روایت: چرخے کے کاتنے کی آواز پر کلمہ لا الہ الا اللہ کہنے کے برابر ثواب، اور عورت کے اپنے شوہر اور بچوں کےلئے کپڑا کاتنے پر ہر دھاگے کے بدلہ ایک ایک نور اور ہر کپڑے کے بدلہ ایک لاکھ بیس ہزار شہروں کا ملنا۔
حکم: شدید ضعیف ہے، حتی کہ حافظ ابن جوزی l فرماتے ہیں: ’’اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے، اور اس میں مجہول راوی ہیں‘‘، اور حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث غیر مرفوع ہونے کے ساتھ ساتھ باطل بھی ہے، اور اس کی سند میں ظلمات ہیں‘‘، نیز حافظ ابن حجر عسقلانی l اور علامہ ابن عراق l نے اس کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا ہے، بہر صورت اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
زیر بحث روایت دو طرق سے منقول ہے: 1روایت بطریق ابو نضر کعب بن عمر بلخی 2روایت بطریق عبد اللہ بن خلف بن عیسی مدائنی۔
روایت بطریق ابو نضر کعب بن عمر بلخی
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الطيوريات:2/550،رقم:470،ت:دسمان يحيى معالي،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴25هـ .
[2] بغية الطلب في تاريخ حلب:5/2182،ت:سهيل زكار،دار الفكر ـ بيروت.
[3] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[4] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[5] تاريخ بغداد:14/522،رقم:6916،ت: بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[6] تاريخ الإسلام:8/706،رقم:24،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[7] تلخيص الموضوعات:ص:289،رقم:784،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[8] العلل المتناهية:2/141،رقم:1040،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة ترجمان السنة ـ لاهور،الطبعة الأولى 1399هـ .
[9] أدب النساء:ص:281،رقم:236،ت:عبد المجيد تركي ،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
’’ادب النساء‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:’’وعن عائشة أنها نظرت إلى إمرأة، وفي يديها مغزل، وهي تغزل، فقالت لها: أبشري لما لك عند الله تعالى من الثواب، ولو علمت ذلك ما قعدت عن الغزل والنسج ليلا ونهارا، ثم قالت لها: لك بكل ثوب نسجته لنفسك أو لمن يلبسه، قصر في الجنة أوسع من المشرق إلى المغرب، ولك بكل خيط [تغزلينه] مائة وعشرون ألف مدينة، وإن صرير المغزل تفتح له سبع سماوات حتى ينتهي إلى العرش، فيكون له دوي كدوي النحل، وهو عند الله بمنزلة شهادة أن لا إله إلا الله، فلا يستقر ولا يسكن حتى ينتهي إلى الله تعالى، وينظر إليه، فيقول الله عز وجل له: مرحبا بك، فإني قد غفرت لصاحبتك، أشهدكم يا ملائكتي! أني قد غفرت لها ذنوبها، ولو كانت مثل زبد البحر، أو مثل رمل السيل، أو مثل رمل البحار‘‘.
[10] العلل المتناهية:2/142،رقم:1040،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة ترجمان السنة ـ لاهور،الطبعة الأولى 1399هـ .
[11] تلخيص العلل المتناهية:۱/867،رقم:597،ت:أبو عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة1400هـ .
[12] لسان المیزان:4/471،رقم:4219،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[13] تنزيه الشريعة:1/72،رقم47،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: عورت کو چرخے کے کاتنے کی آواز پر اللہ کے راستے میں تکبیر اور اپنا کاتا ہوا کپڑا شوہر کو پہنانے پر ہر ہر تانے بانے کے بدلے ایک لاکھ نیکیوں کا ملنا۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی بچہ کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنےلگے تو اس سے حساب معاف ہے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: حالت اسلام میں کسی شخص کے بچے کی ولادت ہو، پھر وہ لا الہ الا اللہ کہنے تک پہنچ جائے تو اللہ تعالی اس کے والدین کو جنت میں داخل فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جب کوئی شخص قبروں پر گزرتے ہوئے یہ کلمات کہے: ’’السلام على أهل لا إله إلا الله، من أهل لا إله إلا الله، يا أهل لا إله إلا الله! كيف وجدتم قول لا إله إلا الله؟ يا لا إله إلا الله بحق لا إله إلا الله، اغفر لمن قال لا إله إلا الله، واحشرنا في زمرة من قال لا إله إلا الله‘‘، تو اس کہنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، علیr نے پوچھا کہ اگر اس شخص کے گناہ اتنے نہ ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :اس کے والدین اور اس کے رشتہ دار اور عام مسلمانوں کے بھی معاف ہو جائیں گے‘‘۔