اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)سند میں موجود راوی ابو سعید سعد بن سعید جرجانی یلقب سَعْدَوَیہْ کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عقیلی l ’’ضعفاء الکبیر‘‘ [8] میں امام بخاری l کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’عن نهشل، ولا يصح حديثه‘‘ . یہ نہشل سے حدیث نقل کرتا ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔
حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:
’’وهذه الأحاديث التي ذكرتها لسعد بن سعيد، عن الثوري وعن غيره مما ينفرد فيها سعد عنهم، وقد صحب سعد الثوري بجرجان في بلده، روى عنه غرائب، وسأله عن مسائل كثيرة، فتلك المسائل معروفة عنه، ولسعد غير ما ذكرت من الحديث غرائب وأفراد غريبة تروى عنهم، وكان رجلا صالحا، ولم تؤت أحاديثه التي لم يتابع عليها من تعمد منه فيها، أو ضعف في نفسه ورواياته، إلا لغفلة كانت تدخل عليه، وهكذا الصالحين [كذا فيه] .
ولم أر للمتقدمين فيه كلاما لأنهم كانوا غافلين عنه، وهو من أهل بلدنا، ونحن أعرف به‘‘[9].
اور یہ احادیث جن کو میں نے سعد بن سعید عن الثوری وعن غیرہ کے طریق سے ذکر کیا ہے، یہ ان احادیث میں سے ہیں جن میں سعد ان لوگوں سے روایت لینے میں متفرد ہے، اور سعد نے ثوری کی اپنے شہر جرجان میں مصاحبت اختیار کی ہے، اور ان سے غرائب نقل کی ہیں، اور ان سے بہت سارے مسائل پوچھے ہیں، اور یہ مسائل ان سے معروف ہیں، اور جو میں نے غریب حدیثیں ذکر کی ہیں ، ان کے علاوہ بھی سعد کی غریب حدیثیں افراد غریبہ ہیں جو ان محدثین سے روایت کی جاتی ہیں، اور وہ نیک آدمی تھا، اس کی جن حدیثوں میں کسی دوسرے نے ان کی متابعت نہیں کی ہے، نہ تو یہ جان بوجھ کر اسے لائے ہیں، اور نہ ان میں اور ان کی روایات میں ضعف ہے، اس کی وجہ صرف غفلت ہے، جو ان میں داخل تھی، اور صالحین اسی طرح ہوتے ہیں ۔
اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کوئی کلام نہیں دیکھا، کیونکہ کہ وہ اس سے غافل تھے، اور وہ ہمارے شہر والوں میں سے ہے، ہم اس کو زیادہ جانتے ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘[10] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[11] میں حافظ ابن عدی کے کلام پر اکتفاء کیا ہے ۔
نیز حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال ‘‘ [12] میں سعد بن سعید جرجانی کے ترجمہ میں حافظ ابن عدی l کی تخریج کردہ روایت : ’’أيها الشاب التارك ...‘‘ . بطریق سعد بن سعید جرجانی عن ثوری بہ نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’فهذا موضوع على سفيان ‘‘ .یہ حدیث سفیان پر گھڑی گئی ہے۔
اسی سعد بن سعید جرجانی کے بارے میں حافظ ابن حجر l نے حافظ عقیلی l کا کلام نقل کیا ہے، اور یہ بھی کہا ہے: ’’وذكره أبو نعيم في رجال يُعْدَل عن تفردهم وقلة إتقانهم ‘‘[13]. ابو نعیم l نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے جن سے ان کے تفرد اور اتقان کی کمی کی بناء پر انحراف کیا جاتا ہے۔
حوالہ جات
[8] ضعفاء الكبير:۲/۱۱۸،رقم:۵۹۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴ هـ .
[9] الكامل في ضعفاء:۴/ ۳۹۸،رقم:۸۰۰ ،ت: عادل أحمدعبدالموجود وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .
[10] ميزان الاعتدال:۲/۱۱۴،رقم:۲۹۶۷،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۰ هـ .
[11] لسان الميزان:۴/۲۹،رقم:۳۳۷۹،ت:عبدالفتاح أبو غدة،دارالبشائرالإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳ هـ .
[12] ميزان الاعتدال:۲/۱۱۴،رقم:۲۹۶۷،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۰ هـ .
[13] لسان الميزان:۴/ ۲۹،رقم:۳۳۷۹،ت:عبدالفتاح أبو غدة،دارالبشائرالإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳ هـ .