التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ ناصح بن عبد اللہ کوفی مُحَلِّمی حائک

المتوفی ما بین ۱۷۱ھ – ۱۸۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد اللہ ناصح بن عبد اللہ کوفی مُحَلِّمی حائک کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ ناصح بن عبد اللہ کوفی مُحَلِّمی حائک (المتوفی ما بین ۱۷۱ھ – ۱۸۰ھ[34]) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابو عبد اللہ حسن بن صالح ہمدانی l ، ناصح بن عبد اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نعم الرجل‘‘[35]. یہ کتنا اچھا شخص ہے[36]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ناصح کوفی کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[37]۔

حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبل l’’مسند‘‘[38]  میں زیر بحث روایت تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث لم يخرجه أبي في مسنده من أجل ناصح، لأنه ضعيف في الحديث، وأملاه علي في النوادر‘‘. اور میرے والد نے ناصح کی وجہ سے یہ حدیث اپنی ’’مسند‘‘میں تخریج نہیں کی ہے، کیونکہ وہ حدیث ضعیف ہے، اور میرے والد نے ’’نوادر‘‘میں یہ حدیث مجھے املاء کروائی ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’روى عن سماك أحاديث منكرة، متروك الحديث‘‘[39]. اس نے سماک بن حرب سے منکر احادیث روایت کی ہیں، یہ متروک الحدیث ہے۔

امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[40] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[41] اور ’’الضعفاء‘‘[42] میں ناصح بن عبد اللہ کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ برذعی l ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’قال أبو زرعة: هذا من ناصح، يعني: من ناصح بن عبد الله المحاربي راوي هذا عن سماك، وليته عنده في وزن الكذابين‘‘[43]. ابو زرعہ l نے کہا: یہ ناصح سے ہے، یعنی ناصح بن عبد اللہ محاربی اس کا راوی ہے، جو سماک سے اسے روایت کر رہا ہے، کاش کہ ناصح، ابو زرعہ l کے نزدیک کذابین کے مرتبہ میں ہوتا۔

امام ابو داؤد l نے ناصح بن عبد اللہ کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[44]۔

حافظ ابو حاتم l نے زیر بحث روایت کے تحت ناصح کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[45]۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں:’’ضعيف الحديث، منكر الحديث، عنده عن سماك [بن حرب]، عن جابر بن سمرة مسندات في الفضائل، كلها منكرات، كأنه لايعرف سماك غير جابر، وهو في الضعف مثل سعيد بن سماك بن حرب‘‘[46]. یہ ضعیف الحدیث، منکر الحدیث ہے، اس کے پاس سماک بن حرب، عن جابر بن سمرہ r کے طریق سے فضائل میں مسند احادیث ہیں، یہ تمام منکر ہیں، گویا کہ سماک، جابر r کے علاوہ کسی کی معرفت نہیں رکھتے، اور یہ ضعف میں سعید بن سماک بن حرب کے مثل ہے۔

نیز مذکورہ سعید بن سماک بن حرب کو حافظ ابو حاتم l نے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے[47]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[48] میں ناصح بن عبد اللہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر ناصح بن عبد اللہ کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[49]۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[50] میں ناصح بن عبد اللہ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وكان شيخا صالحا، يروي عن الثقات ما ليس بشبه حديث الأثبات، وينفرد بالمناكير عن ثقات مشاهير، غلب عليه الصلاح، فكان يأتي بالشيء على التوهم، فلما فحش ذلك منه استحق ترك حديثه‘‘. اور یہ شیخ صالح تھا، جو ثقات سے ایسی احادیث روایت کرتا تھا جو اثبات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اور مشاہیر ثقات سے مناکیر روایت کرنے میں متفرد ہوتا تھا، اس پر صلاح کا غلبہ تھا، سو وہم کے ساتھ یہ چیز لے آتا تھا، چنانچہ جب اس سے یہ کثرت سے صادر ہوا تو اس کی حدیث ترک کی مستحق ہوگئی۔

اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[51] میں ناصح بن عبد اللہ کے ترجمہ میں زیر بحث روایت کو ’’غیر محفوظ‘‘قرار دے کر آخر میں فرماتے ہیں: ’’ولناصح غير ما ذكرت من الحديث، وهو في جملة متشيعي أهل الكوفة، وهو ممن يكتب حديثه‘‘. اور ناصح کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور یہ اہل کوفہ کے جملہ متشیعین میں سے ہے، اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی احادیث کو لکھا جاتا ہے۔

امام دارقطنی l نے ناصح بن عبد اللہ کو ’’الضعفاء‘‘[52] میں ذکر کیا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المستدرك‘‘[53] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’ناصح بن العلاء بصري ثقة،إنما المطعون فيه ناصح أبو عبد الله المُحَلِّمِي الكوفي، فإنه روى عنه سماك بن حرب المناكير‘‘. ناصح بن علاء بصری ثقہ ہے، اور طعن صرف ناصح ابو عبد اللہ مُحَلِّمِی کوفی پر ہوا ہے، کیونکہ اس نے سماک بن حرب سے مناکیر روایت کی ہیں۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[54] میں ایک روایت کے تحت ناصح کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ منذریl نے ’’الترغيب‘‘[55] میں زیر بحث روایت کے تحت ناصح کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[56] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص المستدرك‘‘[57] میں زیر بحث روایت کے تحت ناصح کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[58] میں ایک حدیث کے تحت ناصح کو ’’شيعي، متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[59] میں ایک حدیث کے تحت ناصح بن عبد اللہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[60] میں ناصح کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ہی نے ’’فتح الباري‘‘[61]  میں ایک حدیث کے تحت ناصح کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[34] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘میں ناصح بن عبد اللہ  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال ۱۷۱ ھ سے ۱۸۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔(التاريخ الصغير:۲/۱۷۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[35] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۳۰۲،رقم:۱۹۷۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[36] حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘میں اس قول کو ان الفاظ سے نقل کیا ہے: ’’قلت: وكان من العابدين، ذكره الحسن بن صالح، فقال: رجل صالح، نعم الرجل!‘‘. (ميزان الاعتدال:۴/۲۴۰،رقم:۸۹۸۸ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت) .

[37] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱۹۳،رقم:۱۲۳۴،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[38] مسند أحمد:۳۴/۴۵۹،رقم:۲۰۹۰۰،ت:شعيب الأرنؤوط،عادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .

[39] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۳۰۲،رقم:۱۹۷۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[40] التاریخ الکبیر:۸/۱۸،رقم:۱۱۷۶۳،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[41] التاريخ الصغير:۲/۲۰۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[42] الضعفاء للبخاري:ص:۲۰۰،رقم:۳۸۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[43] سؤالات البرذعي:ص:395،رقم:931،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱430هـ .

[44] سؤالات أبي عبيد الآجري:1/265،رقم:380،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[45] كتاب العلل:5/61۳،رقم:2213،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴27هـ .

[46]  الجرح والتعدیل:۴/۱۱۷،رقم:۵۰۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[47]   الجرح والتعدیل:۴/۳۲،رقم:۱۳۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[48] الضعفاء والمتروکین:ص:۲۴0،رقم:584،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[49] انظر تهذيب الكمال:۲۹/۲۶۲،رقم:۶۳۵۴،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[50] المجروحين:۳/۵۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1۴۱۲هـ .

[51] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۳۰۵،رقم:۱۹۷۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[52]  الضعفاء والمتروکون:ص:۳۷۵،رقم:۵۳۷،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[53] المستدرك على الصحيحين:1/4۳1،رقم:۱۰۸۴،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .

[54] ذخيرة الحفاظ:ص:1842،رقم:4232،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[55] الترغيب والترهيب من الحديث الشريف:۳/۵۰،رقم:۱،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .

[56]  الكاشف:۲/۳۱۳،رقم:۵۷۷۵،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[57] المستدرك على الصحيحين:4/۲۶۳،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[58] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۱۲۹،رقم:۲۸۲،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[59] مجمع الزوائد:۲/۱۹۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[60]  تقريب التهذيب:ص:۵۵۷،رقم:۷۰۶۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[61] فتح الباري:11/243،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ