اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن دو شخص اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم کس وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہوئے ہیں، جبکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ ہمیں جنت کی اجازت دیں؟ اللہ تعالی فرمائیں گے: میرے بندو داخل ہوجاؤ، میں نے قسم کھائی ہے کہ احمد ومحمد نام کا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند موجود راوی ابو بکر احمد بن نصر بن عبد اللہ بن فتح ذراع نہروانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ دراقطنیl فرماتے ہیں :’’كذاب، دجال‘‘[10].یہ کذاب، دجال ہے۔
حافظ ابن جوزیl ’’الموضوعات‘‘[11] میں ایک حدیث کے تحت ذراع کے بارے میں فرماتے ہیں :’’ كان كذابا، يضع الحديث‘‘.وہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’وفي حديثه نكرة تدل على أنه ليس بثقة‘‘. اس کی حدیث میں نکارت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔
نیز حافظ خطیب بغدادیl نے ’’تاريخ بغداد‘‘[13] میں ایک دوسرے مقام پر احمد بن عبد اللہ کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl’’ميزان الاعتدال‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’فأتى بمناكير تدل على أنه ليس بثقة‘‘. یہ ایسی مناکیر لاتا ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[15] میں فرماتے ہیں:’’وضاع مفتر‘‘. یہ روایات گھڑنے والااور افتراء باز ہے۔
حافظ ذہبیl’’تاريخ الإسلام‘‘[16] میں فرماتے ہیں:’’وهو متهم، يأتي بالطامات، فليحذر منه‘‘. متہم ہے، طامات لاتا ہے، اس سے بچو۔
نیز حافظ ذہبیl نے ایک مقام پر اسے ’’ كذاب، وضاع، دُجَيْجِيْل‘‘ کہا ہے[17]۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl ’’توضيح المشتبة‘‘[18] میں فرماتے ہیں:’’روى عن الحارث بن أبي أسامة وطبقته أباطيل‘‘. یہ حارث بن ابی اسامہ اور ان کے طبقہ کے روات کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’الإصابة‘‘[19] میں فرماتے ہیں:’’أحد الكذابين‘‘. جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[20] میں احمد بن نصر کو متہم بالوضع راویوں میں شمار کرکے مختلف ائمہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[21] میں احمد بن نصر ذراع کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الدارقطني: دجال‘‘. دار قطنی l فرماتے ہیں کہ یہ دجال ہے۔
حوالہ جات
[10] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:1/91،رقم:266،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .
[11] الموضوعات:۱/۳۴۲،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفيةـ المدينة المنورة،الطبعة الأولی۱۳۸۶هـ .
[12] تاريخ بغداد:۶/۴۱۲،رقم:۲۹۰۲،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[13] تاريخ بغداد:۹/261،رقم:4365،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[14] ميزان الاعتدال:۱/ ۱۶۱،رقم:۶۴۴، ت:على البجاوي،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۳۸۲هـ .
[15] المغني في الضعفاء:۱/۹۷،رقم:۴۷۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[16] تاریخ الإسلام:8/237،رقم:147،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[17] انظر توضيح المشتبة:4/72،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[18] توضيح المشتبة:4/72،ت:محمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .
[19] الإصابة:۲/۱۸۵،رقم:۲۱۲۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[20] الكشف الحثيث:ص:۶۰،رقم:۱۱۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[21] تنزيه الشريعة:1/۳۵،رقم:۲۳۴،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .