التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو نضر کعب بن عمرو بن جعفر بن محمد بلخی مؤدب

المتوفی۳۹۱ھایک روایت میں تذکرہ

ابو نضر کعب بن عمرو بن جعفر بن محمد بلخی مؤدب کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو نضر کعب بن عمرو بن جعفر بن محمد بلخی مؤدب(المتوفی۳۹۱ھ) کے بارے میں  ائمہ رجال کا کلام

امام ابن ابی الفوارسl فرماتے ہیں: ’’كان كعب بن عمر البلخي المؤدب سيئ الحال في الحديث‘‘[3]. کعب بن عمر بلخی مؤدب حدیث میں ’’سیئ الحال‘‘ ہے۔

امام عتیقیl فرماتے ہیں: ’’فيه تساهل في الحديث‘‘[4]. حدیث کے معاملے میں اس میں تساہل ہے۔

حافظ خطیب بغدادیl’’تاريخ بغداد‘‘[5] میں فرماتے ہیں: ’’ كان غير ثقة‘‘. یہ ثقہ نہیں تھا۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا‘‘. اس نے حدیث گھڑی ہے۔

اس کے بعد حافظ ذہبی lحافظ خطیب بغدادی l کا قول لائے ہیں۔

نیز حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[7] میں ایک حدیث کے تحت کعب بن عمرو کو’’ متهم‘‘ قرار دیا ہے۔  

حوالہ جات

[3] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[4] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[5] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[6] تاريخ الإسلام:8/706،رقم:24،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[7] تلخيص الموضوعات:ص:289،رقم:784،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ