اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبدالرحمن عمار بن سیف ضبی کوفی (المتوفی بعد ۱۶۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام
حافظ محمد بن عبد العزیز بن ابی رِزْمہ یَشْکُریl فرماتے ہیں: ’’أخبرني أبي، عن عبد الله بن المبارك، عن عمار بن سيف، وأثنى عليه خيرا‘‘[11]. مجھے میرے والد (عبد العزیز) نے بتایاکہ عبداللہ بن مبارکl نے عمار بن سیف کا بھلائی سے تذکرہ کیا۔
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات‘‘[12] میں عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وإليه أوصى سفيان الثوري رحمه الله، ووضع كتبه عنده، وقال له: ادفنها إذا مت‘‘. عمار بن سیف کو سفیان ثوری l نے وصیت کی تھی، اور اپنی کتابیں ان کے حوالے کرکے کہا تھا کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو ان کو دفن کردینا۔
حافظ عباس دوریl فرماتے ہیں: ’’سمعت يحيى يقول: عمار بن سيف ثقة، أو نحو هذا من الكلام‘‘[13]. میں نے یحیی بن معین l سے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: عمار بن سیف ثقہ ہے، یا اس جیسا کوئی کلام ارشاد فرمایا۔
حافظ یحیی بن معینl ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’عمار كان رجلا مغفلا ‘‘[14]. عمار مغفل شخص تھا۔
حافظ یحیی بن معینl نے ایک دوسرے مقام پر عمار بن سیف کے بارے میں کہا ہے : ’’ليس حديثه بشيء‘‘[15]. اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[16] میں عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا يتابع عليه، منكر، ذاهب‘‘. ان کی متابعت نہیں کی جاتی، یہ منکر، ذاہب ہے۔
حافظ عجلیl ’’الثقات‘‘[17] میں عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ثقة ثبت متعبد، وكان صاحب سنة، وكان يقال: إنه لم يكن بالكوفة أحد أفضل منه‘‘. یہ ثقہ، ثبت، عبادت گزار تھا،صاحب سنت تھا، اور کہا جاتا ہے کہ کوفہ میں ان سے زیادہ فضیلت والا کوئی نہیں ہے۔
حافظ ابو غسان نہدیl ، عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان من خيار الناس‘‘[18]. عمار بن سیف لوگوں میں سب سے بہتر تھا۔
امام ابو داؤدl فرماتے ہیں: ’’كان عمار بن سيف مغفلا‘‘[19]. عمار بن سیف مغفل تھا۔
حافظ ابو زرعہl ، عمار بن محمد ابن اخت سفیان ثوری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ليس بقوي، وهو أحسن حالا من عمار بن سيف‘‘[20]. یہ ’’لیس بالقوی‘‘ہے، اور یہ عمار بن سیف سے بہتر حالت میں ہے۔
حافظ ابو زرعہl نے ایک مقام پر عمار بن سیف کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[21]۔
حافظ ابو حاتم l، عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان شيخا صالحا، وكان ضعيف الحديث، منكر الحديث‘‘[22]. یہ شیخ صالح ہے، اور ضعیف الحدیث، منکرالحدیث ہے۔
امام ابو بکر بزار l نے اپنی ’’مسند‘‘[23] میں عمار بن سیف کو ایک روایت کے تحت ’’صالح‘‘ کہا ہے۔
امام ابو بکر بزار l نے عمار بن سیف کو ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘کہا ہے[24]۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[25]میں عمار بن سیف کے بارے میں فر ماتے ہیں: ’’كان ممن يروي المناكير عن المشاهير، حتى ربما سبق إلى القلب أنه كان المتعمد لها، فبطل الاحتجاج به، لما أتى من المعضلات عن الثقات، روى عن إسماعيل بن أبي خالد، عن ابن أبي أوفى، عن النبي عليه الصلاة والسلام أحاديث بواطل، لا أصول لها، يطول الكتاب بذكرها‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو مشاہیر کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتے ہیں، حتی کے دل میں یہ بات سبقت کرگئی کہ یہ جان بوجھ کر منکر احادیث روایت کرتا ہے، اس سے احتجاج کرنا باطل ہے، کیونکہ یہ ثقات کے انتساب سے معضل احادیث نقل کرتا تھا، اس نے اسماعیل بن ابی خالد، عن ابن ابی اوفی، عن النبی علیہ الصلاة والسلام کے انتساب سے ایسی باطل احادیث نقل کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے، ان کے ذکر کرنے سے کتاب لمبی ہوجائے گی۔
حافظ ابن عدیl نے ’’الكامل‘‘[26]میں عمار بن سیف کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ابن عدیl نے عمار بن سیف کی دو روایتیں تخریج کرنے کے بعد فرمایا ہے: ’’وعمار بن سيف له غير ما ذكرت، والضعف بين في حديثه‘‘. اور عمار بن سیف کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ احادیث بھی ہیں، اور اس کی حدیث میں ضعف ظاہر ہے۔
امام دارقطنیl نے عمار بن سیف کو ’’متروک‘‘کہا ہے[27]۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکمl ’’المدخل‘‘[28] میں عمار بن سیف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن إسماعيل بن أبي خالد والثوري المناكير‘‘. اس نے اسماعیل بن ابی خالد اور ثوری کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[29] میں عمار بن سیف کے بارےمیں فرماتے ہیں: ’’روى عن إسماعيل بن أبي خالد والثوري المناكير، لا شيء‘‘. اس نے اسماعیل بن ابی خالد اور ثوری کے انتساب سے مناکیر نقل کی ہیں، اوریہ لاشیء ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[30]میں عمار بن سیف کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl نے ’’البداية‘‘[31] میں ایک حدیث کے تحت عمار بن سیف کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’التقريب‘‘[32]میں عمار بن سیف کو ’’ضعيف الحديث‘‘اور’’اتحاف المهرة‘‘[33] میں’’ضعیف جدا‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[11] الجرح والتعدیل:6/۳93،رقم:2191،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[12] الطبقات الكبرى:2/361،رقم:2702،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1418هـ .
[13] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/373،رقم:2520،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[14] تاريخ بغداد:1/333،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[15] الجرح والتعدیل:6/۳93،رقم:2191،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[16] التاريخ الصغير:2/225،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[17] معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم:2/16۰،رقم:1319،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مطبعة المدني ـ مصر .
[18] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/۱۳۵،رقم:1250،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[19] سؤالات أبي عبيد الآجري لأبي داود السجستاني:1/277،رقم:417،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي، مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[20] الجرح والتعدیل:6/۳93،رقم:2190،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[21] الجرح والتعدیل:6/۳93،رقم:2191،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[22] الجرح والتعدیل:۶/3۹۳،رقم:۲191،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[23] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:8/279،رقم:3343،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .
[24] إكمال تهذيب الكمال:9/3۹4،رقم:3903،ت:أبي عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱422هـ .
[25] المجروحين من المحدثين:۲/۱۹۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[26] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/۱۳۵،رقم:۱۲۵۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[27] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:53،رقم:377،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور،باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .
[28] المدخل إلى الصحيح:ص:1۸۳،رقم:۱۵۲،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[29] المسند المستخرج:ص:۱/75،رقم:173،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[30] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:355،رقم:972،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[31] البداية والنهاية:۱۰/۱۰۱،مكتبة المعارف ـ بيروت،الطبعةالثامنة1410هـ .
[32] تقريب التهذيب:ص:407،رقم:4826،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[33] اتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة:6/519،رقم:6911،ت:عبد القدوس محمد نذير، مجمع الملك فهد ـ المدينة المنوره،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .