اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے، میں اس کے ترازو کے پاس کھڑا رہوں گا، اگر اس کی نیکیاں بڑھ گئیں تو بہت ہی اچھا، نہیں تو میں اس کی سفارش کروں گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو القاسم ابو الحسن علی بن ابراہیم بن ہیثم بن مہلب بلدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[24] میں علی بن ابراہیم بن ہیثم کے ترجمہ میں ایک دوسری روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا الحديث منكر جدا، ورجال إسناده كلهم مشهورون بالثقة، سوى أبي الحسن البَلَدِي‘‘. یہ حدیث منکر جداً ہے، اور اس کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہونے میں مشہور ہیں سوائے ابو الحسن بلدی کے[25]۔
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء‘‘[26] میں علی بن ابراہیم بلدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اتهمه أبو بكر الخطيب بعدم الثقة‘‘. ابو بکر خطیب l نے اسے ’’غیر ثقہ‘‘ہونے میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[27]، ’’المغني‘‘[28]، اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’اتهمه أبو بكر الخطيب‘‘. ابو بکر خطیب l نے اسے متہم قرار دیا ہے۔
حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[30] میں علی بن ابراہیم بن ہیثم بلدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يتهم بوضع الحديث‘‘. اور یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[31] میں علی بن ابراہیم بلدی کے بارے میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’الظاهر أنه اتهمه بالكذب، وإذا كان كذلك، فلا يذكر مع هؤلاء، والله أعلم‘‘. بظاہر خطیب l نے اسے جھوٹ بولنے میں متہم قرار دیا ہے، اور اگر بات ایسی ہی ہے تو اسے ان (یعنی کتاب میں موجود افراد کے ساتھ) ذکر نہیں کیا جائے گا، واللہ اعلم۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[32] میں علی بن ابراہیم بن ہیثم بلدی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’اتهمه الخطيب بالوضع‘‘. خطیب l نے اس کو گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حبان l نے اپنی ’’صحيح‘‘[33] میں علی بن ابراہیم بن ہیثم بلدی کی حدیث تخریج کی ہے۔
حوالہ جات
[24] تاريخ مدينة السلام:13/246،رقم:6124،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[25] حافظ ابن حجر عسقلانی l ، حافظ خطیب بغدادی l کی عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’قلت: هو موضوع بلا ريب‘‘. بلا شبہ یہ من گھڑت حدیث ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’علي بن إبراهيم بن الهيثم البلدي: حدث عنه ابن بخيت الدقاق، اتهمه الخطيب، انتهى، قال الخطيب: أخبرنا عبد الوهاب بن الحسين بن برهان، حدثنا ابن بخيت، حدثنا أبو الحسن علي بن إبراهيم البلدي، حدثنا أبي، حدثنا آدم، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما مرفوعا: لا تضربوا أولادكم على بكائهم، فإن بكاء الصبي أربعة أشهر لا إله إلا الله، وأربعة أشهر محمد رسول الله، وأربعة أشهر دعاء لوالديه، قال الخطيب: منكر جدا، ورجاله مشهورون بالثقة إلا علي بن إبراهيم البلدي، قلت: هو موضوع بلا ريب‘‘. (لسان الميزان:۵/477،رقم:5296، ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ) .
[26] الضعفاء والمتروکین:2/190،رقم:2359،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[27] ميزان الاعتدال:3/111،رقم:5767،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[28] المغني في الضعفاء:2/74،رقم:4208،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[29] ديوان الضعفاء:ص:281،رقم:2899،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[30] الأنساب للسمعاني:2/310،رقم:569،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الأولى۱397هـ .
[31] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:184،رقم:495،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[32] تنزيه الشريعة:1/85،رقم:۲78،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[33] صحيح ابن حبان:10/553،رقم:۴۷۰۰،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .