اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے، میں اس کے ترازو کے پاس کھڑا رہوں گا، اگر اس کی نیکیاں بڑھ گئیں تو بہت ہی اچھا، نہیں تو میں اس کی سفارش کروں گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو محمد عبد اللہ بن ابراہیم بن ابی عمرو غفاری مدنی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام ابوداؤد l نے ’’سنن‘‘[3] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کو ’’شيخ، منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[4] میں امام ابو داؤد l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے اسے ’’منكر الحديث‘‘[5] کہا ہے۔
حافظ دار قطنی l فرماتے ہیں:’’حديثه منكر‘‘[6]. اس کی حدیث منکر ہے۔
حافظ ابو سعید نقاش l فرماتے ہیں:’’يروي أحاديث موضوعة، وقال: لا يرويها عنهم غيره‘‘[7]. من گھڑت حدیثیں نقل کرتا ہے، اور وہ مزید فرماتے ہیں:ان سے اس کے علاوہ ان موضوعات کو کوئی دوسرا نقل نہیں کرتا۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يغلب على حديثه الوهم‘‘. اس کی حدیثوں میں وہم کا غلبہ تھا[9]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يأتي عن الثقات المقلوبات، وعن الضعفاء الملزقات‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں کے انتساب سے مقلوبات لاتے ہیں، اور ضعفاء کے انتساب سے ملزق روایات نقل کرتے ہیں۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے ایک حدیث تخریج کی، پھر فرماتے ہیں: ’’وهذا خبر باطل، فلست أدري البلية فيه منه، أو من عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، على أن عبد الرحمن ليس هذا من حديثه بمشهور، فكأن القلب إلى أنه من عمل عبد الله بن أبي عمرو أميل‘‘. یہ خبر باطل ہے، معلوم نہیں کہ اس میں ’’بلاء‘‘ عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کی جانب سے ہے، یا عبد الرحمن بن زید بن اسلم کی جانب سے، اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ اس کا عبد الرحمن کی حدیث میں سے ہونا مشہور نہیں ہے، سو گویا کہ دل اس بات کی جانب زیادہ مائل ہے کہ یہ عبد اللہ بن ابی عمرو کا کام ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[11] میں عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’ولعبد الله بن إبراهيم غير ما ذكرنا من الحديث عمن يرويه عنه، وعامة ما يرويه لا يتابعه الثقات عليه‘‘. اور عبد اللہ بن ابراہیم کی اپنے مروی عنہم سے مذکورہ احادیث کے علاوہ احادیث بھی ہیں، اور اکثر جو یہ روایت کرتا ہے اس پر ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے۔
حافظ ابن عدی l ہی ’’الكامل‘‘[12] میں ایک دوسرے مقام پر ہارون بن ہارون ہدیر کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا لعل البلاء فيه من عبد الله بن إبراهيم الغفاري، لا من هارون بن هارون‘‘. اور ممکن ہے کہ اس میں ’’بلاء‘‘عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کی جانب سے ہو، نہ کہ ہارون بن ہارون کی جانب سے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l فرماتے ہیں: ’’عبد الله يروي عن جماعة من الضعفاء أحاديث موضوعة‘‘[13]. عبد اللہ بن ابراہیم ضعفاء کی ایک جماعت سے من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے۔
حافظ ابو نعیم l ’’المسند المستخرج‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’يروي أحاديث منكرة، روى عنه مسلمة بن قعنب وغيره، لا شيء‘‘. یہ منکر احادیث روایت کرتا ہے، اس سے مسلمہ بن قعنب وغیرہ نے روایت کیا ہے، یہ ’’لا شیء‘‘ ہے۔
حافظ شمس الدین ابن عبد الہادی حنبلی l ’’الصارم المنكي‘‘[15] میں عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو شيخ، ضعيف الحديث جدا، منكر الحديث، وقد نسبه بعض الأئمة إلى الكذب، ووضع الحديث، نعوذ بالله من الخذلان‘‘. اور یہ شیخ ہے، ضعیف الحدیث جداً ہے، منکر الحدیث ہے، اور بعض ائمہ نے اسے جھوٹ بولنے اور حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے، ہم ذلت سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[16] میں فرماتے ہیں:’’شيخ ابن عرفة، متهم بالوضع‘‘. یہ ابن عرفہ کا شیخ ہے، یہ متہم بالوضع ہے۔
حافظ ذہبی l ہی نے عبد اللہ بن ابراہیم کو ’’الكاشف‘‘[17] میں ’’متهم‘‘ اور ’’المهذب‘‘[18] میں ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[19]میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الأمالي المطلقة‘‘[20] میں عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ونسبه ابن حبان إلى الوضع‘‘. یہ متروک ہے، ابن حبان l نے حدیث گھڑنے کی طرف اس کی نسبت کی ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[22] میں عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کو ذکر کرکے حافظ ابن حبان l اور امام ابو عبد اللہ حاکم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[23] میں عبد اللہ بن ابراہیم غفاری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حوالہ جات
[3] سنن أبي داود:7/215،رقم:4846،ت:شعيب الأرنؤوط،دار الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى ۱۴30هـ .
[4] السنن الكبرى للبيهقي:3/334،رقم:5916،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1424هـ .
[5] تهذيب التهذيب:5/138،مطبعة دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .
[6] ميزان الاعتدال:2/388،رقم:4190،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[7] إكمال تهذيب الكمال:7/227،رقم:2789،ت:أبي عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة للطباعة والنشر ـ القاهرة،الطبعةالأولى1422هـ .
[8] الضعفاء الكبير:۲/233،رقم:782،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[9] بعض مقامات پر حافظ عقیلی lکا ارشاد ان الفاظ سے ہے: ’’ كاد أن يغلب على حديثه الوهم‘‘. قریب ہے کہ اس کی حدیث پر وہم غالب آجائے۔ (إكمال تهذيب الكمال:7/227،رقم:2789،ت:أبي عبد الرحمن عادل بن محمد، الفاروق الحديثة للطباعة والنشر ـ القاهرة،الطبعةالأولى1422هـ).
[10] المجروحين:2/37،ت:محمودإبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲ هـ .
[11] الكامل في ضعفاء الرجال:5/319،رقم:1003،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[12] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۴۳۸،رقم:۲۰۴۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[13] ميزان الاعتدال:2/389،رقم:4190،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[14] المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم:1/۷۰،رقم:۱۱۴،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[15] الصارم المنكي في الرد على السبكي:ص:41،ت:أبو عبد الرحمن السلفي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴24 هـ .
[16] المغني في الضغفاء:1/471،رقم:3091،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[17] الكاشف:1/:537،رقم:2620،ت:محمد عوامة،أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة ـ جده .
[18] المهذب في اختصار السنن الكبير:3/1166،رقم:5262،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .
[19] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:1/60،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[20] الأمالي المطلقة:ص:108،ت: حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الأولى1416هـ .
[21] تقريب التهذيب:ص:295،رقم:3199،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[22] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:148،رقم:3۷۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[23] تنزيه الشريعة:1/71،رقم:29،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .