَجِیح اکذب الناس ہے۔

امام یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’كذاب، عدو الله‘‘ [11]. یہ جھوٹا، اللہ کا دشمن ہے۔

امام علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’روى عجائب، وضعفه‘‘ [12] . یہ عجائبات نقل کرتا ہے، پھر اس کی تضعیف کی۔

امام ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l فرماتے ہیں: ’’غير ثقة، ولا من أوعية الأمانة‘‘[13].

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘[14].

امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘[15].

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي ذكرتها مع سائرالروايات عند إسحاق بن نجيح عمن روي عنه، فكلها موضوعات، وضعهاهو...‘‘[16]. ’’اسحاق بن نَجِیح كی  اپنے مروی عنہم سے یہ تمام حدیثیں، جن کو میں نے ذکر کیا ہے، اور دیگر روایتیں تمام تر من گھڑت ہیں، ان روایتوں کو اسحاق ہی نے گھڑا ہے۔۔۔ ‘‘ ۔

امام ابواحمد حاکم l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘ [17].

حافظ ابو سعید نقاش l فرماتے ہیں: ’’مشهور بوضع الحديث ‘‘ [18]. یہ احادیث تراشنے میں شہرت یافتہ ہے۔

حافظ ابن جوزی l فرماتے ہیں: ’’أجمعوا على أنه كان يضع الحديث‘‘[19]. محدثین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں : ’’فيه إسحاق بن نَجِيْح كذاب...‘‘[20]. اس میں اسحاق بن نَجِیح کذاب ہے۔

حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: ’’كذبوه‘‘[21]. محدثین نے اسے کذاب کہا ہے۔

حوالہ جات

[10] تهذيب الكمال:۲/۸۱ ،رقم:۳۸۲،ت:أحمدعلي وحسن أحمد،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴هـ .

[11] تهذيب الكمال:۲/۸۱، رقم:۳۸۲،ت:أحمد عـلي وحسن أحمد،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴هـ .

[12] تهذيب الكمال:۲/۸۱،رقم:۳۸۲،ت:أحمد علي وحسن أحمد،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴هـ .

[13] تهذيب الكمال:۲/۸۱،رقم:۳۸۲،ت:أحمد علي وحسن أحمد،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴هـ .

[14] تهذيب الكمال:۲/۸۱،رقم:۳۸۲،ت:أحمد علي وحسن أحمد،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴هـ .

[15] تهذيب الكمال:۲/۸۱ ،رقم:۳۸۲،ت:الشيخ أحمد علي وحسن أحمد،دارالفكرـ بيروت،الطبعة۱۴۱۴ هـ .

[16] الكامل في الضعفاء:۱/۵۴۰،رقم:۱۵۵،ت:الشيخ عادل والشيخ علي محمد،دارالكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[17] تهذيب التهذيب:۱/ ۱۲۹،ت:إبراهيم زيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[18] تهذيب التهذيب:۱/ ۱۲۹،ت:إبراهيم زيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[19] تهذيب التهذيب:۱/ ۱۲۹،ت:إبراهيم زيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[20] تلخيص كتاب الموضوعات:۳۰۵،رقم:۸۳۷ ت:عبدالرحمن محمدعثمان،المكتبة السلفية بالمدينة المنورة، الطبعة۱۳۸۶هـ .  

[21] التقريب:ص:۱۰۳،رقم:۳۸۸،ت:محمدعوامة،دارالرشدـ سوريا،الطبعة الرابعة۱۴۱۸هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ