اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی والدہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا تو یہ اس کےلئے جہنم کی آگ سے پردہ ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو مقاتل حفص بن سلم فزاری سمر قندی (المتوفی ۲۰۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حا فظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[18] میں ابو درداء مروزی سے نقل فرماتے ہیں: ’’سألت أبا رجاء قتيبة بن سعيد عن حديث كور الزنابير، فقال: حدثنا أبو مقاتل السمرقندي، عن سفيان، عن الأعمش، عن أبي ظبيان، سئل علي [كذا في الأصل] عن كور الزنابير فقال: هم من صيد البحر، لا بأس به، قال: قلت: يا أبا مقاتل! هو موضوع، قال: بابا هو في كتابي، وتقول هو موضوع؟ قال: قلت: نعم، وضعوه في كتابك‘‘. میں نے ابو رجاء قتیبہ بن سعید l سے بھڑوں کے چھتے والی حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ روایت ابو مقاتل سمر قندی نے ہمیں سفیان، عن اعمش، عن ابی ظبیان کی سند سے بیان کی ہے، اس سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا کہ یہ سمندری شکار ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، قتیبہ l فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو مقاتل! یہ من گھڑت ہے، ابو مقاتل نے کہا: بابا، یہ میری کتاب میں ہے، اور تم کہتے ہو کہ یہ من گھڑت ہے؟ قتیبہ l فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، لوگوں نے آپ کی کتاب میں اسے گھڑا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l’’أحوال الرجال‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’ كان فيما حدثت ينشئ للكلام الحسن إسنادا‘‘. مجھے بیان کیا گیا ہے کہ یہ اچھے کلام کی سند بنا لیتا تھا۔
حافظ ابن ابی حاتم l نے ’’الجرح والتعدیل‘‘[20] میں ابو مقاتل سمر قندی کا ترجمہ قائم کرکے سکوت اختیار کیا ہے۔
امام ترمذیl ’’سنن‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’أخبرني موسى بن حزام، قال: سمعت صالح بن عبد الله يقول: كنا عند أبي مقاتل السمرقندي، فجعل يروي عن عون بن أبي شداد الأحاديث الطوال الذي كان يروي في وصية لقمان، وقتل سعيد بن جبير، وما أشبه هذه الأحاديث، فقال له ابن أخي أبي مقاتل: يا عم! لا تقل حدثنا عون، فإنك لم تسمع هذه الأشياء، قال: يا بني! هو كلام حسن‘‘.
مجھے موسی بن حزام نے بتایا کہ میں نے صالح بن عبد اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم ابو مقاتل سمر قندی کے پاس تھے، ابو مقاتل نے عون بن ابی شداد کے انتساب سے لمبی لمبی احادیث بیان کیں، جن میں وہ وصیت لقمان، قتل سعید بن جبیر اور ان جیسی احادیث بیان کرتے ہیں، اس پر ابو مقاتل کے بھتیجے نے کہا: اے چچا! آپ یہ مت کہیں کہ مجھے عون نے یہ حدیث بیان کی، کیونکہ آپ نے یہ چیزیں تو نہیں سنی، ابو مقاتل نے کہا: اے بیٹے! یہ اچھا کلام ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’ كان صاحب تقشف وعبادة، ولكنه يأتي بالأشياء المنكرة التي يعلم من كتب الحديث أنه ليس لها أصل يرجع إليه، سئل بن المبارك عنه فقال: خذوا عن أبي مقاتل عبادته وحسبكم، وكان قتيبة بن سعيد يحمل عليه شديدا، ويضعفه بمرة، وقال: كان لا يدري ما يحدث به، وكان عبد الرحمن بن مهدي يكذبه .
قال نصر بن الحاجب المروزي: ذكرت أبا مقاتل لعبد الرحمن بن مهدي فقال: والله! لا تحل الرواية عنه، فقلت له: عسى أن يكون كتب له في كتابه وجهل ذلك، فقال: يكتب في كتابه الحديث، فكيف بما ذكرت عنه أنه قال: ماتت أمي بمكة، فأردت الخروج منها، فتكاربت، فلقيت عبيد الله بن عمر فأخبرته بذلك، فقال: حدثني نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من زار قبر أمه كان كعمرة، قال: فقطعت الكراء وأقمت، فكيف يكتب هذا في كتابه؟ وكذلك وكيع بن الجراح كان يكذبه، [وليس لهذا الحديث أصل يرجع إليه]‘‘.
یہ ادنی حالت پر کفایت کرنے والا اور عبادت گزار تھا، لیکن یہ ایسی منکر اشیاء لاتا تھا کہ جن کے بارے میں کتبِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی ایسی کوئی اصل نہیں ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے، ابن مبارک lسے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ابو مقاتل سے اس کی عبادت لو، یہی تمہارے لئے کافی ہے، اور قتیبہ بن سعیدl اس پر شدید حمل کرتے تھے، اور اسے ضعیف بمرۃ قرار دیتے تھے، اور فرماتے تھے: یہ جانتا ہی نہیں کہ کیا بیان کر رہا ہے، اور عبد الرحمن بن مہدیl اسے جھوٹا کہتے تھے۔
نصر بن حاجب مروزی کہتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن مہدیl سے ابو مقاتل کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، میں نے ان سے کہا: شاید اس کی کتاب میں کوئی لکھ دیتا ہو اور اسے معلوم نہ ہو، تو عبد الرحمن بن مہدیl نے فرمایا: اس کی کتاب میں حدیث لکھ لی جاتی تھی، پھر آپ ان سے اسے روایت کرتے ہوئے کیا کہیں گے ابو مقاتل کا کہنا ہے کہ میری والدہ کا مکہ میں انتقال ہوگیا تو میں نے مکہ جانے کا ارادہ کرلیا، سو میں نے (سواری وغیرہ) کرائے پر لے لی، میں عبید اللہ بن عمر سے ملا تو میں نے اسے اس بارے میں بتایا، عبید اللہ بن عمر نے مجھے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر q سے روایت کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو یہ عمرہ کی طرح ہے، ابو مقاتل کہتے ہیں کہ میں نے کرایہ ختم کیا اور مقیم ہوگیا، تو یہ ابو مقاتل اپنی کتاب میں یہ کیسے لکھ رہا ہے؟ اور اسی طرح وکیع بن جراحl اسے جھوٹا کہتے تھے، اور اس حدیث کی ایسی کوئی اصل نہیں ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے۔
حا فظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[23] میں ابو مقاتل کے ترجمہ میں زیر بحث اور چند دیگر روایات ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں: ’’وأبو مقاتل هذا له أحاديث كثيرة، ويقع في أحاديثه مثل ما ذكرته أو أعظم منه، وليس هو ممن يعتمد على رواياته‘‘. اس ابو مقاتل کی بہت سی احادیث ہیں، اور اس کی احادیث میں وہ چیز واقع ہوتی ہے جو میں نے ذکر کی ہے یا اس بھی بڑھ کر ہیں، اور یہ اُن لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی روایت پر اعتماد کیا جاتا ہے۔
حافظ ابو الفضل احمد بن علی سلیمانی l فرماتے ہیں: ’’حفص بن سلم الفزاري صاحب كتاب العالم والمتعلم في عداد من يضع الحديث‘‘[24]. حفص بن سلم کتاب ’’العالم والمتعلم‘‘ کا مصنف ہے، یہ ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو حدیث گھڑتے ہیں۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن عبيد الله بن عمر وأيوب السختياني ومسعر وغيره بأحاديث موضوعة، كذبه وكيع بن الجراح بالكوفة‘‘. اس نے عبید اللہ بن عمر، ایوب سختیانی اور مسعر وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کی ہیں، وکیع بن جراح نے کوفہ میں اسے جھوٹا کہا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[26] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن أيوب السختياني، وعبيد الله بن عمر، ومسعر بالمناكير، تركه وكيع وكذبه‘‘. اس نے ایوب سختیانی، عبید اللہ بن عمر اور مسعر کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں، وکیع بن جراح نے اسے ترک کردیا اور اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
حافظ خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[27]میں فرماتے ہیں: ’’مشهور بالصدق والعلم، غير مخرج في الصحيح، سمع هشام بن عروة وسهيل بن أبي صالح وأقرانهما بالحجاز، وبالكوفة مسعرا والثوري، وبالبصرة سليمان التيمي وأقرانهم، وكان (ممن) يفتي في أيامه، وله في العلم والفقه محل، يعني بجمع حديثه‘‘. یہ صدق اور علم میں مشہور ہے، البتہ صحیح میں اس کی روایت تخریج نہیں کی گئی، اس نے ہشام بن عروہ، سہل بن ابی صالح اور ان کے اقران سے حجاز میں سنا ہے، کوفہ میں مسعر اور ثوری سے، بصرہ میں سلیمان تیمی اور ان کے اقران سے، اور یہ اپنے زمانہ میں فتوی دیتا تھا، اور اس کاعلم وفقہ میں مقام تھا، یعنی جمع حدیث میں۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[28] میں ابو مقاتل کو ’’متروك الحديث ‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l ’’إحكام النظر‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأبو مقاتل هذا منكر الحديث جدا‘‘. اور یہ ابو مقاتل منکر الحدیث جداً ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’وله مناكير‘‘. اس کی مناکیر ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ابو مقاتل سمر قندی کو ’’ميزان الاعتدال‘‘[31] میں ’’أحد التلفى‘‘، ’’المغني‘‘[32] میں ’’أحد المتروكين‘‘، ’’ديوان‘‘[33] میں ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص الموضوعات‘‘[34] میں ’’متهم‘‘کہا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl نے ’’التقريب‘‘[35] میں اسے ’’مقبول‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[36] میں ابو مقاتل حفص بن سلم کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’ كذبه وكيع وعبد الرحمن بن مهدي، وقال السليماني هو في عداد من يضع الحديث‘‘. وکیع l اور عبد الرحمن بن مہدی l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور سلیمانی l نے کہا ہے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو حدیث گھڑتے ہیں۔
حوالہ جات
[18] الكامل في ضعفاء الرجال:3/29۳،رقم:515،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[19] أحوال الرجال:ص:3۴۵،رقم:۳۷۹،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[20] الجرح والتعدیل:۳/۱۷۴،رقم:۷۴۸،وفيه أيضا:3/187،رقم:810 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۷۲هـ .
[21] سنن الترمذي:۵/۷۴۳،ت:إبراهيم عطوه عوض،مطبعة مصطفى البابي ـ مصر،الطبعة الثانية1395هـ .
[22] المجروحين:۱/۲۵۶،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[23] الكامل في ضعفاء الرجال:3/296،رقم:515،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[24] انظر ميزان الاعتدال:1/558،رقم:2120،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[25] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۳۰،رقم:۴۲،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[26] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:50،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[27] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:۳/۹۷۵،رقم:۹۰۴،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى 1409هـ .
[28] تذكرةالحفاظ:ص:32۸،رقم:8۲۵ ،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[29] إحكام النظر في أحكام النظر بحاسة البصر:ص:۳۵۹،رقم:1۹۳،ت:إدريس الصمدي،دار القلم ـ دمشق، الطبعة الأولى۱۴33هـ .
[30] تاريخ الإسلام:۵/۵۶،رقم:۹۰،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[31] ميزان الاعتدال:4/577،رقم:10634،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[32] المغني في الضعفاء:۲/۶۱۳،رقم:۷۷۵۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[33] ديوان الضعفاء:ص:۹۴،رقم:۱۰۵۰،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة 1387هـ .
[34] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:34۶،رقم:94۱،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[35] تقريب التهذيب:ص:۶۷۵،رقم:۸۳۸۹ ،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[36] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۵۴،رقم:۳۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .