اس روایت کی تحقیق سے
روایت: جب تم میں سے کوئی نماز کےلئے کھڑا ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے اعضاء کو پُرسکون رکھے، اور یہود کی طرح نہ ہلے، اس لئے کہ نماز میں اعضاء کا پُرسکون ہونانمازکےکامل ہونے کاجزوہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ حکم بن عبداللہ بن سعد بن عبد اللہ اَیْلِی (المتوفی مابین 140 – 150ھ[13])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’والحكم الأيلي ليس بثقة‘‘[14]. حکم اَیْلِی ثقہ نہیں ہے۔
حافظ یحیی بن معین l ہی ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’لیس بشیء‘‘ [15]. یہ لیس بشیء ہے۔
امام علی بن مدینیl فرماتے ہیں: ’’ کان ضعیفا، لیس بشیء‘‘[16]. یہ ضعیف، لیس بشیء ہے۔
حافظ احمد بن صالح مصریl فرماتے ہیں: ’’ماسقط من أهل أیلة إلا الحکم بن عبد الله الأیلی‘‘[17]. ایلہ والوں میں سے کوئی ساقط نہیں ہے، سوائے حکم بن عبداللہ کے۔
حافظ احمد بن صالح مصریl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’رأيت في كتابه عن يونس ستين حديثا كذبا‘‘[18]. میں نے اس کی کتاب میں یونس کے انتساب سے ساٹھ جھوٹی احادیث دیکھی ہیں۔
حافظ ابو جعفر محمد بن عبد اللہ بن عمار موصلیl فرماتے ہیں کہ اصحاب حدیث کی ایک جماعت جس میں حافظ ابن ابی الحواریl وغیرہ موجود ہیں، وہ فرماتےہیں:
’’ليس يعرف بدمشق كذاب إلا رجلين، فإذا تركت هذين الرجلين، لم يبق من الكذابين بدمشق أحد، الحكم بن عبد الله الأيلي، ويزيد بن ربيعة بن يزيد‘‘[19]. دمشق میں کذاب سے کوئی معروف نہیں ہے سوائے دو آدمیوں کے، اگر میں ان دونوں کو ترک کردوں، تو دمشق میں جھوٹوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، وہ دو آدمی حکم بن عبداللہ اور یزید بن ربیعہ بن یزید ہیں۔
علامہ وہب بن زمعہ مروزی l حافظ عبد اللہ بن مبارک l کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أنه ترك حديث الحكم‘‘[20].ابن مبارک l نے حکم کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’الحكم بن عبد الله الأيلي أحاديثه موضوعة‘‘[21].حکم بن عبداللہ ایلی کی احادیث من گھڑت ہیں۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[22] فرماتے ہیں: ’’ترکوه، کان ابن المبارک یوهنه، ونهى أحمد عن حدیثه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے،ابن مبارکl اس کو ضعیف قرا ر دیتے تھے، احمدl نےاس کی حدیث سے منع کیا ہے۔
نیز امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’ کان ابن المبارک یوهنه، نهى أحمد عن حدیثه‘‘ . ابن مبارکl اس کو ضعیف قرا ر دیتے تھے، احمدl نےاس کی حدیث سے منع کیا ہے۔
اور امام بخاری l ’’الضعفاء الصغير‘‘[24] میں لکھتے ہیں: ’’ كان ابن المبارك يضعفه‘‘. ابن مبارکl اس کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
حافظ جوز جانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[25] میں فر ماتے ہیں: ’’جاهل، كذاب‘‘ . یہ جاہل، کذاب ہے۔
حافظ جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[26] میں ہی فر ماتے ہیں: ’’وأمر الحكم أوضح من ذاك عند أهل الحديث، حتى لقد حدثني من سمع ابن حنبل يقول: ألق حديث الحكم الأيلي، وإسحاق بن أبي فروة في الدجلة‘‘ .اور اس سے محدثین کے ہاں حَکم کا معاملہ واضح ہوجاتا ہے، حتی کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے ابن حنبل l سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ حَکم ایلی اور اسحاق بن ابی فروہ کی روایت کو دجلہ میں ڈال دو۔
امام مسلم l ’’الكنى‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’منكرالحديث‘‘.
امام ابو داود l فرماتے ہیں: ’’ لا يكتب حديثه‘‘ [28]. اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔
حافظ یحیی بن حسان تِنِّیْسِی l فرماتے ہیں: ’’ لا تكتب حديث الحكم بن عبد الله بن سعد الأيلي، فإنه متروک الحدیث‘‘[29]. حکم بن عبد اللہ بن سعد اَیْلِی کی حدیث مت لکھو، کیونکہ وہ متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابو حاتمl فرما تے ہیں: ’’[ذاهب]، متروك الحديث، لا يكتب حديثه، كان يكذب‘‘[30]. ذاہب، متروک الحدیث ہے،اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے، یہ جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ عبد الرحمن بن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[31] میں فرماتے ہیں کہ حکم بن عبداللہ بن سعد اَیْلِی کے بارے میں ابو زرعہ lسے پوچھا گیا، تومیں نے ان کو یہ فرماتے ہوئےسنا: ’’ضعيف، لا يحدث عنه، ولم يقرأ علينا حديثه، وقال: اضربوا عليه‘‘. ضعيف ہے،ان سے حدیث بیان نہ کی جائے، (نیز حافظ عبد الرحمنl یہ بھی فرماتےہیں)اور ابو زرعہ l نے ہم پر اس کی حدیث نہیں پڑھی،اور فرمایا کہ اس کی حدیث کو اس پر دے مارو۔
حافظ ابو زرعہ l ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’وهو رجل متروك الحديث‘‘[32].حکم بن عبد اللہ متروک الحدیث ہے۔
امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروکين‘‘[33]میں فرما تے ہیں: ’’متروک الحدیث‘‘ .
حافظ ابن خزیمہ l ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأنا أبرأ من عهدته‘‘[34]. میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔
حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[35] میں حکم بن عبد اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة‘‘.
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’والغالب على حديث الحكم الوهم‘‘. اور حکم کی حدیث میں وہم غالب ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[37]میں فر ماتے ہیں: ’’ممن یروی الموضوعات عن الأثبات، وكان ابن المبارك شديد الحمل عليه‘‘.وہ ثبت لوگوں کے انتساب سےمن گھڑت روایات نقل کرتاہے، اور ابن مبارک l اس پر شدید حمل فرماتے تھے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[38] میں زیر بحث روایت اور اس کے علاوہ دیگر روایات ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں: ’’وبهذا الإسناد أيضا حدثناه هنبل غير ما ذكرت أكثر من خمسة عشر حديثا، كلها مع ما ذكرتها موضوعة، وما هو منها معروف بالمتن فهو باطل بهذا الإسناد، وما أمليت للحكم عن القاسم بن محمد، والزهري، وغيرهم كلها [والمتن الروايات] غير ما ذكرته هاهنا، فكلها مما لا يتابعه الثقات عليه، وضعفه بين على حديثه‘‘.
اور اسی سند کے ساتھ ہنبل نے میری ذکر کرہ روایات کے علاوہ پندرہ سے زائد احادیث روایت کی ہیں، وہ سب کی سب میری ذکر کردہ روایات کے ساتھ من گھڑت ہیں، اور ان میں سے جو متن کے ساتھ معروف ہیں وہ اس سند کے ساتھ باطل ہیں، اورقاسم بن محمدl، زہریl وغیرہ سے منقول حکم کی وہ روایات جس کو میں نے املاء کروایا ہے،وہ تمام تر روایات جن کو میں نے یہاں ذکر کیا ہے اور جن کو ذکر نہیں کیا ہے،ان سب میں ثقات نے حکم کی متابعت نہیں کی ہے، اس کا ضعف اس کی حدیث پر واضح ہے۔
امام دارقطنیl’’الضعفاء والمتروکون‘‘ [39] میں فرماتےہیں: ’’متروک‘‘.
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’الضعفاء‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، تركه ابن المبارك، وقال علي بن المديني: ليس بشيء‘‘ . لیس بشیء ہے، ابن مبارکl نے اسے ترک کیا ہے، علی بن مدینیl فر ماتے ہیں کہ لیس بشیء ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ہی ’’المسند المستخرج‘‘ [41] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه، ضعفه ابن المبارك، وقال علي بن المديني: ليس بشيء‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے، ابن مبارک l نے اس کی تضعیف کی ہے، اور علی بن مدینیl فر ماتے ہیں کہ لیس بشیء ہے۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[42] میں ایک روایت کے تحت حکم بن عبد اللہ کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
نیز امام بیہقی l ہی ’’الخلافيات‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’الحكم بن عبد الله ضعيف جدا‘‘ . حکم بن عبد اللہ شدید ضعیف ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’المتفق والمفترق‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا جدا‘‘ وہ شدید ضعیف تھا۔
حافظ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الوسطى‘‘[45] میں حکم بن عبد اللہ کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[46] میں ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’والحكم هذا يضع الحديث‘‘. اور یہ حکم حدیث گھڑتا ہے۔
یہی کلام حافظ ابن قیسرانی l نے ’’معرفة التذكرة‘‘[47] میں بھی ذکر کیا ہے۔
حافظ منذریl ’’الترغيب والترهيب‘‘[48] میں حکم بن عبد اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، متهم‘‘.
حافظ ابن خلفون l نے ’’أسماء شيوخ الإمام مالك‘‘ [49] میں چند رایوں کے نام ذکر کرکئے ہیں جن میں حکم بن عبد اللہ اَیْلِی کا نام بھی مذکور ہے، اس کے بعد فرمایا ہے: ’’وهؤلاء هم المتروكون‘‘.
حافظ ناصر الدین دمشقی l نے ’’توضيح المشتبة‘‘[50] میں حکم بن عبد اللہ کو ’’منكر الحديث‘‘ كہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[51] میں فرماتےہیں: ’’متروک، متهم‘‘. یہ متروک، متہم ہے۔
حافظ ا بن حجرعسقلانی l نے زیر بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری حدیث کے تحت حکم بن عبداللہ کو ’’نتائج الأفكار‘‘[52] اور ’’التلخيص الحبير‘‘[53] میں ’’ضعيف جدا‘‘، جبکہ ’’الدراية‘‘[54] میں ’’واه جدا‘‘ اور ’’المطالب العالية‘‘[55] میں ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[56] میں حکم بن عبداللہ کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[13] امام بخاری ؒ نے ’’التاريخ الصغير ’’میں موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 140 اور 150ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[14] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/126،رقم:754،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[15] سؤالات ابن الجنيد:ص:104،رقم:444،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1408هـ .
[16] سؤالات ابن أبي شيبة:ص:134،رقم:171،ت:موفق بن عبد الله,مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[17] الثقات لابن شاهين:ص:121،رقم:602،ت:صبحي السامرائي،الدار السلفية ـ الكويت,الطبعة الأولى 1404هـ .
[18] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/182،رقم:1536،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[19] تاريخ دمشق:15/19،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱5هـ .
[20] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/478،رقم:۳89،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[21] تاريخ أبي زرعة الدمشقي:ص:213،رقم:1144،ت:خليل المنصور،دار الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱7هـ .
[22] التاریخ الکبیر:2/330،رقم:۲۶۹5،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[23] التاريخ الصغير:2/99،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[24] الضعفاء الصغير:ص:35،رقم:71،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[25] أحوال الرجال:ص:259،رقم:۲۷۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[26] أحوال الرجال:ص:259،رقم:۲۷۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان،الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[27] الكنى والأسماء:1/489،رقم:1895،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .
[28] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/182،رقم:1536،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[29] الجرح والتعدیل:3/۱۲۱،رقم:۵۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[30] الجرح والتعدیل:3 /۱۲۱،رقم:۵۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[31] الجرح والتعدیل:3/۱۲۱،رقم:۵۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[32] تاريخ أبي زرعة الدمشقي:ص:213،رقم:1145،ت:خليل المنصور،دار الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱7هـ .
[33] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۶۵،رقم:۱۲۲،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[34] سنن الدار قطني:3/144،رقم:2249،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[35] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/197،رقم:304،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .
[36] الضعفاء الكبير:1/۲۵۶رقم:۳۱۱،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[37] المجروحين:۱/۲۴۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[38] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/483،رقم:۳89،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[39] الضعفاء والمتركون:۱۸۱،رقم:۱۶۱،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[40] الضعفاء لأبي نعيم:۷۴،رقم:۵۰،ت:فاروق حماده،مطبعة النجاح الجديده .
[41] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:50،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[42] السنن الكبرى للبيهقي:3/255،رقم:5617،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[43] الخلافيات بين الإمامين للبيهقي:2/70،رقم:1162،الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[44] المتفق والمفترق:2/773،رقم:402،ت:محمد صادق آيدن الحامدى،دار القادري ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱7 هـ .
[45] الأحكام الوسطى:2/21،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .
[46] تذكرةالحفاظ:ص:59،رقم:121،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[47] معرفة التذکرة:ص:101،رقم:116،ت:عماد الدين أحمد حيدر،مؤسسة الکتب الثقتفية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[48] الترغيب والترهيب:2/382،رقم:5،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[49] أسماء شيوخ الإمام مالك بن أنس:ص:109،ت:محمد زينهم محمد عزب،مكتبة الثقافة الدينية ـ الظاهر .
[50] توضيح المشتبة:1/131،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[51] المغني في الضعفاء:1/271،رقم:1657،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[52] نتائج الأفكار:4/65،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[53] تلخيص الحبير:1/521،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[54] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:1/209،رقم:271،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[55] المطالب العالية:14/116،رقم:3405،ت:أحمد بن محمد بن عبد الله بن حميد،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴20هـ .
[56] تنزيه الشريعة:۱/۵۴،رقم:۴۷،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .