اس روایت کی تحقیق سے
روایت: چرخے کے کاتنے کی آواز پر کلمہ لا الہ الا اللہ کہنے کے برابر ثواب، اور عورت کے اپنے شوہر اور بچوں کےلئے کپڑا کاتنے پر ہر دھاگے کے بدلہ ایک ایک نور اور ہر کپڑے کے بدلہ ایک لاکھ بیس ہزار شہروں کا ملنا۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو نضر کعب بن عمرو بن جعفر بن محمد بلخی مؤدب(المتوفی۳۹۱ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام ابن ابی الفوارسl فرماتے ہیں: ’’كان كعب بن عمر البلخي المؤدب سيئ الحال في الحديث‘‘[3]. کعب بن عمر بلخی مؤدب حدیث میں ’’سیئ الحال‘‘ ہے۔
امام عتیقیl فرماتے ہیں: ’’فيه تساهل في الحديث‘‘[4]. حدیث کے معاملے میں اس میں تساہل ہے۔
حافظ خطیب بغدادیl’’تاريخ بغداد‘‘[5] میں فرماتے ہیں: ’’ كان غير ثقة‘‘. یہ ثقہ نہیں تھا۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا‘‘. اس نے حدیث گھڑی ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبی lحافظ خطیب بغدادی l کا قول لائے ہیں۔
نیز حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[7] میں ایک حدیث کے تحت کعب بن عمرو کو’’ متهم‘‘ قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[3] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[4] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[5] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[6] تاريخ الإسلام:8/706،رقم:24،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[7] تلخيص الموضوعات:ص:289،رقم:784،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .