اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبدالرحمن عبید بن اسحاق عطار کوفی، یقال لہ عطار المطلقات (المتوفی۲۱۴ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عباس دوریlفرماتے ہیں: ’’قلت ليحيى بن معين: هذه الأحاديث التي يحدث بها باطل؟ فقال لي: اتق الله ويحك! فقلت له: هي باطل‘‘[34]. میں نے یحیی بن معینl سے کہا: عبید عطار، جن احادیث کو بیان کرتا ہے، یہ باطل ہیں، یحیی بن معینl نے مجھ سے کہا: اللہ سے ڈرو، اللہ تم پر رحم کرے،(حافظ عباس دوریl فرماتے ہیں) میں نے کہا: یہ باطل ہیں۔
حافظ ابن عدیl نے ’’الكامل‘‘[35]میںاس حکایت کے آخر میں یہ اضافہ بھی کیا ہے: ’’فسكت‘‘. پھر یحیی بن معینl خاموش ہوگئے۔
حافظ یحیی بن معین lنے ایک مقام پر عبید بن اسحاق کو ’’ لا شيء‘‘ کہا ہے[36]۔
حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر عبید بن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، وكان صديقا لي‘‘. کذاب ہے، یہ میرا دوست تھا[37]۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[38]میں عبید بن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں:’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔
امام بخاری l نے ’’الضعفاء‘‘[39] میں اسے ’’ضعیف‘‘، اور’’التاريخ الصغير‘‘[40] میں’’منکرالحدیث‘‘ کہا ہے۔
امام مسلم l نے’’الكنى‘‘[41] میں اسے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو زرعہl نے عبید بن اسحاق کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[42]۔
حافظ ابو حاتم l ، عبید بن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ما رأينا إلا خيرا، وما كان بذاك الثبت، في حديثه [بعض ] الانكار‘‘[43]. ہم نے اس میں خیر ہی دیکھی ہے، یہ ’’ثبت‘‘نہیں تھا، اس کی حدیث میں کچھ انکار ہے۔
امام نسائیlنے ’’الضعفاء‘‘[44] میں عبید بن اسحاق کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن جارود l فرماتے ہیں: ’’يعرف بعطار المطلقات، والأحاديث التي يحدث بها باطلة‘‘[45]. اسے عطار مطلقات سے پہچانا جاتا ہے، اس کی بیان کردہ احادیث باطل ہیں۔
حافظ ازدیl نے عبید بن اسحاق کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے[46]۔
حافظ ابن حبانl نے ’’الثقات‘‘[47]میں عبید بن اسحاق کو ذکر کر کے ’’يغرب‘‘ کہا ہے۔
نیزحافظ ابن حبانl ہی’’المجروحین‘‘[48]میں عبید بن اسحاق کے بارے میں فر ماتے ہیں: ’’ ممن يروي عن الأثبات مالا يشبه حديث الثقات، لا يعجبني الاحتجاج بما انفرد من الأخبار‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اثبات کے انتساب سے ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جو ثقات کی احادیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، مجھے اس کی تفرد والی روایات سے احتجاج کرنا پسند نہیں ہے۔
حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[49] میں عبید بن اسحاق کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولعبيد غير ما ذكرت من الحديث، وعامة ما يرويه: إما أن يكون منكر الإسناد، أو منكر المتن‘‘. اور عبیدکی مذکورہ حدیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی اکثر روایات یا تو منکر الاسناد ہیں یا منکر المتن۔
حافظ ابن عدی lنے ’’الكامل‘‘[50] میں سعد بن طریف کے ترجمہ میں ایک حدیث تخریج کی، پھر فرماتے ہیں: ’’ولو لم يرو سعد غير هذا الحديث لحكم عليه بالضعف، على أن هذا الحديث لم يروه عنه إلا سيف، وعن سيف، عبيد بن إسحاق، وجميعا ضعيفان، فلا أدري البلاء منهما أو منه؟‘‘. اور اگر سعد نے اس کے علاوہ کوئی حدیث روایت نہ کی ہوتی تو بھی اس پر ضعف کا حکم لگتا، اس کے ساتھ ساتھ کہ اسے سعد سے صرف سیف نے روایت کیا ہے، اور سیف سے عبید بن اسحاق نے روایت کیا ہے، اور یہ تمام ضعیف ہیں، معلوم نہیں کہ بلاء اُن دونوں کی جانب سے ہے، یا اس کی جانب سے؟۔
امام دارقطنیl نے ’’ الضعفاء‘‘[51] میں عبید بن اسحاق عطار کو’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حزم ظاہری l ’’المحلى‘‘[52] میں ایک حدیث کے تحت عبید بن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يعرف بعطار المطلقات كوفي، يحدث بالباطل، ليس بشيء‘‘. اس کی معرفت عطار مطلقات سے ہے، کوفی ہے، باطل بیان کرتا ہے، لیس بشیء ہے۔
امام بیہقی l نے ’’شعب الإيمان‘‘[53] میں ایک روایت کے تحت عبید بن اسحاق کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[54] میں ایک روایت کے تحت عبید بن اسحاق کو ’’لین‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[55] میں عبید بن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه، ورضيه أبو حاتم‘‘. محدثین نے اسے ضعیف کہاہے، اور ابو حاتمl اس سے راضی تھے۔
نیز حافظ ذہبی lہی ’’تلخيص المستدرك‘‘[56] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:’’وعبيد ضعفه غير واحد، ومشاه أبو حاتم‘‘. اور عبید کو متعدد محدثین نے ضعیف کہاہے، اور ابو حاتم lنے اسے چلنے دیا ہے۔
اہم نوٹ: حافظ ابو حاتم lنے متعدد مقامات پر عبید بن اسحاق کی روایات کو ان کی وجہ
سے منکر قرار دیا ہے، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے، اس لئے حافظ ذہبی l کا مذکورہ قول
قابل نظر ہے، واللہ اعلم۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[57] میں ایک روایت کے تحت عبید بن اسحاق کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’الزهر النضر‘‘[58] اور ’’الإصابة‘‘[59] میں ایک حدیث کے تحت عبید بن اسحاق کو ’’متروك الحديث‘‘ اور’’نزهة الألباب‘‘[60] میں ’’أحد الضعفاء‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[34] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/288،رقم:1916، ت: عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[35] الكامل:۷/۵۲،رقم:۱۵۰۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[36] الجرح والتعدیل:۵/۴۰۱،رقم:۱۸۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[37] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:471،رقم:803 ،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[38] التاريخ الكبير:۲/۴۴۱،رقم:۱۴۳۷،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .
[39] الضعفاء الصغير:ص:۷۷،رقم:۲۲۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[40] التاریخ الصغير:2/305،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[41] الكنى والأسماء:1/528،رقم:2107،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[42] سؤالات البرذعي:ص:340،رقم:710،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[43] الجرح والتعدیل:۵/۴۰2،رقم:۱۸۵۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[44] الضعفاء والمتروكين للنسائي:ص:170،رقم:423،ت:بوران الضناوي،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰5هـ .
[45] انظر لسان الميزان:5/350،رقم:5048،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ . وكذا في لسان الميزان:4/118،رقم:240،دائرة المعارف النظامية الكائنة ـ حيدر آباد دكن، الطبعة الأولى ۱330هـ . بندہ کو حافظ ابن جارود l کا یہ قول دیگر مصادر میں نہیں مل سکا، واللہ اعلم۔
[46] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:۲/۱۵۹،رقم:2220،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[47] الثقات:۸/۴۳۱،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة۱۳۹۳هـ .
[48] المجروحين من المحدثين:2/176،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[49] الكامل في ضعفاء الرجال:۷/۵۳،رقم:1505،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[50] الكامل في الضعفاء:4/387،رقم:796،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[51] الضعفاء والمتروكين:ص:۳۰۷،رقم:۳۹۷،ت:موفق بن عبدالله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰4هـ .
[52] المحلى بالآثار:۱۰/۱۶۰،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1425هـ .
[53] شعب الإيمان:1۱/۱۳۶،رقم:۸۲۹۷ ،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1423هـ .
[54] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق: :۱/۳۳۲،رقم:۲۹۵،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .
[55] المغني في الضعفاء:۲/۳۳،رقم:۳۹۵۵،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[56] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:2/605،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت .
[57] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۸/۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربيي ـ بيروت .
[58] الزهر النضرفي حال الخضر:ص:104،رقم:83 ،ت:صلاح الدين مقبول أحمد،مجمع البحوث الإسلامية ـ دهلي،الطبعة الأولى1408هـ .
[59] الإصابة:۲/261،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[60] نزهة الألباب في الألقاب:2/29،رقم:1984،ت:عبد العزيز محمد بن صالح السديري،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .