التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سلیمان فرات بن سائب جزری

ایک روایت میں تذکرہ

ابو سلیمان فرات بن سائب جزری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو سلیمان فرات بن سائب جزری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[23] میں لکھتے ہیں: ’’تركوه، منكر الحديث‘‘. محدثین نے اسے ترک کر دیا تھا،یہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو نعیم l نے ’’الضعفاء‘‘[24] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘ [25] میں امام بخاری l کے کلام کو نقل کر نے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے فرات بن سائب کو ’’ضعيف الحديث، منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔[26]

نیز ابو زرعہ l نے بھی فرات کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔[27]

حافظ یعقوب بن سفیان فسوی l نے ’’المعرفة‘‘[28] میں فرات بن سائب کو ’’متروك مهجور‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘ [29] میں لکھتے ہیں : ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، ويأتي بالمعضلات عن الثقات، لا يجوز الاحتجاج به، ولا الرواية عنه، ولا كتابة حديثه إلا على سبيل الاختبار‘‘.یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ لوگو ں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے ہیں، اور ثقہ لوگوں کے انتساب سے معضل روایات لاتے ہیں، اس سے نہ تو احتجاج جائز ہے اور نہ ہی اس سے روایت لینا، اس کی حدیث کی کتابت کرناجائز نہیں ہے تا ہم اختبار کے طور پر ایسا کرسکتے ہیں۔

حافظ یحیی بن معین l نے فرات بن سائب کو ’’  ليس حديثه بشيء‘‘[30] کہا ہے۔

امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں : ’’الفرات بن السائب قريب من محمد بن زياد الطحان في ميمون، يتهم بما يتهم ذاك‘‘[31].فرات بن سائب میمون سے نقل کرنے میں محمد بن زیاد طحان کے قریب قریب ہے، یہ فرات ان چیزوں میں متہم ہے جن چیزوں میں محمد بن زیاد متہم ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l ’’الكشف الخثيث‘‘ [32] میں امام احمد بن حنبل l کے قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ’’فمراد أحمد والله أعلم بقوله: يتهم بما يتهم به ذاك، أي: بالوضع‘‘.احمد l کی مراد یہ ہے کہ یہ فرات محمد بن زیاد کی طرح حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

اما م نسائی l نے فرات کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔[33]

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘ [34] میں لکھتے ہیں: ’’ولفرات بن السائب غير ما ذكرت من الحديث، خاصة أحاديثه عن ميمون بن مهران مناكير‘‘.فرات بن سائب کی اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں، خصوصاً ان کی میمون بن مہران سے منقول احادیث منکر ہیں۔

حافظ دار قطنی l نے فرات کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔[35]

حافظ ابو احمد حاکم l نے فرات کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔[36]

امام حاکم l فرماتے ہیں: ’’حدث عن ميمون بن مهران أحاديث موضوعة‘‘[37].فرات بن سائب نے میمون بن مہران کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کی ہیں۔

حافظ ابن حجر l نے فرات کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔[38]

حوالہ جات

[23] التاريخ الكبير:7/20،رقم:9921،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[24] الضعفاء لأبي نعيم:ص:129،رقم:191،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .

[25] المغني في الضعفاء:2/99،رقم:4892،ت:نورالدين عتر،إحياءالتراث الإسلامي ـ قطر .

[26] الجرح و التعديل:7/80،رقم:455،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[27] الجرح و التعديل:7/80،رقم:455،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[28] المعرفة والتاريخ:3/141،ت:أكرم ضياءالعمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1410هـ

[29] المجروحين:2/207،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[30] المجروحين:2/207،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[31] الضعفاء الكبير:3/458،رقم:1514،ت:عبدالمعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[32] الكشف الحثيث:208،رقم:587،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[33] الضعفاء والمتروكين:ص:196،رقم:512،ت:بوران الضناوي كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية- بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[34] الكامل:7/136،رقم:1570،ت:عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[35] ميزان الاعتدال:3/341،رقم:6689،ت:على محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[36] لسان الميزان:6/322،رقم:6020،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[37] المدخل إلى الصحيح:ص:186،رقم:157،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالةـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[38] تعجيل المنفعة:2/111،رقم:848،ت:إكرم الله إمدادالحق،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ