التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی عبد الرحمن بن ابراہیم راسِبِی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو علی عبد الرحمن بن ابراہیم راسِبِی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی عبد الرحمن بن ابراہیم راسِبِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو نعیم l نے عبدالرحمن بن ابراہیم راسبی کو ’’فيه ضعف ولين‘‘ کہا ہے[14]۔

حافظ خطیب بغدادیl نے ’’تاريخ بغداد‘‘ [15] میں عبدالرحمن بن ابراہیم راسبی عن مالک بن انس کی سند سے منقول حکایت ’’وصی عیسی بن مریم‘‘  کو منکر حدیث قرار دیا ہے۔

امام دار قطنیl سابقہ حکایت وصی عیسی بن مریم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ لا يثبت عن مالك ولا نافع‘‘[16]. یہ مالک ونافع سے ثابت نہیں ہے۔

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[17] میں لکھتے ہیں : ’’عبد الرحمن بن إبراهيم الراسبي، عن مالك، أتى بخبر باطل طويل، وهو المتهم به، وأتى عن فرات بن السائب، عن ميمون بن مهران، عن ضبة بن محصن، عن أبي موسى بقصة الغار، وهو يشبه وضع الطرقية‘‘.

عبد الرحمٰن بن ابراہیم راسبی مالک l کے انتساب سے ایک طویل باطل خبر لایا ہے، اور یہ اسی کے ساتھ متہم ہے، اور یہ عن فرات بن سائب، عن میمون بن مہران، عن ضبہ بن مِحْصَن، عن ابی موسی اشعری r کے انتساب سے غار ثور کے قصہ کو لایا ہے، اوریہ روایت قصہ گو صوفیوں کی گھڑی ہوئی چیز کے مشابہ ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[18] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[19] میں حافظ ذہبی l کےکلام پر اکتفاء کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’المغني في الضعفاء‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’عن مالك،حديثه موضوع‘‘. مالک سے روایت کرتا ہے، اس کی حدیث من گھڑت ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الإصابة في تمييز ا لصحابة ‘‘[21] میں عبدالرحمٰن بن ابراہیم راسبی کو ’’أحد الضعفاء‘‘ لکھا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[22] میں عبدالرحمن بن ابراہیم راسبی کو وضاعین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[14] لسان الميزان:5/82،رقم:4590،ت:عبدالفتاح أبو غدة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[15] تاريخ مدينةالسلام:11/533،رقم:5324،ت:بشارعوادمعروف،دارالغرب الإسلامي ـ الطبعة الأولى 1422هـ .

[16] لسان الميزان:5/82،رقم:4590،ت:عبدالفتاح أبو غدة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[17] ميزان الاعتدال:2/545،رقم:4804،ت:على محمدالبجاوي،دارالمعرفة ـ بيروت

[18] الكشف الحثيث:ص:163،رقم:424،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[19] تنزيه الشريعة:1/77،رقم:134،ت:عبدالوهاب عبداللطيف و عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

[20] المغني في الضعفاء:1/530،رقم:3518،ت:نورالدين عتر،إدارة إحياءالتراث الإسلامي ـ قطر .

[21] الإصابةفي تمييزالصحابة:4/134،رقم:2990،ت:عبدالله بن عبدالمحسن - القاهرة،الطبعة الأولى 1429هـ .

[22] تنزيه الشريعة:1/77،رقم:134،ت:عبدالوهاب عبداللطيف و عبدالله محمد الصديق،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ