التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوالقاسم زید بن عبداللہ بن مسعود ہاشمی ویقال ابو الخیر ابن رِفاعہ

ایک روایت میں تذکرہ

ابوالقاسم زید بن عبداللہ بن مسعود ہاشمی ویقال ابو الخیر ابن رِفاعہ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابوالقاسم زید بن عبداللہ بن مسعود ہاشمی ویقال ابو الخیر ابن رِفاعہ کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l فرماتے ہیں: ’’کان کذابا ‘‘ [3]. یہ جھوٹا تھا۔

حافظ خطیب بغدادی l مزید فرماتے ہیں : ’’سمعت أباالقاسم هبة الله بن الحسن الطَبَرِي ذكر زيد بن رِفاعة، فقال: رأيته بالري، وأساء القول فيه‘‘ .

میں نے ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن حسن طَبَرِی سے سنا ہے زید بن رِفاعہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس کو رَی میں دیکھا ہے، اور پھر اس کے بارے میں انھوں نے بُرا قول اختیار کیا۔

حافظ خطیب بغدادی l ہی لکھتے ہیں: ’’سمعت القاضي أبا القاسم التَنُوخِي ذكر زيد بن رِفاعة، فقال: أعرفه، وكان يتولى العمالة لمحمد بن عمر العَلَوِي على بعض النواحي، ولم نعرفه بشيء من العلم ولا سماع الحديث، وكان يذكر لنا عنه أنه يذهب مذهب الفلاسفة، قلت له: أكان هاشميا؟ فقال معاذ الله! ما عرفناه بذلك قط أو كما قال‘‘ .

     میں نے قاضی ابوالقاسم تَنُوخِی سے زید بن رِفاعہ کے تذکرہ میں سنا کہ میں اسے جانتا ہوں ،یہ ایک جگہ محمد بن عمر عَلَوِی کے مزدوروں کا متولی تھا، اور ہم نے اس میں ذرہ برابر علم و سماعِ حدیث کو نہیں جانا ، اور اس کے بارے میں ہمیں ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ فلاسفہ کا مذہب رکھتا تھا، (خطیب بغدادی l فرماتے ہیں کہ) میں نے ابو القاسم تَنُوخِی سے کہا کہ کیا وہ ہاشمی تھا؟ تو ابو القاسم تَنُوخِی نے جواب میں کہا کہ ہم نے کبھی بھی اسے ہاشمی ہونے کی حیثیت سے نہیں پہچانا، یا اس جیسی بات ابو القاسم نے کہی ۔

حافظ ذہبی l کا کلام

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں:

’’اتُّهم بوضع أربعين في الآداب‘‘.یہ ’’آداب‘‘میں چہل حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

حافظ ذہبی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

 ’’أبو الخير معروف بوضع الحديث على فلسفة فيه، أخذ عن ابن دُرَيْد وابن الأنباري، قال الخطيب: كذاب، وقال اللاَّلِكَائي: رأيته بالرَي، قلت: له أربعون موضوعة، سرقها منه ابن وَدْعَان‘‘[4].

ابو الخیر وضع حدیث میں معروف ہے، اور ساتھ ساتھ فلسفی بھی ہے،ابن دُرَیْد اور ابن انباری سے اس نے روایات لی ہیں، خطیبl فرماتے ہیں: یہ کذاب ہے، لَالِکَائی l فرماتے ہیں: میں نے اسے رَی میں دیکھا ہے، میں (حافظ ذہبیl )کہتاہوں: اس نے چالیس حدیثیں گھڑی ہوئی ہیں،جن احادیث کو اس سے ابن وَدْعَان نے سرقہ کیا ہے۔

حافظ ذہبی l ایک تیسرے مقام پر محمد بن علی بن وَدْعَان کے ترجمہ کے تحت فرماتے ہیں:

’’وابن رِفاعة وضعها أيضا، ولفق كلمات من رقائق الحكماء ومن قول لقمان‘‘[5]. ابن رِفاعہ نے بھی چہل حدیث کو گھڑا ہے، اوراس نے حکماء کی باریک باتوں نیز حضرت لقمان کے اقوال سے کلمات لے کر احادیث کے ساتھ جوڑدیا ہے ۔

حوالہ جات

[3] تاريخ بغداد:۹/۴۶۰،رقم:۴۵۱۷،ت:دکتوربشارعوّاد،دارالغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲ هـ .

[4] ميزان الاعتدال:۲/۹۶،رقم:۲۸۶۹،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۰ هـ .

[5] ميزان الاعتدال:۴/۲۱۴،رقم:۷۵۲۵،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العالميةـبيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۰ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ