التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو یعقوب اسحاق بن بِشْر بن مقاتل کاہلی کوفی

المتوفی ۲۲۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابو یعقوب اسحاق بن بِشْر بن مقاتل کاہلی کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو یعقوب اسحاق بن بِشْر بن مقاتل کاہلی کوفی (المتوفی ۲۲۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو جعفر محمد بن عبد اللہ بن سلیمان حضرمی مطین lفرماتے ہیں: ’’ما سمعت أبا بكر بن أبي شيبة كذب أحدا إلا إسحاق بن بشر الكاهلي، فإنه جاز به فقال لي: أبو يعقوب هذا كذاب‘‘[41].  میں نے ابو بکر بن ابی شیبہ l سے اسحاق بن بشر کے علاوہ کسی ایک کی بھی تکذیب نہیں سنی،ابو بکر بن ابی شیبہ l اس کے پاس سے گزرے تو انھوں نے مجھے کہا: یہ ابو یعقوب (یعنی اسحاق بن بشر ) جھوٹا ہے۔

حافظ ابو حفص فلاسl نے اسحاق بن بشر کو ’’متروك الحديث‘‘[42] کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ رازیl فرماتے ہیں:’’يضع الحديث، قد رأيته بالكوفة‘‘. حدیث گھڑتا تھا، میں نے اسے کوفہ میں دیکھا ہے[43]۔

حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعدیل‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’سئل أبي عنه فقال: كان يكذب، كان يقعد في طريق قبيصة، فإذا مررنا [به] قال: من أين جئتم؟ قلنا من عند قبيصة، قال: إن شئتم حدثتكم بما كتب عني أحمد بن حنبل، ولم يكتب عنه شيئا‘‘. میرے والد سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ جھوٹ بولتا تھا، یہ قبیصہ کے راستے میں بیٹھا کرتا تھا، جب ہمارا اس پر گزر ہوتا تو یہ کہتا: تم کہاں سے آرہے ہو؟ ہم کہتے کہ قبیصہ کے پاس سے آرہے ہیں، وہ کہتا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سناؤں جو احمد بن حنبلlنے مجھ سے لکھی ہے، حالانکہ احمد بن حنبلlنے اس سے کچھ نہیں لکھا۔   

حافظ موسی بن ہارون حمال l نے اسحاق بن بشر کو’’كذاب‘‘ کہا ہے[45]۔

حافظ عقیلی lنے ’’الضعفاء‘‘[46] میں اسحاق بن بشر کاہلی کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن  عدیl ’’الکامل‘‘[47] میں فرماتے ہیں: ’’وهو في عداد من يضع الحديث‘‘. اس کا شمار حدیث گھڑنے والوں میں ہوتا ہے۔

امام دارقطنیlنے’’الضعفاء‘‘[48]میں اسحاق بن بشر کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l’’تاريخ بغداد‘‘[49]میں اسحاق بن بشر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن مالك بن أنس، وأبي معشر نجيح، وكامل أبي العلاء وغيرهم من الرفعاء أحاديث منكرة‘‘. کاہلی، مالک بن انس، ابی معشر نجیح اور کامل ابو العلاء اور ان کے علاوہ بڑے لوگوں کے انتساب  سے منکر احادیث نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l نے ’’التمهيد‘‘[50] میں اسحاق بن بشر کاہلی کو ’’ضعيف، متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[51] میں ایک اور روایت کے تحت اسحاق بن بشر کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء‘‘[52] میں اسحاق بن بشر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن مالك وغيره أحاديث منكرة‘‘. مالک l اور ان کے علاوہ کے انتساب سے منکر احادیث نقل کرتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[53]میں لکھتے ہیں: ’’ كوفي، متروك، متهم، روى عن أبي معشر ونحوه نزكوه‘‘. کوفی متروک، متہم ہے، ابو معشر اور دیگر حضرات سے روایت کرتا ہے، محدثین نے اس پر تنقید کی ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’سير أعلام النبلاء‘‘[54] میں ابو حذیفہ کے ترجمہ میں اسحاق بن بشر کو ’’أحد الهلكى‘‘ اور ’’ديوان‘‘[55] میں ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ایک روایت کے تحت ’’الإصابة‘‘[56] اور ’’الغرائب الملتقطة‘‘[57]  میں اسحاق بن بشر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط  ابن العجمی l نے’’الكشف الحثيث‘‘[58] میں، اور علامہ ابن عراق l نے  ’’تنزيه الشريعة‘‘[59] میں اسحاق بن بشر کو وضاعین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[41] انظر الكامل في الضعفاء:1/555،رقم:172،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[42] انظر تاريخ بغداد:7/3۴۰،رقم:۳۳۲۴،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[43] سؤالات البرذعي:ص:390،رقم:921،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،إدارة الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[44] الجرح والتعدیل:2/214،رقم:734،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[45] انظر الكامل في الضعفاء:1/556،رقم:172،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[46] الضعفاء الكبير:1/98،رقم:115،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .

[47] الكامل في ضعفاء الرجال:1/558،رقم:172،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[48] الضعفاء والمتركون:ص:141،رقم:90 ،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[49] تاريخ بغداد:7/338،رقم:3324،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[50] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:15/71،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .

[51] ذخيرة الحفاظ:ص:2409،رقم:5584،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[52] الضعفاء والمتروکین:1/100،رقم:308،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .  

[53] المغني في الضعفاء:ص:106،رقم:546،ت:أبو الزهراء القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[54] سير أعلام النبلاء:9/479،رقم:177،ت:شعيب الأرنؤوط،موسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية1402هـ .

[55] ديوان الضعفاء:ص:27،رقم:325،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة، الطبعة1387هـ .

[56] الإصابة في تمييز الصحابة:6/407،رقم:8937،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[57] الغرائب الملتقطة:3/484،رقم:1161،ت:خيري حسيني جميل،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى1439هـ .

[58]  الكشف الحثيث:ص:63،رقم:119،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[59] تنزيه الشريعة:1/36، رقم:257،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ