التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو حفص عمر بن موسی بن وجیہ شامی انصاری وجیہی حمصی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو حفص عمر بن موسی بن وجیہ شامی انصاری وجیہی حمصی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو حفص عمر بن موسی بن وجیہ شامی انصاری وجیہی حمصی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن صالح l فرماتے ہیں: ’’قال إسماعيل بن عياش لعمر بن موسى الوجيهى: أي سنة سمعت من خالد بن معدان؟ قال سنة ثمان ومائة، قلت: فانت سمعت منه بعد ما مات بأربع سنين، قلت: واين سمعت منه؟ قال بأرْمِيْنِيَة وآذربِيْجَان، قلت: إنهما لثغران ما دخلهما قط‘‘[4]. اسماعیل بن عیاش نے عمر بن موسی وجیہی سے پوچھا: آپ نے خالد بن معدان سے کس سن میں سماعت کی؟ وجیہی نے کہا: ایک سو آٹھ میں، میں نے کہا: پھر تو آپ نے اس سے مرنے کے چار سال بعد سنا ہے، پھر میں نے کہا: آپ نے کہاں ان سے سنا؟ وجیہی نے کہا: اَرْمینیہ اور آذر بِیْجَان میں، میں نے کہا: یہ دونوں سرحد ہیں، ان میں خالد بن معدان کبھی داخل نہیں ہوئے۔

حافظ یحیی بن معین  lنے عمر بن موسی وجیہی کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[5]۔

حافظ یحیی بن معین  lایک مقام پر وجیہی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس حديثه بشيء‘‘[6]. اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین  lنے ایک دوسرے مقام پر عمر بن موسی وجیہی کو ’’كذاب،,ليس بشيء‘‘ کہا ہے[7]۔

امام بخاری  lنے’’التاريخ الكبير‘‘[8] میں عمر بن موسی کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[9] میں عمر بن موسی وجیہی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سمعتهم يذمون حديثه‘‘. میں محدثین سے سنا وہ اس کی حدیث کی مذمت کرتے تھے۔

حافظ یعقوب بن سفیان فسویl ’’المعرفة‘‘[10]میں فرماتے ہیں: ’’يعرف وينكر‘‘.

امام ابو داؤد l وجیہی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، يروي عن قتادة، وسماك مناكير‘‘[11]. لیس بشیء ہے، قتادہ اور سماک کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

حافظ ابوحاتم  lفرماتے ہیں: ’’متروک الحدیث، ذاهب الحدیث، كان يضع الحديث‘‘[12]. یہ متروک الحدیث، ذاہب الحدیث ہے، یہ حدیث گھڑتا تھا۔

علامہ سبط ابن عجمی l نے’’الكشف الحثيث‘‘[13] میں حافظ ابو حاتم  l کے قول پر اکتفاء کرتے ہوئے عمر بن موسی کو وضاعین میں شمار کیا ہے۔

امام ابوبکر بزار  lفرماتے ہیں: ’’وعمر بن موسى لين الحديث، وإنما يكتب من حديثه ما يتفرد به‘‘[14].عمر بن موسی لین الحدیث ہے، اور جن احادیث میں یہ متفرد ہو، انہیں لکھا جائے گا۔

امام نسائی l نے’’الضعفاء‘‘[15] میں عمر بن موسی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’ المجروحين‘‘[16] میں فرماتے ہیں:’’ كان ممن يروي المناكير عن المشاهير، فلما كثر في روايته عن الثقات ما لا يشبه حديث الأثبات، حتى خرج عن حد العدالة إلى الجرح، فاستحق الترك‘‘.

یہ ان راویوں میں سے ہے جو مشاہیر کے انتساب سے مناکیر روایت کرتے ہیں، جب اس کی روایات میں ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی احادیث کی کثرت ہوگئی جو ثبت راویوں کی احادیث کے مشابہہ نہیں تھیں تو یہ عدالت کی حد سے نکل کر جرح کی حد میں داخل ہوگیا، چنانچہ یہ ترک کا مستحق ہوگیا۔

حافظ ابن عدی  l’’الكامل‘‘[17] میں وجیہی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو بين الأمر في الضعفاء، وهو في عداد من يضع الحديث متنا وإسنادا‘‘. اور اس کا ضعفاء میں شمار ہونا ایک واضح بات ہے، اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو سند و متن کے اعتبار سے حدیث گھڑتے ہیں۔

امام دارقطنی  l نے عمر بن موسی کو’’متروك‘‘کہا ہے[18]۔

امام بیہقی  l’’السنن‘‘[19] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعمر بن موسى متروك، منسوب إلى الوضع‘‘. عمر بن موسی متروک ہے، اور حدیث گھڑنے کی جانب منسوب ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[20] میں عمر بن موسی وجیہی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الوسطى‘‘[21] میں عمر بن موسی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخیص الموضوعات‘‘میں ایک روایت کے تحت وجیہی کو ایک مقام پر ’’متهم‘‘[22] اور دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[23] کہا ہے۔

حافظ علائی l نے ’’النقد الصحيح‘‘[24] میں عمر بن موسی وجیہی کو ’’كذاب، منكر الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ عراقی l نے ’’المغني‘‘[25]  میں ایک روایت کے تحت وجیہی کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘میں ایک روایت کے تحت وجیہی کو ایک مقام پر ’’وضاع‘‘[26] اور دوسرے مقام پر ’’ كذاب‘‘[27] کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی lنے وجیہی کو ’’إتحاف المهرة‘‘[28] میں ’’متروك‘‘، ’’التلخيص الحبير‘‘[29] میں ’’ضعیف جدا‘‘ اور ’’الدراية‘‘[30] میں ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[31] میں عمر بن موسی وجیہی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: يروي الموضوعات، وقال ابن عدي: يضع الحديث إسنادا ومتنا‘‘. ابن حبان l فرماتے ہیں:من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں کہ اسناد اور متن کے اعتبار سے حدیث گھڑتا ہے۔

حوالہ جات

[4] انظرالجرح والتعدیل:6/133،رقم:727،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[5] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/۳۲۶،رقم:۵۰۹۱،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[6] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/۳40،رقم:۵200،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[7] سؤالات ابن الجنيد:ص:400،رقم:535،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1408هـ .

[8] التاريخ الكبير:6/49،رقم:۸۲۲۸،ت:مصطفى عبدالقادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالثانية 1429هـ .

[9] أحوال الرجال:ص:۲۹۵،رقم:۳۱۵،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، الطبعة الأولى1411هـ .

[10] المعرفة والتاريخ:3/۱۴۰،ت:أكرم ضياءالعمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[11] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:۱۶۳،رقم:۱۵۲،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1399هـ .

[12] الجرح والتعديل:6/133،رقم:727،دارالكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعةالأولى۱۳۷۲هـ .

[13] الكشف الحثيث:ص:199،رقم:557،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۷هـ .

[14] مسند البزار:10/426،رقم:4577،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1424هـ .

[15] الضعفاء والمتروکین:ص:189،رقم:487،ت:کمال یوسف الحوت،مؤسسة الکتب الثقافية ـ بيروت، الطبعةالأولى۱۴۰۵هـ .

[16] المجروحين:۲/۸۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .

[17] الكامل في ضعفاء الرجال:6/23،رقم:1187،ت:عادل أحمد عبد الموجود  وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[18] میزان الاعتدال:3/225،رقم:6222،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[19] السنن الكبرى:1/349،رقم:1082،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .

[20] ذخيرة الحفاظ:ص:889،رقم:1802،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى1416هـ .

[21] الأحكام الوسطى من حديث النبي صلى الله عليه وسلم:4/122،ت:حمدي عبد المجيد السلفي وصبحي  السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة 1416هـ .

[22] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:226،رقم:567،ت:أبو تميم یاسر بن إبراهیم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۱۹ هـ .

[23] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:260،رقم:687،ت:أبو تميم یاسر بن إبراهیم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۱۹ هـ .

[24] النقد الصحيح:ص:39،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1405هـ .

[25] المغني عن حمل الأسفار:ص:۸۰۵،رقم:۲۹۴۸،ت:أبومحمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[26] مجمع الزوائد:۵/۱35،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت  .

[27] مجمع الزوائد:8/49،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت  .

[28] إتحاف المهرة:۱۵/۴۹۴،رقم:۱۹۷۵۶،ت:زهير بن ناصر الناصر،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1415هـ .

[29] تلخيص الحبير:۲/۴۵۶،رقم:925،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى 1419هـ .

[30] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:1/273،رقم:356،ت:عبدالله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .

[31] تنزيه الشريعة:۱/92،رقم:386،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ