اس روایت کی تحقیق سے
روایت:’’ما دعاه أحد من أصحابه ولا من أهل بيته إلا قال: لبيك‘‘. آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور اہل بیت میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کو پکارتا تو آپ ﷺ لبیک فرماتے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو علی حسین بن عُلْوان بن قدامہ کوفی کلبی (المتوفی ۲۱۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے حسین بن عُلْوان کو ’’ليس بثقة‘‘[9] کہا ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر حسین بن عُلْوان کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[10]۔
علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني: أباه عن الحسين بن عُلْوان، فضعفه جدا‘‘[11]. میں نے اپنے والد سے حسین بن عُلْوان کے بار میں پوچھا، تو انہوں نے اسے شدید ضعیف قرار دیا۔
امام احمد بن حنبلl ’’العلل‘‘[12] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’إنما كنا نعرف به حسين بن عُلْوان، ويقولون: إنما وضعه على هشام‘‘. ہم اس حدیث کو حسین بن عُلْوان ہی سے پہچانتے ہیں، اور محدثین فرماتے ہیں: اس نے ہشام پر اسے گھڑا ہے۔
حافظ مفضل بن غسان غَلابی l نے اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[13]۔
حافظ ابو یحیی محمد بن عبد الرحیم l فرماتے ہیں: ’’ كان الحسين بن عُلْوان يحدث عن هشام بن عروة، وعن ابن عجلان أحاديث موضوعة‘‘[14]. حسین بن عُلْوان، ہشام بن عروہ اور ابن عجلان کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کرتا تھا۔
حافظ ابو حاتم l ، حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو واه، ضعيف، متروك الحديث‘‘[15]. وہ واہی، ضعیف، متروک الحدیث ہے۔
حافظ صالح بن محمد جزرہ l فرماتے ہیں: ’’الحسين بن عُلْوان كان يضع الحديث‘‘[16]. حسین بن عُلْوان حدیث گھڑتا تھا۔
امام نسائی l نے حسین بن عُلْوان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[17]۔
امام نسائی l نے ایک مقام پر حسین بن عُلْوان کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے[18]۔
حافظ ابن حبان l’’المجروحين‘‘[19] میں حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتےہیں: ’’ كان يضع الحديث على هشام بن عروة، وغيره من الثقات وضعا، لا تحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب، كذبه أحمد بن حنبل رحمه الله‘‘. یہ ہشام بن عروہ وغیرہ ثقہ راویوں پر خوب حدیثیں گھڑتا تھا، اس کی حدیث کو تعجب کے علاوہ لکھنا حلال نہیں ہےاحمدبن حنبل l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے ’’المجروحين‘‘[20] میں حسین بن عُلْوان کی تین حدیثیں ذکر کیں، پھر فرماتے ہیں: ’’إذا سمعه من ليس الحديث صناعته اتهمه بالوضع‘‘. جب ان احادیث کو ایسا شخص سنے گا جس کی حدیث صناعت نہ ہو تو وہ بھی اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دے گا۔
حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[21] میں حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتےہیں:’’يضع الحديث‘‘. حدیث گھڑتا تھا۔
نیز حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[22] میں حسین بن عُلْوان کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وللحسين بن عُلْوان أحاديث كثيرة، وعامتها موضوعة، وهو في عداد من يضع الحديث‘‘. اور حسین عُلْوان کی بہت سی حدیثیں ہیں، اور اس کی اکثر احادیث من گھڑت ہیں، اور اس کا شمار ان راویوں میں ہوتا ہے جو حدیثیں گھڑتے ہیں۔
حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’حسين بن عُلْوان كذاب، خبيث، رجل سوء، لا يكتب حديثه‘‘[23]. حسین بن عُلْوان کذاب، خبیث، برا آدمی ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔
امام دار قطنی l نے اپنی ’’سنن‘‘[24] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
امام دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[25] میں حسین بن عُلْوان کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[26] میں حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن هشام بن عروة أحاديث أكثرها موضوعة‘‘. اس نے ہشام بن عروہ کے انتساب سے احادیث روایت کی ہیں جن میں اکثر من گھڑت ہیں۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ہی ’’المدخل‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’ومنهم جماعة وضعوا الحديث للملوك في الوقت، مما تقربوا به إليهم‘‘. ان میں ایک جماعت ہے جو وقت کے بادشاہوں کےلئے حدیث گھڑتی ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ان کے ہاں اس کو قرب حاصل ہوجائے۔
اس کے بعد امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l نے چند افراد کو ذکر کیا، جن میں حسین بن عُلْوان بھی ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[28] میں حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن هشام بن عروة بمناكير وموضوعات، لا شيء‘‘. اس نے ہشام بن عروہ کے انتساب سے منکر اور من گھڑت احادیث بیان کی ہیں، یہ ’’لا شیء‘‘ ہے۔
امام بیہقی l ’’دلائل النبوة‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فهذا من موضوعات الحسين بن عُلْوان، لا ينبغي ذكره، ففي الأحاديث الصحيحة والمشهورة في معجزاته كفاية عن كذب ابن عُلْوان‘‘. یہ حسین بن عُلْوان کی من گھڑت روایات میں سے ہے، اس کو ذکر کرنا مناسب نہیں ہے، سو آپ ﷺ کے معجزات میں صحیح اور مشہور احادیث موجود ہیں جو ابن عُلْوان کے جھوٹ سے کفایت کرتی ہیں۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[30] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کو ’’متروك الحديث ‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[31] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتےہیں:’’يضع الحديث‘‘. حدیث گھڑتا تھا۔
علامہ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الوسطى‘‘[32] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے حسین بن عُلْوان کو ’’المغني‘‘[33] میں ’’متروك، هالك‘‘، ’’تاريخ الإسلام‘‘[34] میں ’’ كذاب‘‘ اور ’’ميزان‘‘[35] میں’’ كذاب من كذب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وسرقه، بل وضعه حسين بن عُلْوان‘‘. اور حسین بن عُلْوان نے اسے سرقہ کیا ہے، بلکہ اسے گھڑا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الدراية‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عُلْوان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[38] میں عمر بن حسن راسبی کے ترجمہ میں حسین بن عُلْوان کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیlنے’’الكشف الحثيث‘‘[39] میں حسین بن عُلْوان کو متہم بالوضع راویوں میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[40]میں حسین بن عُلْوان کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’ كذبه يحيى، وقال ابن حبان: كان يضع الحديث‘‘. یحیی l نے اسے کذاب کہا ہے، اور ابن حبان l فرماتے ہیں یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حوالہ جات
[9] من كلام أبي زكريا يحيى بن معين في الرجال برواية ابن طهمان:ص:۳7،رقم:۳۷،ت:أحمد محمد نور سيف، دار المامون للتراث ـ دمشق .
[10] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/۲۹۴،رقم:۴۸۹۳،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[11] انظر تاريخ بغداد:8/610،رقم:4091،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[12] العلل ومعرفة الرجال:۲/۴۴،رقم:۱۴۹۹،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[13] انظر تاريخ بغداد:8/610،رقم:4091،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[14] انظر تاريخ بغداد:8/610،رقم:4091،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[15] الجرح التعديل:3/61،رقم:277،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[16] انظرتاريخ بغداد:8/610،رقم:4091،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[17] انظرالكامل في ضعفاء الرجال:3/231،رقم:489،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[18] انظر لسان الميزان:3/190،رقم:2574،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[19] المجروحين من المحدثين:1/244،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[20] المجروحين من المحدثين:1/245،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[21] الكامل في ضعفاء الرجال:3/23۱،رقم:489،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[22] الكامل في ضعفاء الرجال:3/233،رقم:489،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[23] انظر تاريخ بغداد:8/611،رقم:4091،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[24] سنن الدار قطني:2/246،رقم:1473ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[25] الضعفاء والمتروکون:ص:195،رقم:192،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[26] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۲۹،رقم:۳۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[27] المدخل إلى کتاب الإكليل:ص:55،ت:فؤاد عبد المنعم أحمد،دار الدعوة ـ الإسكندرية .
[28] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:۴۹،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[29] دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة:۶/۷۰،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثالثة۱۴29هـ .
[30] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۰۲،رقم:۳۵۶۰،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[31] تذكرة الحفاظ:ص:۲۳۳،رقم:۵۶۴،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[32] الأحكام الوسطى من حديث النبي صلى الله عليه وسلم:2/22،ت:حمدي عبد المجيد السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة 1416هـ .
[33] المغني في الضعفاء:1/265،رقم:1547،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[34] تاريخ الإسلام:5/53،رقم:86 ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[35] ميزان الاعتدال:۱/5۴۲،رقم:۲۰۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[36] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۴۳،رقم:۶۳۱،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[37] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۱/۸۵ ،رقم:68،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[38] لسان الميزان:6/77،رقم:5594،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[39] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۱۰۰،رقم:۲۴۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[40] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۵۳،رقم:۲۱،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف، عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .