التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو محمد سوید بن عبدالعزیز بن نمیر واسطی سلمی دمشقی قاضی

المتوفی ما بین ۱۹۱ھ – ۲۰۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو محمد سوید بن عبدالعزیز بن نمیر واسطی سلمی دمشقی قاضی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو محمد سوید بن عبدالعزیز بن نمیر واسطی سلمی دمشقی قاضی (المتوفی ما بین ۱۹۱ھ – ۲۰۰ھ [28])کے بارے میں ائمہ رجال کلام

حافظ علی بن حجر مروزی l فرماتے ہیں: ’’سألت هشيما، قلت: شيخ من أهل واسط بالشام، يقال له: سويد بن عبد العزيز؟ فأثنى عليه خيرا‘‘[29]. میں نے ہشیم l سے پوچھا: اہلِ واسط کا ایک شیخ شام میں ہے، جسے سوید بن عبد العزیز کہا جاتا ہے؟ سو ہشیم l نے اس کی خیر کے ساتھ تعریف کی۔

حافظ ابو مسہر l فرماتے ہیں: ’’لقيني سويد بن عبد العزيز، فقال: تركت حديثي؟ فقلت: أو تدع ذاك الرأي‘‘[30]. مجھ سے سوید بن عبد العزیز کی ملاقات ہوئی تو اس نے پوچھا: آپ نے میری حدیث ترک کردی ہے؟ میں نے کہا: کیا تم یہ رائے چھوڑ دو گے۔

حافظ ابن سعدl ’’الطبقات‘‘[31] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يروي أحاديث منكرة‘‘. اور یہ منکر احادیث روایت کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معینl نے سوید بن عبد العزیز کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[32]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[33]۔

امام احمد بن حنبلl نے ’’العلل‘‘[34] میں سوید بن عبد العزیز کو ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔

امام بخاریl’’التاريخ الصغير‘‘[35] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أنكر أحمد أحاديث سويد بن عبد العزيز السلمي قاضي دمشق‘‘. احمد l نے سوید بن عبد العزیز سلمی قاضی دمشق کی احادیث کو منکر قرار دیا ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[36] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير، أنكرها أحمد‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں، احمد l نے انہیں منکر قرار دیا ہے۔

امام بخاری l ’’الضعفاء‘‘[37] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه نظر، لا يحتمل‘‘. اس کی حدیث میں نظر ہے، قابل ’’حمل‘‘نہیں ہے۔

حافظ عجلی l ، سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه‘‘[38] . اس کی حدیث لکھی جائے گی۔

حافظ عبد الرحمن بن ابراہیم دحیم دمشقی l فرماتے ہیں: ’’ثقة، وكانت له أحاديث يغلط فيها‘‘[39]. ثقہ ہے، اور اس کے پاس جو احادیث تھیں ان میں یہ غلطی کرتا تھا۔

حافظ برذعی l فرماتے ہیں: ’’ذكرنا عند أبي زرعة سويد بن عبد العزيز، فقال: قال إبراهيم بن موسى: كان سويد بن عبد العزيز يحدث عن مغيره، عن إبراهيم: إذا أفاق المجنون توضأ أو اغتسل ، فقيل له: أين سمعت هذا من مغيرة؟ قال: مع هشيم، فذكر ذلك لهشيم، فقال: لم أسمعه من مغيرة‘‘[40]. ہم نے ابو زرعہ l کے پاس سوید بن عبد العزیز کا تذکرہ کیا تو آپ نے کہا: ابراہیم بن موسی (یعنی حافظ ابراہیم بن موسی فرّاء تمیمی l) نے کہا کہ سوید بن عبد العزیز، مغیرہ، عن ابراہیم سے بیان کرتا تھا: جب مجنون کو افاقہ ہوجائے تو وہ وضو یا غسل کرے، سوید سے پوچھا گیا: آپ نے مغیرہ سے یہ حدیث کہاں سنی تھی؟ سوید نے کہا: ہشیم کے ساتھ، پھر ہشیم سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو ہشیم نے کہا: میں نے مغیرہ سے اسے نہیں سنا۔

حافظ برذعی l فرماتے ہیں: ’’وقال لي أبو حاتم: وكان حاضرا: قلت لدحيم: كان سويد ممن يقرأ إذا دفع إليه ما ليس من حديثه؟ قال: نعم‘‘[41]. مجھ سے ابو حاتم l نے ابو زرعہ l کی موجودگی میں کہا: میں نے دحیم l سے پوچھا: سوید ان احایث کی قراءت کر دیتا تھا جو اس کی حدیث میں سے نہیں ہوتی تھیں؟ دحیم l نے کہا: جی ہاں۔

حافظ ابو حاتمl ، سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه نظر، هو لين الحديث‘‘[42] . اس کی حدیث میں نظر ہے، وہ لین الحدیث ہے۔

حافظ یعقوب بن سفیان فسوی l نے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[43] میں سوید بن عبد العزیز کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام ترمذیl ’’العلل‘‘[44] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’رجل كثير الغلط في الحديث‘‘. یہ شخص حدیث میں کثیر الغلط ہے۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[45] میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’رجل ليس بالحافظ، ولا يحتج به إذا انفرد بحديث‘‘. یہ حافظ نہیں ہے، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا جب یہ کسی حدیث میں متفرد ہوجائے۔

حافظ عثمان بن ابی شیبہl فرماتے ہیں: ’’سويد بن عبد العزيز والريح سواء‘‘[46] . سوید بن عبد العزیز اور ہوا برابر ہیں۔

امام نسائی l نے ’’ الضعفاء‘‘[47] میں سوید بن عبد العزیز کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ایک مقام پر سوید بن عبد العزیز کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[48]۔

حافظ ابن جارود l ، سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘[49] . اس میں نظر ہے۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l ، سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه نظر‘‘[50] . اس کی حدیث میں نظر ہے۔

امام ابو القاسم بغویl ’’معجم الصحابة‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفي حديث سويد لين‘‘. سوید کی حدیث میں لین ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘ [52] میں سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان كثير الخطأ، فاحش الوهم، حتى يجيء في أخباره من المقلوبات أشياء تتخايل إلى من يسمعها أنها عملت تعمدا‘‘. یہ کثیر الخطاء، فاحش الوہم تھا، حتی کہ اس کی اخبار میں مقلوبات میں سے ایسی چیزیں آگئیں جو اپنے سننے والے کو اس کا گمان دلاتی ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بنائی گئی ہیں۔

چند سطروں کے بعد حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’والذي عندي في سويد بن عبد العزيز تنكب ما خالف الثقات من حديثه، والاعتبار بما روى مما لم يخالف الأثبات، والاحتجاج بما وافق الثقات‘‘. میرے نزدیک سوید بن عبد العزیز کے بارے میں اس کی ثقات کی مخالفت والی احادیث سے پرہیز، اثبات کی مخالفت نہ کرنے والی مرویات میں اعتبار، اور ثقات کی موافقت میں احتجاج ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[53] میں حافظ ابن حبان l کا آخری کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’قلت: لا، ولا كرامة، بل [هو] واه جدا‘‘. میں کہتا ہوں: نہیں، ’’لا کرامہ‘‘، بلکہ وہ تو ’’واہ جداً‘‘ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[54] میں سوید بن عبد العزیز کے ترجمہ میں بعض احادیث کی تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولسويد أحاديث صالحة غير ما ذكرت، وعامة حديثه مما لا يتابعه الثقات عليه، وهو ضعيف كما وصفوه ‘‘. سوید کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی صالح احادیث ہیں، اور اس کی اکثر احادیث میں ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے، اور وہ ضعیف ہے جیسا کہ محدثین نے اسے ضعیف بتایا ہے۔

حافظ دارقطنیl نے اسے کے بارے میں ’’يعتبر به‘‘ کہا ہے[55]۔

حافظ ابو احمد حاکم l ، سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[56] . اس کی حدیث ’’لیس بالقائم‘‘ہے۔

حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[57] میں کاتب الاوزاعی عبد الحمید بن حبیب کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وقد تابعه على روايته سويد بن عبد العزيز، لكن متابعته كلا متابعة‘‘. اور عبد الحمید بن حبیب کی متابعت سوید نے کی ہے، لیکن سوید کی متابعت، متابعت نہ کرنے کی طرح ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری اندلسیl ’’المحلى‘‘[58] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’سويد بن عبد العزيز مذكور بالكذب‘‘. سوید بن عبد العزیز کا تذکرہ جھوٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[59] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وسويد هذا ليس بشيء في الحديث، ولابن حبان عليه كلام‘‘. اور یہ سوید حدیث میں ’’لیس بشیء‘‘ہے، اور ابن حبان l نے ان پر کلام کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلیl نے’’الأحكام‘‘[61]میں اسے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن عبد الہادی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[62] میں ایک حدیث کے تحت سوید بن عبد العزیز کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[63] میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کو ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص المستدرك‘‘[64] میں ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن رجب حنبلی l نے ’’فتح الباري‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کو ایک مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[66] اور دوسرے مقام پر ’’متروك الحديث‘‘[67] کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l ہی ’’مجمع‘‘میں ایک روایت کے تحت سوید بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وثقه دحيم، وضعفه جمهور الأئمة‘‘. دحیم l نے اس کی توثیق کی ہے، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[68] میں سوید بن عبد العزیز کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’إتحاف المهرة‘‘[69] میں حافظ ابن خزیمہ l کے حوالہ سے ایک روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’سويد ليس من شرط ابن خزيمة، لأنه ضعيف جدا‘‘. سوید ، ابن خزیمہ l کی شرط کے مطابق نہیں ہے، اس لئے کہ وہ ضعیف جداً ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ہی ’’إتحاف المهرة‘‘[70] میں ’’مستدرک‘‘ کے حوالہ سے ایک روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’وقال: صحيح على شرط مسلم، قلت: لا، والله! فسويد بن عبد العزيز قد تركاه جميعا ‘‘. اور حاکم l نے فرمایا کہ یہ روایت مسلم lکی شرط کے مطابق صحیح ہے، میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l) کہتا ہوں: نہیں، اللہ کی قسم! سوید بن عبد العزیز کو دونوں (بخاری l ومسلم l) ہی  نے ترک کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الدراية‘‘[71] میں سوید بن عبد العزیز کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[28] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں سوید بن عبد العزیز کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۹۱ ھ سے ۲۰۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۲۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).

[29] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:12/26۱،رقم:2644،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[30]  سؤالات أبي عبيد الآجري:2/2۰1،رقم:۱۵۹۳،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[31] الطبقات الكبرى:۷/۳۲۶،رقم:۳۹۲۳،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[32] سؤالات ابن الجنيد:1/331،رقم:229،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ.

[33] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/352،رقم:5280،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[34] العلل ومعرفة الرجال:۲/۴۷۷،رقم:۳۱۲۶،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .

[35] التاريخ الصغير:2/۲۳۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[36] التاريخ الكبير:۴/۱۳۷،رقم:۵۱۷۶،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[37] الضعفاء الصغير:ص:57،رقم:151،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[38] انظر إكمال تهذيب الكمال:6/16۸،رقم:2298،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[39] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:12/260،رقم:2644،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[40] سؤالات البرذعي:ص:214،رقم:36۸،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[41] سؤالات البرذعي:ص:214،رقم:369،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[42] الجرح والتعديل:۴/۲۳۹،رقم:۱۰۲۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[43] المعرفة والتاريخ:۲/۴۵۱،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[44] علل الترمذي الكبير:ص:۲۰۸رقم:370،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى 1409هـ .

[45] البحر الزخار المعروف بمسند البزار:۸/۳۶۴،رقم:۳۴۴۴ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[46] انظر كتاب تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين:ص:105،رقم:277،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري، الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .

[47] الضعفاء والمتروکین:ص:1۸۷،رقم:2۵۹،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[48] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:12/260،رقم:2644،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[49] انظر إكمال تهذيب الكمال:6/167،رقم:2298،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[50] انظر إكمال تهذيب الكمال:6/16۸،رقم:2298،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[51] معجم الصحابة: :1/316،ت:محمد الأمين بن محمد محمود أحمد الجكني،مكتبة دار البيان – الكويت.

[52] المجروحين :۱/۳۵۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[53] ميزان الاعتدال في نقد الرجال:۲/۲۵۲،رقم:۳۶۲۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[54] الكامل في ضعفاء الرجال:۴/۴۹۵،رقم:۸۴۷ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[55] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:35،رقم:208،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .

[56] انظر إكمال تهذيب الكمال:6/167،رقم:2298،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[57] الأسامي والكنى:۳/۴۲۳،رقم:۲۷۷۶،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[58] المحلى بالآثار:10/128،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1425هـ .

[59] تذكرة الحفاظ:ص:۹۸،رقم:۲۱۶،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[60] ذخيرة الحفاظ:ص:359،رقم:408،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[61] الأحكام الوسطى:2/250،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .

[62] تنقیح التحقیق في أحاديث التعليق:3/37۲،رقم:20۱۷،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .

[63] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:42،رقم:75،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .

[64] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/135،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[65] فتح الباري شرح صحيح البخاري:4/13،ت:محمود بن شعبان بن عبد المقصود ومجدي بن عبد الخالق الشافعي وغيره ،مكتبة الغرباء الأثرية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1417هـ .

[66] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱۰/۴۰۳،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[67] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۴/۱۶۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[68] تقريب التهذيب:ص:۲۶۰،رقم:۲۶۹۲،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[69] إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة:۱/۵۸۷،رقم:۸۱۶ ،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1417هـ .

[70] إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة:۱۴/۶۷۲،رقم:۱۸۴۵۶،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1417هـ .

[71] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۱/۱۴۵،رقم:170،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ